• صارفین کی تعداد :
  • 2946
  • 11/1/2013
  • تاريخ :

 کشمير کي زبان و  ثقافت

 کشمیر کی زبان و  ثقافت

جنت نظير وادي کشمير (جصّہ اوّل)

کشمير  کے تاريخي حصّے پر نظر(حصّہ دوّم)

کشمير کي زبان جو کشميري کہلاتي ہے، ايک پراکرتي بولي ہے جو آريايوں کي آمد سے پہلے وادي کشمير ميں بولي جاتي تھي- ہر زبان کي طرح کشميري ادب کي ابتدا لوک گيتوں سے ہوئي-ان لوک گيتوں ميں مختلف ديوي ديوتاۆں کي برتري، قلب و روح کي طہارت پر زور دينے کے علاوہ  چشمہ، پہاڑ ، بادلوں اور دوسرے مناظر فطرت کي بھي توصيف کي گئي ہے- شتي کنٹھ اور للہ عارفہ سے کشميري ادب کا باقاعدہ آغاز ہوا- للہ عارفہ نے شعر کے ذريعے يوگا کي تعليم کو عام کرنے کي کوشش کي- کشميري ادب کے تيسرے دور ميں دو اور خواتين، ارني مال اور حبہ خاتون ، کشميري شاعري پر چھائي ہوئي نظر آتي ہيں- ان کي شاعري کي اہميت اس امر ميں پوشيدہ ہے کہ ان کا کلام وادي کشمير کي عام عورتوں کي افسردگيوں، تکليفوں، آرزوۆں، حسرتوں، چيخوں اور کراہوں کي عکاسي کرتا ہے- کشميري شاعري کا جديد دور 1900 سے شروع ہوتا ہے- اس دور کا ممتازترين شاعر پيرزادہ غلام احمد مہجور کشميري کے علاوہ فارسي ميں بھي شعر کہتا تھا- وہ دراصل مسلمان عوام کا شاعر ہے- انسانوں سے پيار، آزادي فکر و عمل اور مناظر فطرت اس کي شاعري کے موضوعات ہيں-

ايران اور کشمير ميں اتني مماثلتيں اور نزديکياں موجود ہيں کہ کشمير کو ايرانِ صغير کا نام ديا گيا ہے-ان کے تعلقات بھي گذشتہ زمانے سے استوار ہيں جو صرف لين دين تک محدود نہيں تھے بلکہ تہذيبي، علمي، ادبي اور ہنر کے ميدانوں ميں بھي قائم تھے- اکثر عالم اور بزرگ جو کشمير ميں تبليغي کام کے سلسلے ميں قدم رکھتے تھے فارسي زبان ميں لوگوں کو مخاطب کرکے ان کو اسلام کي طرف دعوت ديتےتھے جس کي وجہ سے فارسي زبان کو عوام کے درميان مقبوليت حاصل ہوئي- ساتھ ہي کشميري الاصل شعرا اور مصنف فارسي زبان ميں تخليقي کام کرکے فارسي ادب کے پھيلانے اور ايران اور کشمير کے لوگوں کو گہرے رشتوں سے جوڑنے کا باعث بنے- ان سب کا نتيجہ يہ ہوا  کہ فارسي زبان کے الفا1 تراکيب اور بعض محاورات اور اشعار کشميري زبان ميں عام ہونے لگے ساتھ ہي کشميري زبان نے بھي ہيئت، ساخت اور محتوا کے اعتبار سے فارسي کے اثرات کو قبول کيا- کشميري اديبوں کي يہ اثرپذيري فارسي زبان و ادب کے 600 سالہ رواج کا باعث بني اور يعقوب صرفي، غني کشميري، آزاد کشميري، محمد امين اويسي، جويا کشميري جيسے اديبوں کو ادب سے متعارف کروايا جو ايراني اديبوں کي ياد کو زندہ کيے ہوۓ تھے- اس طرح کشميريوں نے برصغير ميں فارسي ادب کي گسترش ميں کافي اہم کردار ادا کيا ہے- 

آخر ميں علامہ اقبال کے ايک شعر  کے ساتھ اپني تحرير کا خاتمہ کرتے ہيں -

آج وہ کشمير ہے محکوم و مجبور و فقير

کل جسے اہل نظر کہتے تھے ايران صغير

سينہ افلاک سے اٹھتي ہے آہ سوزناک

مرد حق ہوتاہے جب مرعوب سلطان و امير

کہہ رہاہے داستانِ بيدرديِ ايام کي

کوہ کے دامن ميں وہ غم خانہ¬ي دہقانِ پير

آہ! يہ قوم نجيب و چرب دست و تردماغ

ہے کہاں روزِ مکافات اے خدائے ديرگير؟  (ختم شد)


متعلقہ تحریریں:

مشتاق احمد يوسفي کي طنز نگاري

اردو ادب آپ بيتي سے تہي دامن  نہيں