• صارفین کی تعداد :
  • 2191
  • 6/5/2013
  • تاريخ :

خاص ہے ترکيب ميں قومِ رسولِ ھاشمي

امام مہدي (عج)

ظہور مہدي (ع) کا عقيدہ اسلامي عقيدہ ہے (حصہ اوّل)

ظہور مہدي (ع) کا عقيدہ اسلامي عقيدہ ہے (حصہ دوّم)

ظہور مہدي (ع) کا عقيدہ اسلامي عقيدہ ہے (حصہ سوم)

ظہور مہدي (ع) کا عقيدہ اسلامي عقيدہ ہے (حصہ چہارم)

ظہور مہدي (ع) کا عقيدہ اسلامي عقيدہ ہے (حصہ پنجم)

بہت سے مشرقي افراد مغرب سے علم و ٹيکنالوجي سيکھنے کے بجائے مغرب کي اندھي تقليد کو ہي اپنا شيوہ بنا ليتے ہيں، کيا ہي اچھا ہوتا کہ اقوام مشرق ،مغرب پرست ہونے کے بجائے علم و صنعت و ٹکنالوجي حاصل کرکے اپني زمين، معدنيات، سمندر، ہوا کے خود ہي مالک ہوتے... يہ لوگ اتنے مغرب زدہ اور مغرب پرست ہوتے ہيں کہ ان ميں اتني بھي ہمت نہيں ہوتي کہ ٹائي وغيرہ کي بجائے اپنا قومي لباس پہن کر ان کے پروگرام ميں شرکت کريں -

ايسے سربراہانِ مملکت بھي ہيں جو اہل مغرب کے رنگ ميں رنگے ہوئے ہيں، انہيں احساس ہي نہيں ہے کہ احساس کمتري کتني بڑي لعنت ہے اور عزت نفس کتنا بڑا سرمايہ...

کرتے جيسے ہندوستان کے سابق صدرڈاکٹر ذاکر حسين يا حجاز ،مراکش اور بعض ديگر ممالک کے سربراہ بھي بين الاقوامي کانفرنسوں ميں اپنا قومي لباس پہن کر شريک ہوتے رہے، جب کہ اکثريت کتنا محترم ہے وہ مسلم سربراہ جس کے اعزاز ميں اگر مغربي سربراہانِ مملکت دعوت کرتے ہيںتو دسترخوان پر شراب نہيں ہوتي، کتنا قابل فخر ہے وہ سربراہ جو ماسکو ميں کميونسٹ حکومت کا مہمان ہونے کے باوجود نماز ادا کرنے کے لئے مسجد کا رخ کرتا ہے، کتنا باعظمت و شرافت ہے وہ سربراہ جو امريکا ميں بھي چرچ ميں داخل نہيں ہوتا اور سودي قرض سے پرہيز کرتا ہے، کتنا عظيم مرد آہن ہے وہ مسلمان کہ جو اقوام متحدہ کي کانفرنس ميں اپني تقرير کا آغاز ''بسم اللہ الرحمٰن الرحيم'' سے کرتا ہے-

کتني پست اور حقير ہے وہ مسلمان قوم جو قرآن پر تو فخر کرتي ہے نماز ميں روزانہ بيس مرتبہ ''بسم اللہ الرحمٰن الرحيم'' کہتي ہے مگر اس کي کتابوں کے سر ورق سے يہ نوراني جملہ غائب ہے، کتنے ذليل و خوار ہيں وہ لوگ جو اغيار کي روش اختيار کرتے ہيں کتني حقير ہے وہ قوم جو اپني مذہبي اور قومي روش اورلباس کو چھوڑ کر اپنے پروگراموں ميں دوسروں کا لباس اور طور طريقہ اختيار کرتي ہے اور جس کے مرد و زن اپني شخصيت اور اعتماد نفس سے محروم ہيں-

 اندلس کي نام نہاد اسلامي حکومت نے کفار اور اغيار سے اسلامي اصولوں کے برخلاف ايسے معاہدے کئے کہ اس کے نتيجہ ميں عيسائيت کے لئے دروازے کھل گئے- فحشاء و فساد اور شراب نوشي سے پابندي ختم ہو گئي عيسائيوں کي طرح سے مرد و عورت آپس ميں مخلوط ہو گئے راتوں کو عيش و عشرت، مردوں اور عورتوں کے مشترکہ پروگرام، رقص و سرور ، ساز و موسيقي نے اسلامي غيرت و حميت کا خاتمہ کرديا - غير ملکي مشيران اسلامي حکومت کے معاملات ميں دخل اندازي کرنے لگے اور آخر کاراسلامي اندلس ايک عيسائي مملکت ميں تبديل ہو گيا اور اسلامي علم و تمدن کا آفتاب اس سرزمين پر اس طرح غروب ہوا کہ آج اسلامي حکومت کے زرين دور کي مساجد، محلّات اور ديگر عاليشان عمارتوں جيسي يادگاروں کے علاوہ کچھ بھي باقي نہ رہا- البتہ يہ تاريخي اور يادگار تعميرات آج بھي اپني مثال آپ اور اس مملکت کے عہد زريں کے علم و صنعت کا شاہکار ہيں- خدا کي لعنت ہو فحشاء و فساد، ہوس اقتدار اور نفاق پرور ايسے ضمير فروش اور اغيار پرست حکام پر...(ختم شد)

بشکريہ مھدي مشن ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

بصيرت و فکري رشد

امام حسين (ع) اور امام مھدي (عج) کے اصحاب کي ممتاز صفات!