• صارفین کی تعداد :
  • 3799
  • 12/11/2012
  • تاريخ :

فتح يزيد کيسے شکست ميں تبديل ہوئي

امام زين العابدين(ع)

محافظ کربلا امام سجاد عليہ السلام

يہ کوفہ ہے، يزيد کي منفي تبليغات کي وجہ سے لوگ اس انتظار ميں بيٹھے ہيں کہ معاذاللہ، دشمنان اسلام کے بچے کھچے افراد کواسيرکرکے لايا جا رہا ہے، لوگ يہ سمجھ رہے تھے کہ دشمن کوکربلا ميں فوج يزيد نے قتل کرديا ہے، خوشي کا سماں ہے، ابن زياد نے اپني ظاہري فتح کي خوشي ميں دربارکوسجا رکھا ہے، ابن زياد کا خيال يہ تھا کہ ان کے سامنے وہ لوگ ہيں جن کے سامنے سرتسليم خم کرنے کے علاوہ کچھ باقي نہيں بچا ہے، ليکن کوفہ کے بازار ميں جب حسين (ع) کي بہن اوربيٹے نے اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق لوگوں پرحقيقت کو روشن کيا تب جاکے ابن زياد کواحساس ہوا کہ روح حسين (ع) اس کي بہن اوربيٹے کے جسم ميں دوڑ رہي ہے اوراب بھي فرياد دے رہي ہے ”‌لااعطيکم بيدي اعطاء الذليل“ اب بھي حسين نعرہ دے رہے ہيں کہ ”‌مجھ جيسا يزيد جيسے کي بيعت نہيں کرسکتا ہے“-

انقلاب حسين (ع) کا پہلا مرحلہ يعني خون و شہادت کہ شہداء نے انجام ديا اورانقلاب حسين (ع) کا دوسرا مرحلہ يعني شہيدوں کا پيغام پہنچانا امام سجاد (ع) اورزينب (س) کي ذمہ داري ہے، بازارکوفہ کے اس مجمع پر يہ واضح کرنا ہے کہ جو قتل کيے گئے ہيں وہ کوئي اورنہيں اسي پيغمبرکي ذريت ہے جن کا لوگ کلمہ پڑھتے ہيں اور جو لوگ اسير کيے گيے ہيں وہ بھي نبي کي ذريت ہيں، امام سجاد (ع) کواس مجمع کے سامنے واضح کرنا ہے کہ حسين نواسہ رسول (ص) شہيد کئے گئے ہيں، ابن زياد اور يزيد کے مظالم بيان کرنا اوران کے چہرے سے نقاب اتارنا امام سجاد (ع) کي ذمہ داري ہے، امام نے کوفہ کے اس مجمع کويہ احساس بھي دلانا ہے کہ تم لوگوں نے جس امام کودعوت دي تھي کربلا ميں اس کو يک وتنہا کيوں چھوڑا، جب قافلہ اس بازارميں پہونچا تو پہلے علي کي بيٹي اور پھرامام سجاد (ع) نے خون حسين (ع) کا پيغام پہونچايا، آپ نے مجمع سے مخاطب ہوکرايک قدرتمند اورآزاد انسان کي طرح خاموش رہنے کو کہا اور فرمايا لوگوں! خاموش رہو، اس قيدي کي آواز سن کرسب لوگ خاموش اور پھرآپ فرماتے ہيں:

”‌لوگو! جوکوئي مجھے پہچانتا ہے پہچانتا ہے اور جو نہيں پہچانتا ہے وہ جان لے کہ ميں علي فرزند حسين ابن علي ابن ابي طالب (ع) ہوں، ميں اس کا بيٹا ہوں جس کي حرمت کو پامال کريا اور جس کا مال وسرمايہ لوٹا گيا ہے، اور جس کي اولاد کواسيرکيا گيا ہے، ميں اس کا بيٹا ہوں جس کا نہرفرات کے کنارے سرتن سے جدا کياگيا ہے، جب کہ نہ اس نے کسي پرظلم کياتھا اورنہ ہي کسي کودھوکا دياتھا… اے لوگوں، کيا تم نے ان کي بيعت نہيں کي؟ کيا تم وہي نہيں ہوجنہوں نے ان کے ساتھ خيانت کي؟ تم کتنے بدخصلت اور بدکردار ہو؟

اے لوگو! اگررسول خدا (ص) تم سے کہيں: تم نے ميرے بچوں کوقتل کيا، ميري حرمت کا پامال کيا، تم لوگ ميري امت نہيں ہو! تم کس منہ سے ان کا سامنا کرو گے؟

امام کے اس مختصرمگر دردمند اور دلسوزکلام نے مجمع ميں کہرام برپا کيا ہرطرف سے نالہ وشيون کي صدا بلند ہونے لگي، لوگ ايک دوسرے سے کہنے لگے لوگو ہم سب ہلاک ہوئے-

اور يوں وہ مجمع جو تماشا ديکھنے آيا تھا يزيداورابن زياد کا بغض وکينہ اوران کے ساتھ نفرت لے کر وہاں سے واپس گيا، اور تبليغات سوء کي وجہ سے پھيلنے والي اندھيري گھٹنے لگي-

تحرير: غلام حسين متو

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان