• صارفین کی تعداد :
  • 2073
  • 7/23/2013
  • تاريخ :

روزہ، روح لطيف اور عزم صميم

روزہ، روح لطیف اور عزم صمیم

روزے دنيا کے آسماني اديان ميں ہي نہيں، مشرقي فلسفي اديان ميں بھي پائے جاتے ہيں اور جديد سائنس تو اب روزوں کو بعض بيماريوں کے نسخے طور پر تجويز کرتي ہے-

روزہ مختلف پہلوۆں کا حامل ہے اور مادي اور معنوي لحاظ سے انسان کے وجود پر بہت زيادہ اثرات مرتب کرتا ہے جن ميں سب سے اہم اس کا "اخلاقي پہلو اور تربيتي فلسفہ" ہے-

روزے کے تربيتي اثرات

روح کو لطافت بخشنا

انساني روح ہر وقت اس کے جسم کي تدبير و انتظام ميں مصروف عمل ہے اور بدن روح کي تدبير کے بغير اس کشتي کي طرح ہے جس کا ناخدا و کشتي بان نہ ہو- ماہ رمضان ميں کھانے اور پينے سے پرہيز و امساک ـ اور خورد و نوش کو خاص اوقات تک محدود کرنے نيز حواس (منجملہ آنکھوں، کانوں اور ذہن ميں اطلاعات و معلومات کے داخلے کے تمام ذرائع) کو قابو ميں رکھنے کي وجہ سے روح و نفس کي فراغت ميں اضافہ ہوتا ہے- مادي اور دنياوي امور کے اہتمام کے حوالے سے روح کي فعاليت ميں کمي واقع ہوتي ہے- نتيجے کے طور پر انساني روح کي لطافت اور شفافيت بھي بڑھ جاتي ہے-

عزم و ارادے کي تقويت

خداوند متعال نے روزوں کا پروگرام اس طرح سے مرتب کيا ہے کہ انسان کو خاص اور معينہ اوقات ميں کھانے اور پينے سے پرہيز کرنا پڑتا ہے اور خاص اوقات ميں آزادانہ طور پر کھا اور پي سکتا ہے اور حلال لذتوں سے استفادہ کرسکتا ہے-

اس پروگرام پر صحيح اور دقيق عمل اور ايک مہينے کے دوران اس کو مسلسل دہرانا، بہت ہي مناسب تمرين ہے کہ انسان اپنے نفس کو ايسے امور کا عادي بنائے جو ان امور سے مختلف ہيں جن کا وہ دوسرے مہينوں ميں عادي تھا- اور يہ امر انسان کے عزم و ارادے کو تقويت پہنچاتا ہے-

 

ترجمہ و تحریر: محمد حسین حسینی

منبع: ويژه ماه مبارك رمضان؛ گروه مۆلفان؛ نهاد نمايندگي مقام معظم رهبري در دانشگاه ها


متعلقہ تحریریں:

روزہ، ايثار اور انسان دوستي

روزہ کي اہميت اور فضيلت کے بارے ميں چند احاديث