• صارفین کی تعداد :
  • 4085
  • 11/10/2013
  • تاريخ :

امام سجاد (عليہ السلام) کي بامقصد اور اثر گذار سوگواري

امام سجاد (علیہ السلام) کی بامقصد اور اثر گذار سوگواری

 امام سجاد (عليہ السلام) شہدائے کربلا کي ياد زندہ رکھنے کے لئے مختلف مواقع پر اپنے عزيزوں کے لئے گريہ و بکاء کرتے تھے- امام (ع) کے آنسو لوگوں کے جذبات کو متحرک کرديتے تھے اور سننے اور ديکھنے والوں کے ذہنوں ميں شہدائے کربلا کي مظلوميت کا خاکہ بنا ديتے تھے- تحريک عاشورا کو جاري و ساري رکھنے ميں ان اشکوں کا بہت اہم کردار تھا اور آج بھي امام سجاد (ع) کي سنت پر عمل پيرا ہوکر مسلمانان عالم اس تحريک کو جاري رکھ رہے ہيں اور عزاداري اور سوگواري آج بھي کروڑوں شيدائي عزاداروں کے جذبات و احساسات کو حضرت اباعبداللہ الحسين (عليہ السلام) کي راہ و روش اور مقدس مشن سے جوڑنے کے سلسلے ميں اہم ترين سبب سمجھي جاتي ہے- پوچھا جاتا تھا کہ آپ (ع) کب تک عزادار رہيں گے تو آپ فرماتے تھے: مجھ پر ملامت نہ کرو؛ حضرت يعقوب بن اسحق بن ابراہيم (ع) پيغمبر تھے جن کے والد اور دادا بھي پيغمبر تھے؛ ان کے بارہ بيٹے تھے؛ جن ميں سے ايک کو خداوند متعال نے کچھ عرصے کے لئے ان کي نظروں سے اوجھل کرديا- اس وقتي جدائي کے غم سے يعقوب (ع) کے سر کے بال سفيد ہوئے، کمر خميدہ ہوئي اور ان کي آنکھوں کي روشني شدت گريہ کي وجہ سے ختم ہوئي جبکہ ان کا بيٹا اسي دنيا ميں زندہ تھا؛ جبکہ ميں نے اپني آنکھوں سے اپنے والد، بھائيوں اور خاندان کے سترہ افراد کو مظلومانہ قتل ہوتے ہوئے اور زمين پر گرتے ہوئے ديکھا- پس ميرا غم و اندوہ کيونکہ ختم ہوگا اور ميرا گريہ کيونکر رکے گا"- (1)

 

حوالہ جات:

1- اللہوف سيد بن طاووس، ص 380.

 

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی


متعلقہ تحریریں:

فتح يزيد کيسے شکست ميں تبديل ہوئي

امام سجاد (ع) اور رمضان کي آخري رات