• صارفین کی تعداد :
  • 2020
  • 2/1/2014
  • تاريخ :

اردو ادب ميں مرثيہ نگاري  ( حصّہ نہم   )

کربلا کا واقعہ

ہر ادب پارے کي تفہيم و تحسين اس کے متقضي ہے کہ قاري اس کے سماجي منظر نامے ،اس دور کے علائم ،رسم و رواج کي صورتوں ،ادبي تھيوري (Literary Theory)اور Epistemiکے بليغ اشاروں کي ايمائيت سے آگہي رکھتا ہو -رثائي ادب کي قدر شناسي کيلئے تاريخ اسلام ،احاديث ،روايات اور خاندان رسالت کي عالمگير عظمت و فضيلت کا علم بھي ضروري ہے - قرآني اشارے ،آيات و سير سے استنباط اور واقعات کي کڑياں جوڑنے کا سليقہ اور ان کي تعميري صورتوں کي وسعت و گہرائي سے آشنائي کے ساتھ ساتھ ہندوستان کي گنگا جمني مخلوط تہذيب اور سماجي رشتوں ،فکري ،جذباتي اور فني اظہار کي سطح پر نمودار ہوکر ادبي اور عصري و تاريخي معنويت متعين کرنے والے عناصر اور اپنے عہد کے فکري رجحانات کي نمائندگي کرنے والے عوامل کا ايک واضح خاکہ قاري کے ذہن ميں ہو - جب حاتم نے چہار دہ معصومين کے بارے ميں کہا تھا کہ

خدا کے نور کا متھ کر سمندر

يہي چودہ رتن کاڑے ہيں باہر

محمد قلي قطب شاہ نے سب سے پہلے حديث کربلا نظم کي پھر عابد گجراتي نے اس کمي کو دور کرنے کي کوشش کي احمد گجراتي نے ساتھ ہي سراپا‘ رخصت جنگ و شہادت کے عناصر ابھارنے کي کوشش کي اگرچہ اشرف کے نوسرہار ميں کسي حد تک يہ عناصر دريافت ہوئے ہيں مرزا بيجاپوري بھي مراثي ہيں- ان مضامين کے اضافہ سے مطمئن تھے جو مرثيہ سے بطور سنت ہم آہنگ ہيں يہ کوشش دکني مرثيہ کو ادبيت کے دائرہ ميں لانے کي سعي مشکور سمجھي جا سکتي ہيں-

بيدر‘ بيجاپور‘ گوالکنڈہ ميں شعرا نے غزل کي ہيت کو منسوخ نہيں کيا- مرثيہ لحن سے پڑھا جاتا تھا- سينہ کوبي ميں يوں مرثيہ نوحہ بن جاتا تھا- سينہ کوبي کے ماتمي جلوس ميں مسلسل واقعات کربلا بيان کرنے کي ضرورت ہي نہيں تھي- ايک جدت يہ کي گئي کہ اندازغزل ميں مطلع کي بجائے کسي اور شعر سے ابتدا کرکے ہيئت غزل ميں مرثيہ لکھا جاتا تھا - خوشنود ملک نے اس ابتدائي شعر کے دونوں مصرعوں کے درمياں ”‌آہ“ کا اضافہ کيا---- خوشنود ملک نے حضرت حر رياحي ط‘ کا مرثيہ بشکل قصيدہ انشاء کيا ---- متاخرين مراثي نگاروں خصوصاً ميسور ميں مرثيہ کي ايک اور صورت رواج پا گئي ماتمي دستہ سينہ کوبي ميں مصروف رہتا پيش خوان 3 مصرعے ہم قافيہ و رديف پڑھتے چوتھا مصرع ماتمي دستہ پيش خوانوں کے ساتھ مل کر دہراتا ”‌نوحہ“ کے ہر بند پر شربت نذر مولا نياز حسين پلايا جاتا اور ماتمي دستہ آگے بڑھ جاتا تھا اس دکني مرثيہ کو سبيل کہتے تھے- ( جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

زيارت کا عظيم مقام

کربلا کي بلندي