• صارفین کی تعداد :
  • 1032
  • 10/1/2013
  • تاريخ :

اسلام ، ظلم اور دہشتگردي کا مخالف

اسلام ، ظلم اور دہشتگردی کا مخالف

اسلام  ايک امن و سلامتي کا دين ہے جو اپنے ماننے والوں کو بھائي چارے کا درس ديتا ہے - اسلام  نے ہميشہ دنيا ميں ظلم و ستم کے خاتمے کي راہ اپنانے کي بات کي ہے اور ظلم کا راستہ ترک کرنے کو کہا ہے - موجود دور ميں طاقتور ملکوں نے  کمزور قوموں کے وسائل پر قابض ہونے کے ليۓ  جديد طريقے اپناۓ اور ان طريقوں کي مدد سے دوسرے ممالک پر قبضے کيے -  نائن اليون کا واقعہ اس کي ايک عمدہ مثال ہے جب امريکہ نے ايک متنازعہ واقعہ کو بہانہ بنا  کر عراق اور افغانستان پر دھاوا بول ديا اور دنيا بھر ميں دہشتگردي کے خلاف جنگ کا نعرہ لگا  کر  اپنے عزائم  کي تکميل کے ليۓ نکل پڑا -  يہاں بدقسمتي کي بات يہ تھي کہ امريکہ کي اس مہم جوئي کا سب سے زيادہ شکار مسلمان ہوۓ اور  اسلام کي  دنيا کے سامنے ايک ايسي تصوير کشي کي گئي جس سے ظاہري طور پر يہ ظاہر  ہونے لگا کہ  مسلمان دہشتگردي کي حمايت کر رہے ہيں -

 اسلام ہر لحاظ سے دہشتگردي کے خلاف ہے اور  ہر سطح پر  مسلمانوں نے  دہشتگردي  کي مخالفت کي ہے - مسلمان حکمرانوں نے ہميشہ دنيا ميں امن کي کوششوں  کو سراہا ہے - فقہ شيعہ ميں ٹروريسٹ اور دھشتگرد اپنے جرم کے اعتبار سے سزا کا مستحق ہے- جيسا اس نے فعل انجام ديا ہو گا ويسي اس کو سزا ملے گي اگر اس نے اسلحہ دکھا کر کسي کو ڈرايا دھمکايا ہے تو اس کي سزا اسي حد تک ملے گي اگر اس نے کسي کو زخم لگايا ہے اور کسي پر اسلحہ کھينچا ہے اس کي سزا بھي فقہ اسلامي ميں معين ہے جبکہ اگر اس نے کسي کا قتل کيا ہے تو اسے قصاص کيا جائے گا- يہ تمام فقہي احکامات اس بات کي واضح دليل ہيں کہ اسلام کسي بھي طرح کے دھشتگردانہ اقدامات کي حمايت نہيں کرتا بلکہ اس کے برخلاف ان کي شديد مذمت کرتا ہے- اسلام ميں صرف دفاع واجب ہے اور دفاع نہ صرف اسلامي رو بلکہ عقلي رو سے ہر انسان پر واجب ہے اس ميں مسلمان اور غير مسلمان کي کوئي قيد نہيں ہے- ( جاري ہے )

 

متعلقہ تحریریں:

مشکوک سعودي کردار