• صارفین کی تعداد :
  • 2122
  • 10/27/2013
  • تاريخ :

ابن خلدون کا انکار مہدي!

ابن خلدون کا انکار مہدی!

کسي محدث يا مۆرخ نے اس حقيقت کا انکار نہيں کيا ہے کہ حضرت مہدي (عج) کے ظہور کي خبر رسول اللہ (ص) نے دي ہے اور فرمايا ہے:

"اگر دنيا کي عمر کا صرف ايک دن بھي باقي ہو خداوند متعال اس ايک دن کو اتنا طويل کرے گا کہ حضرت مہدي (عج) ظہور فرمائيں اور دنيا کو عدل و انصاف سے بھر ديں جيسے کہ يہ ظلم و جور سے بھري ہوئي ہوگي"- (1)

ليکن تيونسي مۆرخ ابن خلدون نے اپني کتاب "العبر وديوان المبتداء والخبر في ايام العرب والعجم والبربر" (2) کے ديباچے ميں امام مہدي (عج) سے متعلق احاديث کو ايک جعلي حديث کے سہارے ردّ کيا ہے کہ:

{لامَهْديَ اِلاّ عيسي بْنِ مَرْيَم}- 

"کوئي مہدي وجود نہيں رکھتا سوائے عيسي بن مريم کے"-

کہا جاسکتا ہے کہ ابن خلدون کے زمانے ميں بعض لوگوں نے مہدويت کے مسئلے کو اپنے مقاصد کے حصول کا وسيلہ قرار ديا تھا چنانچہ اس نے اس صورت حال کا علمي جواب دينے کے بجائے مسلمانوں کے اس مسلمہ عقيدے کا ہي انکار کيا ہے اور اس سلسلے ميں متواتر احاديث کي صحت ميں تشکيک کي ہے-

ابن خلدون نے بيس صفحات مہدويت کے موضوع اور منجي موعود کے انتظار، کے لئے مختص کئے ہيں اور اکابرين حديث سے منقولہ چھتيس احاديث کو نقل کرکے ان کي صحت کو مشکوک قرار ديا ہے؛ گوکہ اس نے ان احاديث کي شہرت کا اعتراف کيا ہے چنانچہ بعض مذہبي تعصبات اور بےسبب مصلحت انديشيوں کي بنا پر ان احاديث اور عقيدہ مہدويت کا انکار کسي بھي علمي قاعدے کے تحت ناقابل قبول ہے-

بعض لوگوں کے خيال ميں اس کي کتاب کے ديباچے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا انکار سياسي ہے کيونکہ فاطميون مصر نے مہدويت کا دعوي کيا تھا اور دوسري طرف سے اس نے مہدويت کا انکار کيا ہے تاہم علمائے اسلام نے اس کے انکار کو رد کيا ہے اور ابوالعباس بن عبدالمۆمن المغربى نے اپني کتاب "الوهم المكنون فى الردّ على ابن خلدون" ميں ابن خلدون کے شبہات کا تفصيلي جواب ديا ہے- (3)

ادھر ابوالحسين بن الحسين الآبري السنجري نے "مناقب الشافعي" ميں لکھا ہے:

"امام مہدي سے متعلق روايتيں اپنے راويوں کي کثرت کي بنا پر تواتر اور شہرت کے درجہ پر پہنچ گئي ہيں کہ وہ اہل بيت رسول (ص) سے ہونگے؛ سات سال تک حکومت کريں گے؛ اپنے عدل و انصاف سے دنيا کو معمور کرديں گے اور عيسي عليہ السلام آسمان سے اتر کر ان کي امامت ميں نماز ادا کريں گے"- (4)

 

حوالہ جات:

1- مسند احمد حنبل ج1ص99 و سنن ابن ماجہ ج2ص929-

2- فرهنگ فارسي معين، ج 5، ص 83-

3- («آخرين اميد»، ص 198، 203 و 229 – زندگاني 14 معصوم (ع)، ص 175)

4- حسين احمد مدني ـ "الخليفة المہدي في احاديث صحيحة" ص 3- تهذيب التهذيب ج9 ص123-

 

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی


متعلقہ تحریریں:

ظہور و قيامت کا انتظار!

انتظار کا مفہوم