• صارفین کی تعداد :
  • 2335
  • 1/28/2014
  • تاريخ :

ظہور امام (عج) اور ہمارے اعمال 3

ظہور امام (عج) اور ہمارے اعمال 3

ظہور امام (عج) اور ہمارے اعمال 1

ظہور امام (عج) اور ہمارے اعمال 2

امام زمانہ (ع) کے ظہور کے لئے دوسرے رمز و راز بھي بيان ہوئے ہيں جن سے صرف خداوند متعال ہي واقف و آگاہ ہے-

امام صادق (ع) فرماتے ہيں: حضرت مہدي (عج) اس وقت ظہور نہيں فرمائيں گے جب تک کفار اور منافقين کي صلب ميں وديعت، مۆمن افراد کے نطفے، خارج ہوجائيں-  (11) ظاہر ہے کہ گناہ خدا کے غضب کا سبب ہے اور رسول اللہ (ع) کے فرمان کے مطابق "گناہ نعمتوں کو دگرگون کرديتے ہيں"- (12) چنانچہ گناہوں کي وجہ سے اس عظيم نعمت کا ظہور بھي مۆخر ہوسکتا ہے-

اميرالمۆمنين (ع) فرماتے ہيں: اش خشک نہيں ہوتے مگر قساوت قلبي کي وجہ سے اور قلوب قسي نہيں ہوتے مگر گناہوں کي کثرت کي وجہ سے- (13) امام صادق (ع) فرماتے ہيں: جب کوئي گناہ کرتا ہے اس کے دل ميں ايک سياہ دھبہ معرض وجود ميں آتا ہے؛ اگر توجہ کرے تو وہ سياہ دھبہ صاف ہوجاتا ہے- ليکن اگر گناہ کو دہرائے تو وہ سياہ دھبہ بڑا ہوجاتا ہے اور اس کے بعد وہ فلاح نہيں پاتا- (14)

پس انسان اپنے گناہ کے تناسب سے انتظار فَرَج  کے دائرے سے خارج ہوتا ہے اور اگر اگر اپني گمراہان سير کو جاري رکھے جس قدر وہ منحرف تر ہوگا صراط انتظار و انسانيت سے دور تر ہوگا؛ علاوہ ازيں بعض روايات کے مطابق ظہور کا وقت ان امور ميں سے ہے جس ميں پس و پيش ہونے کا امکان ہے (15) جنانچہ خيال رہنا چاہئے کہ اگر ہم ضروري آمادگيوں کي طرف گامزن نہ ہوئے، قيام مہدي (عج) کے لئے ماحول فراہم نہ کريں ممکن ہے کہ ظہور مہدي (عج) مۆخر ہوجائے- يعني ہمارے گناہ اس کو مۆخر کرسکتے ہيں جيسا کہ ہمارے نيک اعمال تعجيل فَرَج  کا سبب بن سکتے ہيں-

..............

11- دادگستر جهان، اميني، ص 243؛ اثبات الهداة، ج 7، ص 105-

12- مستدرك الوسايل محدث نوري، ج 12، ص 334-

13- بحار الانوار، ج 70، ص 55.  

14- كليني، اصول كافي، ج 2، ص 271.

15- مكيال المكارم، ص 410-