• صارفین کی تعداد :
  • 2233
  • 8/1/2013
  • تاريخ :

رسول اللہ (ص) سے حاجات مانگنا

رسول اللہ (ص) سے حاجات مانگنا

رسول اللہ (ص) اور صالحين سے تبرک و توسل (حصّہ اوّل)

رسول اللہ (ص) اور صالحين سے تبرک و توسل (حصّہ دوّم)

تابعين ميں سے ابن منكدر (متوفٰى سنہ 130 ہجري) اپنے اصحاب کے ساتھ بيٹھا کرتے تھے اور کبھي ان پر پياس کا غلبہ ہوتا تھا چنانچہ وہ اپنے ساتھيوں کے اعتراض کے باوجود جاکر اپنا چہرہ قبر رسول (ص) پر رکھا کرتے تھے اور ساتھيوں سے کہتے تھے ميں قبر نبي (ص) سے شفا حاصل کرتا ہوں- وہ کبھي مسجد کے صحن ميں آتے تھے اور ايک خاص مقام پر زمين پر ليٹ جاتے تھے، اور جب وجہ پوچھي جاتي تھي تو کہہ ديتے تھے کہ "ميں نے خود ديکھا کہ رسول اللہ (ص) اس مقام پر سوئے ہوئے تھے"- (1)

سنن دارمي اور سمہودي کي کتاب وفاء الوفاء ميں اوس بن عبداللہ سے مروي ہے: "اہليان مدينہ شديد قحط سے دوچار ہوئے اور سب نے جاکر ام المۆمنين عائشہ سے شکوہ کيا تو عائشہ نے کہا: رسول اللہ (ص) کي قبر شريف کي طرف جاۆ اور اس کي چھت ميں آسمان کي طرف ايک دريچہ کھولو جہاں چھت نہ ہو-

راوي کہتا ہے کہ لوگوں نے ايسا ہي کيا؛ جس کے بعد ہم پر ايسي موسلادھار بارش ہوئي کہ پودے نباتات دوبارہ اگے اور اونٹ موٹے تازہ ہوئے"- (2)

سمہودي نقل کرتا ہے: "عبداللہ بن عمر اپنا داياں ہاتھ اور بلال اپنا چہرہ رسول اللہ (صلي اللہ عليہ و آلہ) کي قبر شريف پر رکھتے تھے" اور پھر عبداللہ بن احمد بن حنبل سے نقل کرتے ہيں: "ان کا يہ عمل شدت تعظيم و احترام کي وجہ سے تھا چنانچہ تعظيم و احترام ميں کوئي حرج نہيں ہے- (3) (ختم ہوا)

 

حوالہ جات:

1- تاريخ طبرى، ج 1 ص 161 و 169 - معجم البلدان، ج 3 ص 208-

2- سنن دارمي، ج 1، ص 44-43؛ وفاء الوفاء، ج 2، ص 549-

3- وفاء الوفاء، ج 4، ص 1405-

 

ترجمہ و تحریر: محمد حسین حسینی


متعلقہ تحریریں:

جناب زينبِ کبريٰ کا خطبہ دربارِ يزيد ميں

مدينہ ميں امام رضا عليہ السلام کي والدہ ماجدہ کا گھر