• صارفین کی تعداد :
  • 4279
  • 6/10/2014
  • تاريخ :

اہل تسنن کا فقہي نظام  ( حصّہ سوّم )

اہل تسنن کا فقہی نظام  ( حصّہ سوّم )

اہل سنت کے دوسرے فقہي  مذہب کي بنياد " مالک بن انس " نے رکھي - اہل سنت کا يہ فقہي مذہب ، فقہ مالکي کے نام سے موسوم ہوا- ابوعبداللہ مالک بن انس ، مالکي مذہب کے باني اور پيشوا اور اہل سنت کے چار اماموں ميں سے دوسرے امام ہيں جو دو ہجري قمري ميں مدينے سے 32  فرسخ دور شمال کے  ايک علاقے ميں پيدا ہوئے - مالک نے شہر مدينہ ميں ہي جو اس وقت فقہ وحديث کا مرکز تھا تعليم حاصل کرنا شروع کر دي - اور بہت سي علمي منزليں سر کرتے ہوئے ان علوم ميں اعلي مقام حاصل کرليا اور پھر مسجد نبوي ميں درس دينے اور فتوي جاري کرنے لگے - ان کے فقہ کي بنياد پہلے درجے ميں قرآن و حديث اور پھر اجماع علماء اور اس کے بعد اجماع اور اہل مدينہ کے عمل پر استوار تھي - کيوں کہ مالک مدينے ميں پلے بڑھے تھے اس لئے اس شہر کے باشندوں کے عمل کو بہت زيادہ اہيمت ديتے تھے اور جن موارد ميں قرآن و حديث اور نص نہيں ملتي تھي وہاں اہل مدينہ کے عمل کو حجت قرار ديتے تھے -وہ قياس اور استحسان پر بھي عمل کرتے تھے اور ان کو اصول استنباط کاجز سمجھتے تھے - اس بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ مالک ، فقہ ميں عمل باالرائے کے معتقد تھے -فقہ مالکي پہلے حجاز ميں شائع ہوئي اور پھر مصر ميں کثير تعداد ميں اس کي اشاعت عمل ميں آئي اور مصر سے شمالي افريقہ اوراندلس تک پھيل گئي - اس وقت بھي زيادہ تر مالکي مذہب  کے پيروکار شمالي افريقہ ميں ہيں - البتہ يہ مذہب مصر ميں پھيل نہيں سکا - اندلس ميں بھي فقہ مالکي ان کے شاگرد يحي بن يحي ليثي اندلسي کے توسط سے پھيلا - مالک بن انس نے يہ کوشش کي کہ فقہي روش پر حديث کي ايک کتاب تحرير کرکے اپنے آراء و نظريات کو پيش کريں - چنانچہ انہوں نے جو کتاب تحرير کي اس کا نام موطاّ  ہے - نقل حديث کے علاوہ مالک نے اس کتاب ميں مدينے کے فقہا کے فتووں کا ذکرکيا ہے اور پھر اپنے فقہي نظريے کو بيان کيا ہے - مالک معتقد تھے کہ احکام شرعيہ کے لئے مستند روايات کے ہوتے ہوئے قياس اور عمل باالرائے پر عمل نہيں کيا جاسکتا ہے مالکي مذہب کے فقہاء ميں سے اہم ترين ابو عبداللہ زياد بن عبد الرحمن قرطبي کي جانب اشارہ کيا جا سکتا ہے -

اہل سنت کے تيسرے فقہي مکتب کے باني " ابو عبداللہ محمد بن ادريس شافعي ہيں - شافعي 150 ہجري قمري ميں غزہ ميں پيدا ہوئے - انہيں حنفي اور مالکي دونوں مذاہب سے آشنائي حاصل تھي - انہوں نے يہ کوشش کي ان دو مذاہب کے مختلف اصولوں کے درميان ايک رشتہ قائم کريں اور ايک نئي فقہ وجود ميں لائيں - ليکن شافعي ، ابوحنيفہ کے قاعدۂ استحسان اور اور مالکي کے اصول استصلاح ، يعني ايک ايسا حکم حاصل کرنا کہ جس کے بارے ميں نص اور اجماع موجود نہ ہو ، کي مخالفت کرتے تھے - انہوں نے اپنے فقہي آراء و نظريات کو اصول فقہ ميں ايک رسالے ميں تحرير کيا ہے - فقہ شافعي کي مصر ميں صلاح الدين ايوبي نے ترويج کي اور عراق اور مکہ ميں بھي اس مذہب کے طرفدار پيدا کئے - شافعي 204 قمري ميں وفات پا گئے - ( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

اہل تسنن کا فقہي نظام ( حصّہ دوّم )

فقہ اور فقہاء شيعہ کا تشخص اور تعارف ( حصّہ دوّم )