• صارفین کی تعداد :
  • 4234
  • 9/2/2014
  • تاريخ :

علمي اور ديني حوزات کي ترويج ميں امام رضا (ع) کا کردار(حصّه ششم)

علمی اور دینی حوزات کی ترویج میں امام رضا (ع) کا کردار(حصّه ششم)

آپ (ع) کي بعض کاوشيں:

1- صحيفة الرضا،(ع): يہ کتاب ان احاديث پر مشتمل ہے جو آپ (ع) نے اپنے والد ماجد امام موسي کاظم (ع) سے اور امام کاظم (ع) نے اپنے آباء و اجداد طيبين سے نقل کيا اور ان حديثوں کا سلسلۂ سند اميرالمۆمنين (ع) تک جاپہنچتا ہے اور علي (ع) نے يہ حديثيں رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم سے نقل فرمائي ہيں اور فضل بن حسن طبرسي نے يہ حديثين محفوظ کرلي ہيں-

2- طب الرضا يا رسالة الذہبية: مأمون نے امام (ع) سے درخواست کي تھي کہ اپنے اور اپني آباء و اجداد کے علم و دانش کي روشني ميں اس کو کھانے اور پينے کے سلسلے ميں ہدايات ديں تا کہ اس کے جسم ميں تمام قوتيں محفوظ رہيں اور بيماريوں اور کمزوريوں سے بچا رہے- امام (ع) نے ايک مفصل خط کے ضمن ميں صحت کے سلسلے ميں صحيح احکام، مختلف النوع غذاۆں کي خصوصيات، ضروري مشروبات، اور ان کا صحيح وقت استعمال بيان فرمايا، امام نے اس رسالے ميں مزاج کے اعتدال اور جسماني خصوصيات و جزئيات کے بارے ميں تمام امور بيان فرمائے، اور مأمون پر اس خط کو ديکھنے کے بعد وجد و ہيجان کي کيفيت طارے ہوئي اور اس نے حکم ديا کہ امام کے مکتوب کو سنہري حروف سے تحرير کيا جائے اور اس کے اس حکم کي فوري تعميل ہوئي اور يہ خط «رسالة الذہبية» کے نام سے مشہور ہوا- امام (ع) نے 201 ہجري ميں يہ خط مأمون کے لئے لکھا اور اس زمانے تک طبّ علمي صورت نہيں اپنا سکا تھا اور تجربات اور مسلسل معالجات کي بنا پر طبي معالجات کا اہتمام ہوتا تھا جس ميں علمي و سائنسي دريافتوں کا کوئي کردار نہ تھا- اس زمانے ميں جراثيم دريافت نہيں ہوئے تھے؛ ويٹامنز کے بارے ميں آگہي نہ تھي اور جراثيموں کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئي اہم سائنسي دريافت نہيں ہوئي تھي-(8) اور امام (ع) نے اس خط کے ذريعے معاشرے کو تحقيق اور جستجو کي راہ دکھائي اور نہ صرف امام (ع) کا يہ اقدام اسلامي تہذيب کي باليدگي کا باعث ہوا بلکہ امام (ع) کے خط نے علم اور دين کے درميان ربط و تعلق کي موجودگي کا بھي اثبات کيا-

امام رضا (ع) کے علمي دورے اور مناظرات

امام رضا (ع) کا دور نہايت حساس دور تھا؛ کيونکہ فکري انحراف کے عوامل اپنے عروج پر تھے- ان انحرافات کا سبب يہ تھا کہ اجنبي دنيا سے علوم و فنون خام صورت ميں اسلامي معاشرے ميں داخل ہوئے تھے اور ان کا تصفيہ نہيں ہوا تھا اور دوسري طرف سے عباسي سلطنت نے بيروني افکار کي درآمد کي جو اجازت دي تھي اس کے لئے حدود کا تعين نہيں ہوا تھا- اسي وجہ سے امام (ع) مجبور ہوئے کہ دين خداوند کي محافظ اور شرک و الحاد سے امت اسلامي کي نجات دہندہ کے عنوان سے ضروري اقدامات کريں- امام (ع) نے اجنبي افکار کے فروغ کے مراکز يعني کوفہ اور بصرہ کے دورے کئے اور الحادي افکار کے بانيوں اور حاميوں کے ساتھ مناظرے کئے اور جب وليعہد ہوئے تو آپ (ع) کو ان مکاتب کے دانشوروں کے ساتھ مناظرات کے مواقع سے بھرپور استفادہ کيا اور دين اور ہدايت انسان کے لئے خاتم الانبياء صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي لائي ہوئي شريعت کي تبليغ فرمائي-

اس سلسلے ميں آپ (ع) نے مختلف اديان و فِرَق کے ساتھ بھي مناظرے کئے، البتہ يہ سلسلہ وليعہدي سے پہلے بھي جاري رہا تھا اور وليعہدي کے دور ميں بھي جاري رہا- امام (ع) کا طرز مناظرہ اس دور کي دنيا ميں شہرت خاصہ سے بہرہ مند تھا- آپ (ع) کے استدلالات عقل و منطق پر استوار تھے؛ ان مناظرات ميں امام (ع) دين اور ديني اصول و فروع کا دفاع کيا کرتے تھے؛ جن کے لئے مختلف شعبوں اور مختلف مضامين و موضوعات ميں حصول علم کي ضرورت ہوتي ہے اور امام کے يہ سارے اقدامات اور کارنامے ثابت کرتے ہيں کہ آپ (ع) کي علمي سيرت ميں علم اور دين کے درميان مکمل ہماہنگي پائي جاتي ہے-

حوالے جات:

8- امام رضا (ع) کي حالات زندگي کا ايک تجزيہ، محمد جواد فضل اللہ ، ترجمہ سيد محمد صادق عارف، ص161


متعلقہ تحریریں:

معرفت، اخلاص کے بغير ميسر نہيں ہوتي

امام جواد عليہ السلام نے والد گرامي کو غسل ديا