• صارفین کی تعداد :
  • 3014
  • 2/14/2015
  • تاريخ :

پروین اعتصامی کی بیماری اور موت

پروین اعتصامی

 

پروین اعتصامی کی بیماری اور موت
پروین اعتصامی نے اپنی زندگی میں بہت سارے اعلی  اعزاز حاصل کیۓ  لیکن عین اس وقت جب ان کا بھائی  ابوالفتح اعتصامی ، ان کے دیوان کو دوسری مرتبہ چھپوانے کی غرض سے تیار کر رہا تھا تب فروردین مہینے کے تیسرے دن ، سن 1320 ہجری شمسی کو بیمار پڑ گئیں ۔ ڈاکٹروں نے ان کی بیماری کا علاج کرنے کی پوری کوشش کی مگر سولہ فروردین سن 1320 ہجری شمسی  کو آدھی رات کے وقت وہ اللہ کو پیاری  ہو گئیں ۔
ان کو حضرت بی بی معصومہ (س) کے مزار کے قریب ان کے خاندانی قبرستان میں دفنایا گيا ۔ ان کی موت کے بعد ان کا ایک قطعہ ملا جو معلوم نہیں کہ کب انہوں نے اپنی قبر کے پتھر کے لیۓ لکھا تھا ۔ شعرکے اس قطعہ کو ان کی قبر پر نقش کر دیا گیا ۔ لوگوں کے دلوں میں ان کا یہ قطعہ آج بھی نقش ہے ۔
ایران کے مختلف شعراء نے مختلف الفاظ میں ان کو یاد کیا ہے ۔
مهدی اخوان ثالث:
ان کے محبوب  اور عزیز ہونے کی وجہ میں صرف اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ انہوں نے اتنی زیادہ تعداد میں شعر کہے مگر صرف ایک دو جگہیں ایسی ہیں کہ جہاں انہوں نے اپنے بارے میں بات کی ہے ۔ ان جگہوں پر بھی انہوں نے بڑے عامیانہ مسائل کو بیان کرتے ہوۓ اپنا ذکر کیا ہے ۔
ملک‌الشعراء بهار:
پروین اعتصامی کا دیوان دو سبک شعری اور شیوہ لفظی و معنوی  کا مرکب ہے ۔ ان میں سے ایک سبک  شعرای خراسان ہے ، استاد ناصر خسرو کا مخصوص انداز اور دوسرا شیوہ شعرا ی عراق و فارس جن میں شیخ مصلح الدین سعدی شامل  ہیں ۔ معنوی لحاظ سے ان کی شاعری میں حکماء اور عرفا کے خیالات پاۓ جاتے ہیں ۔  پروین کے پاس یہ ہنر ہے کہ وہ سب کی زبان سے بات کرتی ہیں ۔

نادرنادرپور:
پروین کی شاعری  " بافت کلام " اور  " دید شاعرانہ " کے لحاظ سے قدیم طرز سے جدید طرز تک تھی لیکن ان میں مضامین اور موضوعات تازہ تھے ۔

 

شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان
 

متعلقہ تحریریں:

فارسي زبان کي تاريخ

قديم ايراني زبان