• صارفین کی تعداد :
  • 5474
  • 3/20/2014
  • تاريخ :

اعلي خاندان کي اعتقادي ضرورت(حصہ سوم)

اعلی خاندان کی اعتقادی ضرورت

قرآن کريم کے نظر سے متعالي خانوادگي زندگي ميں کيا کرنا چاہيے اور کيا نہ چاہيے (حصہ اول)

اعلي خاندان کي اعتقادي ضرورت (حصہ دوم)

ليکن حضرت اسماعيل (عليه السلام) کے ساتھ حضرت ابراهيم (عليه السلام)  کا برتاۆ سے متعلق اس بات کو نظر انداز نہيں کرني چاہيے کہ يہ باپ بيٹے نے ايک دوسرے کے کمال کے ليے قرباني دينے وقت اپنے آپ سے کيا ردعمل دکھايا- حضرت ابراهيم (عليه السلام)  چھوٹے اسماعيل کو  اپني ماں کے ساتھ مکہ ميں اکيلے چھوڑا اور اسماعيل کے لڑکپن ميں حضرت ابراہيم کو اللہ کي طرف سے حکم ملي کہ اسے پہاڑ کے اوپر لے کے قرباني کرے- اس مشکل آزمايش سے حضرت ابراهيم (عليه السلام)  اور حضرت اسماعيل (عليه السلام)  دونوں  نے عہدہ برآمد ہوئے:

فَبَشَّرْناهُ بِغُلامٍ حَلِيمٍ  فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْي قالَ يا بُنَي إِنِّي أَري‏ فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ ما ذا تَري‏ قالَ يا أَبَتِ افْعَلْ ما تُۆْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ فَلَمَّا أَسْلَما وَ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ وَ نادَيناهُ أَنْ يا إِبْراهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّۆْيا إِنَّا كَذلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ  وَ فَدَيناهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ  وَ تَرَكْنا عَلَيهِ فِي الْآخِرِينَ؛ 6

« چنانچہ ہم نے انہيں ايک بردبار بيٹے کي بشارت دي- پھر جب وہ ان کے ساتھ کام کاج کرنے کي عمر کو پہنچا تو کہا: اے بيٹا! ميں نے خواب ميں ديکھا ہے کہ ميں تجھے ذبح کر رہا ہوں ، بس ديکھ لو تمہاري کيا رائے ہے- اس نے کہا: اے ابا جان! آپ کو جو حکم ملا ہے اسے انجام ديں، اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں ميں پائيں گے- پس جب دونوں نے (حکم خدا کو) تسليم کيا اور اسے ماتھے کے بل لٹا ديا ، تو ہم ندا دي: اے ابراہيم! تو نے خواب سچ کر دکھايا، بے شک ہم  نيکوکاروں کو ايسے ہي جزا ديتے ہيں- يقينا يہ ايک نمايان امتحان تھا، اور ہم نے ايک عظيم قرباني سے اس کا فديہ ديا، اور ہم نے آنے والوں ميں ان کے ليے (ذکر جميل) باقي رکھا- »

اپنے ہاتھوں سے اپنے بچے کو ذبح کرنا، وہ بھي اسماعيل جيسا لايق اور  عظيم لڑکا، ابراہيم جيسے والد کے ليے بہت مشکل کام تھا جو عمر بھر بيٹے کي انتظار ميں گزارا تھا- کيسے ہوسکتا تھا کہ ايسے بيٹے سے دل چھوڑا ليں ؟ اس سے مشکل يہ تھا کہ بغير کوئي مخالفت کے اللہ کے مرضي پر راضي ہوجائے اور اللہ کي حکم کي تعميل کرنے ميں کوئي ٹال مٹول نا کيا جائے اور آخري مرحلوں تک آگے جائے- ايسا کام پورا کرنے کے ليے نفسياتي اور عملي تياري کي ضرورت تھے تاکہ بيچ ميں اللہ کے حکم کے خلاف کوئي قدم نہ اٹھايا جائے-   اس سے عجيب يہ بات ہے کہ وہ نوجوان لڑکا اس عمر ميں اللہ کے حکم کے سامنے اتنا تسليم تھا-7 اس سے متعلق بھي ہم والد اور بيٹے کے درميان ہمکاري اور ہمدلي کو ديکھ سکتے ہيں- کعبہ کي تعمير ميں بھي والد اور بيٹے کے درميان ہماہنگي زندگي کا طريقہ اچھي طرح ديکھاتا ہے-

وَإِذْ يرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ 9

«اور جب ابراہيم اور اسماعيل اس گھر کي بنياد بناٹھا رہے تھے (دعا کر رہے تھے کہ) اے ہمارے رب! ہم سے (يہ عمل) قبول فرما يقينا تو خوب سننے والا جاننے والا ہے » (جاري ہے)

 

حوالہ جات:

6- صافات: 101- 108

7- مکارم شيرازي، 1374، ج19، ص 116

8-  بقره:127

 

ترجمہ : منیرہ نژادشیخ


متعلقہ تحریریں:

مايوسيوں کو ہنسي ميں اڑائيے (حصہ دوم)

قابو يافتہ دماغ