• صارفین کی تعداد :
  • 3470
  • 8/3/2013
  • تاريخ :

بڑے مفسروں کي رائے شب قدر کے بارے ميں

بڑے مفسروں کی رائے شب قدر کے بارے میں

کيا قبل از اسلام شب قدر تھي؟ (حصّہ اوّل)

مشہور سني مفسر "رشيدالدين ميبدي" کہتے ہيں: "بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ شب قدر رسول اللہ (ص) کے زمانے کے لغے مختص تھي اور آپ کے وصال کے بعد اس کا خاتمہ ہوا ليکن ايسا نہيں ہے کيونکہ اصحاب نبي (ص) اور علمائے اسلام کا اعتقاد ہے کہ شب قدر قيام قيامت تک باقي ہے"- (4)

شيعہ عالم و مفسر علامہ سيد محمد حسين طباطبائي رقمطراز ہيں:

"تفسير برہان ميں شيخ طوسي نے ابوذر سے روايت کي ہے: ميں نے رسول اللہ (ص) سے پوچھا: يا رسول اللہ (ص)! کيا شب قدر ايک رات ہے جو انبياء کے زمانے ميں تھي اور امر انبياء ہي پر نازل ہوتا تھا اور جب انبياء دنيا سے چلے جاتے تو شب قدر معطل ہوجايا کرتي تھي؟ رسول اللہ (ص) نے فرمايا: نہيں بلکہ شب قدر قيامت تک باقي ہے"- (5)

اس مقام پر ايک تعليم حضرت امام محمد تقي الجواد (ع) سے وارد ہوئي ہے جس کا خلاصہ کچھ يوں ہے: "خداوند متعال نے شب قدر  کو اس عالم کي خلقت کي ابتداء ہي ميں خلق فرمايا اور اس ميں نبي اولين کو ـ جو آئيں گے ـ خلق فرمايا اور اولين وصي کو خلق فرمايا ـ جو آئيں گےـ اور مقرر فرمايا کہ يہ شب ہر سال ہو اور اس رات کو امور کي تفسير اتاري جاتي رہے"-

بے شک انبياء (ع) شب قدر کے ساتھ انس و ارتباط رکھتے تھے؛ ان کے بعد حجت خدا کا موجود ہونا ضروري ہے کيونکہ زمين اپني خلقت کے پہلے روز سے ہي کبھي حجت سے  خالي نہ تھي اور خالي نہ رہے گي- خداوند متعال شب قدر، مقدرات کو اس شخص کے پاس بھجواتا ہے جس کا اس ذات بےبديل نے ارادہ فرمايا ہے، يعني "وصي اور حجت"- خدا کي قسم! روح اور فرشتے شب قدر، آدم (ع) پر نازل ہوا کرتے تھے اور مقدرات امور انہيں پيش کرتے تھے اور دنيا سے نہيں اٹھے مگر يہ کہ انھوں نے اپنے بعد وصي اور جانشين مقرر کيا- آدم (ع) کے بعد آنے والے انبياء (ع) ميں سے ہر ايک پر شب قدر مقدرات خداوندي کا نزول ہوتا تھا اور ہر پيغمبر يہ عہدہ اپنے وصي اور جانشين کے سپرد کرتا تھا- --- (6)

 

حوالہ جات:

4-  كشف الاسرار، ج 10، ص 559-

5-  رجوع کريں: ج 20، ص 473-

6-  اصول كافى، ج 1، كتاب الحجة، باب فى شأن انا انزلناه فى ليلة اقدر، ح 7، اس جواب کي تحرير ميں استاد محمدرضاحکيمي کے مکتوب سے استفادہ کيا گيا ہے- نشريه كيهان 7/ 10/ 78-

 

 

ترجمہ: محمد حسین حسینی


متعلقہ تحریریں:

روزہ کي اہميت اور فضيلت کے بارے ميں چند احاديث

روزہ، روح لطيف اور عزم صميم