• صارفین کی تعداد :
  • 2492
  • 12/20/2013
  • تاريخ :

کربلا کي بلندي

کربلا کی بلندی

کربلا منزل بہ منزل (حصہ اول)

کربلا کا واقعہ  (حصہ دوم)

ظرف و مظروف اور نسبت و منسوب کے لازمي اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے تاريخي واقعات کي روشني ميں بھي کربلا کي بلندي آسمان سے بات کرتي نظر آتي ہے زيادہ دور جانے کي ضرورت نہيں صرف ہمارے امام زمانہ حضرت حجة ابن الحسن عجل اللہ تعاليٰ فرجہ الشريف کي بخشي ہوئي زيارت وارثہ ہي سے امام حسين عليہ السلام کے ساتھ کربلا کي عظمت مستقيم ہوجاتي ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ روز ازل ہي سے لوح محفوظ ميں ذبح عظيم کا نام شط فرات سے جڑا ہوا تھا امام حسين عليہ السلام نے تمام انبيا کرام کي وراثت پائي تو ان کا مقتل بھي تقدس و طہارت ،عروج و نورانيت کے تمام اعليٰ معياروں کو پار کر گيا - يہاں تک کہ مٹي جس کا کھانا حرام ہے - کربلا کي نسبت پاتے ہي خاک شفا بن گئي - امام حسين عليہ السلام سردار جوانان جنت ہيں اور کربلا امام عليہ السلام کا پايہ گاہ ہے جو فرق مملکت کے دوسرے علاقوں اور دارالسلطنت ميں ہوتا ہے اتنا تو جنت سے کربلا کو کم ماننا ہي پڑے گا اگر چہ جنت ہر بلند مقام سے بلند ہے کہ وہ متقين ،صالحين ،شہداءو صدقين انبيا و اوليا و اوصيا سب کي قرار گاہ اور منتہا ئے آرزو ہے ليکن کربلا اس سے بہتر ہے شايد اسي لئے اس سرزمين پر جناب آدم،جناب نوح ،جناب ابراہيم ،جناب موسيٰ ،جناب عيسيٰ عليہم السلام اور سبھي بزرگ انبيا تشريف لائے جس کي بہت سي توجيہ ممکن ہے ليکن بہر حال امام حسين عليہ السلام ان سب کے وارث تھے اس لئے بھي کہ ان کو يہاں آناتھا آئے اور روايتوں کے مطابق ہر ايک نے کچھ نہ کچھ ايذا پائي امام حسين عليہ السلام پر گريہ کيا اور ان کے قاتلوں پر لعنت اور جب خاک کربلا وادي شہادت اور حسين کي آخري آرام گاہ کي زيارت کرکے آگے بڑھے تو ان کي بہت سي مشکلات حل ہوگئيں -جناب آدم عليہ السلام اور جناب حوا مل گئے-کشتي نوح عليہ السلام بھنور سے نکل کر کوہ جودي پر ٹھہر گئي اور کتابوں ميں تلاش کرنے کا موقع نہيں ملا ليکن دل گواہي ديتا ہے کہ شہادت امام حسين عليہ السلام سے بہت پہلے ملائکہ کو اس زمين کے طواف پر مامور کر ديا گيا ہوگا-

آج سيد الشہداءامام حسين عليہ السلام کا روضہ ايک آراستہ و پيراستہ وسيع وشاندار عمارت ہے سورج کي کرنوں سے اس کے طلائي قبہ و مينار اسي طرح چمکتے دمکتے ہيں جيسے صحرا ميں ريت کے ذرے- نيچے سرداب ہے اور پختہ وبلند احاطہ ہے جس ميں باب قبلہ باب قاضي الحاجات ، باب صحن کوچک ، باب حر ، باب سلطانيہ ، باب زينبيہ ، نام کے بلندو بالا دروازے نصب ہيں وسط حرم ميں روضہ مقدس ہے روضہ انوار کے دروازے نقري ؟اور بہت ديدہ زيب ہيں تمام عمارت پر چيني کي گل کاري ہے اور قرآني آيات جابجا بہترين خط ميں لکھي ہوئي ہيں اندروني حصوں ميں کاشي کاري اور آئينہ بندي کا اعلا نمونہ ہے - علي الخصوص زير قبہ جہاں مزار مبارک ہے اس کي آرائش ديکھنے ہي سے تعلق رکھتي ہے - يہ وہي مقام ہے جس کے لئے باني اسلام نے فرمايا تھا : ”‌دعا تحت قبہ مستحب ہے “( جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

واقع کربلا کے موقع پر رونما ہونے والے واقعات کا خاکہ

کربلا کا حيات بخش ہونا