• صارفین کی تعداد :
  • 532
  • 12/17/2013
  • تاريخ :

چين کي پولس نے 14 "ايغور" مسلمانوں کو قتل کرديا

چین کی پولس نے 14 ایغور مسلمانوں کو قتل کردیا

چين کي سرکاري ويب سائٹ " تيان شانت" کي رپورٹ کے مطابق اس ملک کي پوليس اور ايغور مسلمانوں کے درميان صوبۂ سين کيانگ ميں ہونے والي جھڑپ ميں چودہ مسلمان اور دو پوليس اہلکار مارے گئے ہيں- اس جھڑپ ميں دو افراد کو گرفتار بھي کرليا گيا- ميونيخ ميں ايغوروں کي عالمي کانگريس کے ترجمان کےحوالے سے اس رپورٹ ميں لکھا گيا ہے کہ چين کے پوليس اہلکاروں نے ايک گھر پر، جہاں يہ ايغور مسلمان اکٹھا تھے، حملہ کر ديا- مرنے والوں ميں دو نوجوان بھي شامل ہيں- سين کيانگ کا علاقہ ، جہاں ايغور مسلمان بستے ہيں، قدرتي گيس اور معدنيات کے ذخائر سے مالا مال ہے - اسي طرح يہ علاقہ وسطي ايشياء کے ساتھ چين کي تجارت کا دروازہ بھي ہے-چين ميں ايغور مسلمانوں کي ہونے والي ہلاکتوں پر مختلف حلقوں کي جانب سے تشويش کا اظہار کيا گيا ہے-کہا جاتا ہے کہ چين ميں ڈيڑھ ملين مسلمان آباد ہيں جنھيں مکمل آزادي حاصل نہيں ہے اور يہي وجہ ہے کہ وہاں اس قسم کي جھڑپيں ہوتي رہتي ہيں-

 

بشکریہ اردو ریڈیو تھران


متعلقہ تحریریں:

اسلام ، ظلم اور دہشتگردي کا مخالف

ليبيا: ہنگامي حالت کے نفاذ کا اعلان