• صارفین کی تعداد :
  • 1996
  • 1/17/2015
  • تاريخ :

پروين اعتصامي

پروین اعتصامی

سن 1906 - 1941 پروين يوسف نام، اعتصام الملک کي لڑکي تھي- چونکہ خاندان علم وفضل سے بہرہ اور شعر و شاعري کا دلدادہ تھا، اس نے بچپن ہي سے شعر کہنا شروع کيا اور بہت جلد شاعرہ کي حيثيت سے شہرت حاصل کر لي- اُس نے صرف 35 سال کي عمر پائي اور جواني ميں 1941 ميں تہران ميں انتقال کيا- اُس کي نعش قم لے جائي گئي اور والد کے پہلو ميں دفن کي گئي- اس کي شادي برادر عم زاد سے ہوئي تھي ليکن کامياب نہيں رہي-

اس کا ديوان قصائد، قطعات، مثنوي اور غزلوں پر مشتمل ہے- سادہ اسلوب کي بنا پر نہيں سبک خراساني کا پيرو سمجھا جاتا ہے- اگرچہ ان کے انداز بيان ميں سبک عراقي کي جھلکياں بھي دکھائي ديتي ہيںَ بہرحال کلاسيکي قوالب کے استعمال ميں انھوں نے استدانہ مہارت دکھائي ہے- اس نے اپنے قطعات تنقيدي، معاشرتي اور ناصحانہ موضوعات پر لکھے ہيں- رنج و غم کے نازک احساسات اس کے کلام ميں ملتے ہيں- ملک الشعرا، بہار مشہدي کي، ان کے قطعات کے متعلق يہ رائے ہے کہ اس کے قطعات ديوان کي روح ہيں- ان ميں لطف بيان بھي ہے اور معنوي نکات بھي- وہ اپنے دور کي سب سے بڑي شاعرہ ہے اور جديد فارسي شعرا ميں اسے ايک خاص مقام حاصل ہے-

اگرچہ پروين اعتصامي کلاسيکي اسلوب و قواليب سے کبھي دور نہيں ہو پائيں ليکن اس کے باوجود انھوں نے سادہ زبان ميں شعر کہے جو عام لوگوں کے ليے قابل فہم ہيں- اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے ترقي پسند تحريک کا بھي ساتھ ديا- ان کي کوشش تھي کہ ادبي زبان کو عاميانہ زبان سے قريب لايا جائے تاکہ ادبي اور عوام کے درميان پايا جانے والا فاصلہ کم ہو جائے- بلاشبہ پروين نے اپنے افکار کو بيان کرنے سے پہلے طويل عرصہ غور و فکر اور سوچ بچار ميں صرف کيا تاکہ وہ اپنے افکار و خيالات کو منفرد اور مسجم انداز ميں پيش کر سکے- ان کي غير معمولي مہارت کے سبب بعض افراد ان کي شاعري کو کسي مرد کي تخليق خيال کرتے رہے- چونکہ ان کے گمان ميں کوئي ايراني شاعرہ اس قدر پختہ انداز ميں شعر کہنے کي استعداد نہيں رکھتي- البتہ پروين نے ان شکوک و شبہات کو دور کرنے کے ليے شاعري ميں اپنے عورت ہونے کا برملا اظہار کيا-

مرد پندارد پروين را ، چہ برخي ز اہل فضل

اين معما گفتہ نيکو تر ، کہ پروين مرد نيست


متعلقہ تحریریں:

شيخ کي تعليم کا حال

ناصر خسرو کا سفرنامہ