• صارفین کی تعداد :
  • 9863
  • 1/23/2014
  • تاريخ :

زخمي دل کو سيکنڈوں ميں جوڑنے والي گوند

زخمی دل کو سیکنڈوں میں جوڑنے والی گوند

سائنس دانوں نے ميدان جنگ ميں لگنے والے زخموں سے خون کے بہنے کو فوري طور پر روکنے اور دل کے آپريشن کے دوران دل کے حصوں کو جوڑنے ميں مددگار ’سپر گوند‘ تيار کي ہے-

سائنس ٹرانسليشنل ميڈيسن جريدے ميں شائع ہونے والي اس تحقيق کے مطابق طبي سپرگوند مستقبل ميں دل کي شريانوں کي سرجري کے دوران دل کو ٹانکے لگانے کا متبادل ثابت ہو گي- اس گوند کے سۆروں پر کيے جانے والے تجربات ميں دل کے زخم سکينڈوں ميں بھر گئے- يہ انساني استعمال کے ليے دو سال ميں دستياب ہو گي- جِلد کے ليے تيار کي جانے والي يہ چپکنے والي گوند زخم کے دو حصوں کو آپس ميں جوڑنے اور بعد ميں ان کے مندمل ہونے ميں مدد دے گي-

طبي عملہ زخموں کو ٹانکوں کي مدد سے سينے يا سٹيپل کے ذريعے جوڑنے کے روايتي طريقے کي بجائے اس گوند کو استعمال کر سکے گا، تاہم في الحال يہ گوند اتني پائيدار ثابت نہيں ہوئي کہ دل کي بڑي شريانوں اور دل کے خانوں کے اندر بھي مضبوطي سے چپکي رہ سکے- يہ واٹر پروف گوند ہاورڈ ميڈيکل سکول نے تيار کي ہے اور جب اس پر بالائے بنفشي روشني پھينکي جائے تو يہ سکينڈوں ميں چپک جاتي ہے-

اس تحقيق ميں شامل ويمن ہسپتال بوسٹن کے پروفيسر جيفري کيپ نے بي بي سي سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کو کھلے زخموں، متحرک ٹشوز، مثلاً خون کي شريانوں، دل اور اس کے ساتھ انتڑيوں کو بند کرنے ميں استعمال کيا جا سکتا ہے-

پروفيسر جيفري کيپ  کا کہنا ہے کہ "ہمارے خيال ميں ہماري گوند ممکنہ طور پر ٹانکوں کي جگہ لے لے گي، اور اس ميں سب سے اہم يہ کہ کم از کم جسم کے اندر کيے جانے والے آپريشنوں ميں اس کے استعمال کا راستہ کھل جائے گا-"

’ہمارے خيال ميں ہماري گوند ممکنہ طور پر ٹانکوں کي جگہ لے لے گي، اور اس ميں سب سے اہم بات يہ ہے کہ کم از کم جسم کے اندر کيے جانے والے آپريشنوں ميں اس کے استعمال کا راستہ کھل جائے گا- محققين نے اس گوند کے تجربات سۆروں کے دل کي سرجري کے دوران کيے ہيں اور نتائج سے ثابت ہوا کہ يہ موثر طريقے سے جانوروں کے دل کے عارضے ختم کر سکتي ہے-

اس گوند کو انساني دل کي سرجري کے دوران استعمال کرنے کے سلسلے ميں مزيد تحقيق کي ضرورت ہے، تاہم نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئي سرجيکل گوند کسي حادثے ميں آنے والے شديد زخموں کو تيزي سے بند کرنے ميں استعمال کي جا سکتي ہے-

برٹش ہارٹ فاۆنڈيشن کے ڈاکٹر سنجے تھکرار کے مطابق: ’دل اور خون کي رگوں کا نظام مسلسل متحرک رہتا ہے، جس ميں خون کي گردش مسلسل جاري رہتي ہے اور اس صورتِ حال ميں موجودہ گونديں کام نہيں کرتيں-

اب لگتا ہے کہ محققين نے ان مسائل پر قابو پانے کے ليے ايک جديد طريقہ دريافت کر ليا ہے اور خاص کر اس کو کم گہرے آپريشنوں ميں استعمال کيا جا سکتا ہے-


متعلقہ تحریریں:

مصنوعي دماغ کي تياري

سام سنگ کے لچک دار سمارٹ فون کي نمائش