• صارفین کی تعداد :
  • 3028
  • 1/1/2014
  • تاريخ :

امام جواد عليہ السلام نے والد گرامي کو غسل ديا

امام جواد علیہ السلام نے والد گرامی کو غسل دیا

شہادت امام رضا عليہ السلام کے اہم نکات (حصّہ اوّل)

امام رضا عليہ السلام کو انگور دے کر شہيد کيا گيا (حصّہ دوّم)

ابوصلت کہتے ہيں:

امام جواد عليہ السلام نے فرمايا: اے اباصلت! اس خزانے (يا گودام ) کے اندر جاۆ اور غسل کے لوازمات اور پاني لاۆ-

ميں نے عرض کيا: وہاں اس قسم کے لوازمات نہيں ہيں-

امام (ع) نے فرمايا: جو کہتا ہوں وہي کرو-

ميں خزانے کے اندر داخل ہوا اور ديکھا کہ سارے لوازمات حاضر ہيں- ميں ان اشياء کو اٹھا کر لايا اور اپنا دامن کمر تک چڑھا کر باندھ ليا تا کہ امام (ع) کے غسل ميں شرکت کروں-

امام (ع) نے فرمايا: اے ابا صلت! ہٹ جاۆ کيونکہ جو غسل ميں ميري مدد کرے گا وہ تمہارے سوا کوئي اور ہے- اس کے بعد امام جواد عليہ السلام نے امام رضا عليہ السلام کے جسم اطہر کو غسل ديا-

اس کے بعد فرمايا: خزانے ميں رکھي ہوئي زنبيل ميں سے کفن اور حنوط کا سامان لاۆ-

ميں خزانے ميں داخل ہوا اور ايک زنبيل رکھي ہوئي پائي جو اس وقت تک مجھے نظر نہيں آئي تھي؛ اور کفن و حنوط و کافور اٹھا کر لايا-

امام جواد عليہ السلام نے والد ماجد کو کفن ديا اور آپ (ع) پر نماز پڑھي اور فرمايا: تابوت لاۆ-

ميں نے عرض کيا: تابوت نجار کي دکان سے لاۆں؟

فرمايا: خزانے ميں تابوت موجود ہے-

ميں اندر گيا اور وہاں سے تابوت باہر لايا-

امام جواد عليہ السلام نے والد کا جسم اطہر تابوت ميں رکھا اور خود نماز کے لئے کھڑے ہوگئے-

تابوت آسمانوں کي جانب پرواز کرگيا

ابوصلت ہروي کہتے ہيں:

ابھي امام جواد عليہ السلام کي نماز ختم نہيں ہوئي تھي کہ ميں نے ديکھا گھر کي چھت ميں شگاف پڑ گيا اور تابوت اس شگاف سے نکل کر آسمان کي جانب پرواز کرگيا-

ميں نے امام (ع) سے عرض کيا: يابن رسول اللہ (ص)! ابھي مامون آئے گا اور پوچھے گا کہ امام رضا عليہ السلام کا جسم اطہر کہاں ہے؟

فرمايا:  پرواز تابوت به سوي آسمان

هنوز نمازش تمام نشده بود که ناگهان ديدم سقف شکافته شد و تابوت از آن شکاف به طرف آسمان رفت. گفتم:« يا ابن رسول الله! الان مأمون مي آيد و مي گويد بدن مبارک حضرت رضا چه شد؟»

فرمود: فکرمندي کي کوئي بات نہيں! امام کا جسم اطہر ابھي واپس لوٹ کر آتا ہے- اے ابا صلت! کوئي بھي پيغمبر شرق و غرب عالم ميں دنيا سے رخصت نہيں ہوتا مگر يہ کہ اللہ تعالي اس کي اور اس کے وصي کي روح و جسم کو ايک دوسرے سے ملا ديتا ہے- خواہ اس کا وصي غربِ عالم ميں ہي دنيا سے رخصت کيوں نہ ہوا ہو-

اسي اثناء ميں چھت ميں ايک بار پھر شگاف پڑ گيا اور تابوت اپني جگہ لوٹ کر آيا-

اس کے بعد امام جواد عليہ السلام نے والد ماجد کا جسم اطہر تابوت سے نکال کر پہلے کي سي حالت ميں بستر ميں قرار ديا- گويا نہ تو اس کو غسل ديا گيا ہے اور نہ ہي اس کي تکفين ہوئي ہے-

اس کے بعد امام جواد عليہ السلام نے فرمايا: اے ابا صلت! اٹھو اور مامون کے لئے دروازہ کھولو-

( جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

امام رضا (ع) کي دعائيں لوگوں کي تعريف يا مذمت ميں (حصّہ سوّم)

امام علي رضا (ع)  کي دعائيں لوگوں کي تعريف يا مذمت ميں