• صارفین کی تعداد :
  • 2770
  • 12/14/2013
  • تاريخ :

قمہ زنی 4

قمہ زنی 4

قمہ زنی 1

قمہ زنی 2

قمہ زنی 3

 

سۆال:

ہم دنيا والوں کے رد عمل کي بنا پر قمہ‏زني اور زنجيرزني کو کيوں ترک کريں؟ کيا ہميں دوسروں کي خاطر ديني واجبات کو بھي ترک کر دينا چاہئے؟!

 

جواب:

يہاں جس نکتے سے غفلت ہوئي ہے وہ يہ ہے کہ انبياء عظام علي نبينا و آلہ و عليہم السلام ميں سے کسي ايک نبي کو بھي اپنے بنائے ہوئے اعمال و عادات کي بنا پر مذاق اور اذيت و آزار کا سامنا نہيں کرنا پڑا ہے بلکہ انہيں تبليغ دين اور احکام خداوندي کي تبليغ و ترويج کي بنا پر کفار اور ظالمين کي جانب سے تمسخر اور آزار و اذيت کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ ہم اپني بنائي ہوئي من گھڑت عادات و رسوم کي وجہ سے تمسخر کا نشانہ بن رہے ہيں- ہاں اگر دشمن ہمارے عقائد اور ديني اعمال کي بنا پر ہمارا تمسخر اڑائيں تو ہم ڈٹ جائيں گے۔ ان کے مد مقابل کھڑے ہوں گے اور ان کے تمسخر کي پرواہ نہيں کرتے ليکن قمہ‏زني اور زنجيرزني جيسے اعمال کو ہماري کسي ايک روايت ميں بھي تأئيد حاصل نہيں ہے بلکہ ايسي رسم و عادت ہے جو لوگوں نے خود گھڑ ليا ہے- اسي بنا پر اس کو دين کا حصہ قرار نہيں ديا جاسکتا- اگر دشمن ہميں سيدالشہداء عليہ السلام کے لئے رونے پر تمسخر کا نشانہ بنائيں تو ہم پرواہ نہيں کريں گے کيونکہ امام حسين عليہ السلام کے لئے گريہ و بکاء اور عزاداري دين سے ہے اور دين کے متن ميں اس کي تلقين ہوئي ہے- ہم دشمن کے تمسخر سے خائف نہيں ہوتے بلکہ دنيا کي ملتوں کے سامنے اسلام کے بدنما ہونے سے خائف ہيں- ہميں ڈر ہے کہ بعض بے بنياد اعمال پر ہمار ا اصرار، دشمن کے ہاتھوں ميں ايک مۆثر دستاويز کے عنوان سے دنيا کي ملتوں کو اسلام سے بيزار کرنے کي غرض سے بروئے کار لايا جائے اور اسلام کے لئے تشنہ قوميں اسلام سے بيزار ہوجائيں- (1)

رہبر معظم نے بھي اس نکتے کي طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمايا ہے: اگر قمہ‏زني ميں کوئي حرج نہ بھي ہو، واجب بھي تو نہيں ہے!--- يہ اعمال آج کي دنيا ميں، آج کي دنيا کي رائج ثقافت ميں، ہمارے گھروں ميں اور ہمارے نوجوان بچوں اور بچيوں کے درميان رائج معقولات ميں، نامناسب رد عمل کا باعث بنيں گے- يہ شرع مبين کے بيّنات نہيں ہيں کہ ہم کہتے پھريں کہ ہميں يہ سب کرنا اور کہنا چاہئے خواہ دنيا والے اسے پسندکريں خواہ ناپسند کريں- کم از کم يہ اعمال وہ ہيں جن ميں شک پايا جاتا ہے۔  (2) ، (3)

 

حوالہ جات:

1- محمد تقي اکبر نژاد، فصلنامہ تخصصي فقہ اہل بيت عليہم السلام، نشر دائرة المعارف فقہ اسلامي مطابق مذہب اہل بيت عليہم السلام قم، شمارہ 48 و 50، موسم سرما 1385 اور بہار1386، تھوڑي سي تبديلي کے ساتھ-

2- يعني اس ميں حرمت کا شائبہ ہے اور اس کو مشکوک فيہ کہتے ہيں-

3- مجلس خبرگان سے رہبر مسلمين کا خطاب-  17/3/2005-

 

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی


متعلقہ تحریریں:

اھل بيت  سے محبت کا اظہار

قبور سے تبرک کے بارے ميں سني علماء کي آراء