• صارفین کی تعداد :
  • 729
  • 11/12/2013
  • تاريخ :

پاکستان  پر دہشتگردي کي يلغار

پاکستان  پر دہشتگردی کی یلغار

اسلامي جمہوريہ پاکستان کو اسلامي دنيا ميں ايک مرکزي حيثيت حاصل ہے - اس ملک ميں مختلف فرقوں اور مختلف مذاھب سے تعلق رکھنے والے افراد بستے ہيں - اسلام  اپنے پيروکاروں کو امن و سلامتي اور بھائي چارے کے ساتھ رہنے کي دعوت ديتا ہے - پاکستان کو اپنے وجود ميں آنے کے بعد متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑا مثلا جاگيردارانہ نظام، لاقانونيت،غربت، کم شرح خواندگي ، فرقہ واريت ، اقرباپروري ، رشوت وغيرہ وغيرہ  - ان مسائل ميں سے بعض مسائل ايسے تھے جن پر وقت کے ساتھ پاکستان کي عوام اور حکومت کچھ حد تک  قابو پانے ميں کامياب ہو گئي جبکہ بعض مسائل ايسے ہيں جن  کا احسن طريقے سے کوئي خاطر خواہ حل نہ نکالا گيا اور   وہ  وقت کے ساتھ شدت اختيار کرتے گۓ  -  پاکستان کے ان موجودہ مسائل ميں سے ايک بہت اہم مسئلہ  فرقہ واريت ہے -  قيام پاکستان کے  ليۓ مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور حصہ ليا اور  اس کي بقا کے ليۓ بےحد قربانياں بھي ديں - قيام پاکستان کے ابتدائي سالوں ميں فرقہ واريت  اتني عام نہيں تھي مگر سن 1979 ء ميں افغانستان پر روسي  حملے کے بعد جب ضياء دور حکومت ميں مختلف عسکري تنظيميں ميدان ميں آئيں تب ان تنظيموں کے  برے اثرات  پاکستاني معاشرے پر بھي مرتب ہوۓ اور ان تنظيموں نے اپنے خاص فرقے اور عقيدے کو پروان چڑھانے کے ليۓ دوسرے فرقوں پر طاقت کا استعمال کرنا شروع کر ديا - اس کا سب سے بڑا نقصان پاکستان کي شيعہ برادري کو ہوا -  ضياء دور حکومت ميں پاکستان ميں شيعہ برادري کو کوئي خاص تحفظ حاصل نہيں تھا اور  اس دور ميں سعودي عرب کے زير اثر  ضياء حکومت نے سپاہ صحابہ  جيسي دہشتگرد تنظيموں کو شيعوں کے قتل عام کي کھلي چھٹي دے رکھي تھي -  پاکستان ميں شيعوں کي اچھي خاصي تعداد آباد ہے - ايک اندازے کے مطابق شيعہ پاکستان کي آبادي کا 20 فيصد ہيں  يعني پاکستان کا ہر پانچواں شخص شيعہ ہے - پاکستان کي ترقي اور سياست ميں شيعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے پاکستان کي تعمير و ترقي ميں ايک اہم کردار ادا کيا ہے اور وہ محب وطن پاکستاني ہيں

عزاداري کے ذريعہ نہ صرف کربلا کا واقعہ تازہ رہتا ہے بلکہ پوري تاريخ کواور خاص کر تاريخ اسلام کو تازگي ملتي ہےاگرعزاداري نہ ہوتي تو دشمنانِ اہلبيت اور غارت گرانِ اسلام اب تک يزيد اوراس کے پيشروں کو مقدس مآب بنا چکے ہوتے اور اسلام کي تاريخ کو مسخ کر چکے ہوتے اس وقت جو تاريخ ميں سچے واقعات نظرآ رہے ہيں اس ميں عزاداري کا بہت بڑا رول ہے، جب انسان اس واقعہ کو پڑھتا يا سنتا ہے تو اس کو ظلم اور ظالم دونوں سے نفرت ہو جاتي ہے اور اس طرح کے واقعات جو اسکو ظلم پرآمادہ کرتے ہوں ان سے دامن کش ہو جاتا ہے، عزاداري صرف نقلِ واقعات اور بيانِ داستان نہيں ہے بلکہ يہ ہے اوپن يونيورسٹي جہاں مختلف ماہراساتذہ کےذريعے مختلف مضامين کے درس ديئے جاتے ہيں، عقائد، احکام، اخلاق، تاريخ، عبادات، معاملات قرآن، حديث، فقہ ہر ايک درس يہاں بيان ہوتا ہے، دنيا و آخرت کي کاميابي زندگي کے طريقے يہيں سکھائے جاتے ہيں-  ( جاري ہے )

 

شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

کراچي ميں بڑے پيمانے پر دہشت گردي کا خطرہ

خود کش حملے حرام اورطالبان دورحاضر کے خوارج