• صارفین کی تعداد :
  • 5349
  • 4/12/2013
  • تاريخ :

آدمي زاد: ميں جانوروں کي نگہداشت کرتا ہوں  

جنگل

شير نے گائے سے پوچھا کيا تو آدمي زاد ہے؟

شير نے گدھے سے پوچھا کيا تو آدمي زاد کے سينگ ہے؟

شير نے گھوڑے سے پوچھا تو کون ہے؟

کيا يہ بے سر وپا سي مخلوق آدمي زاد ہے؟!

مرد بولا: " آپ کي جان عزيز کي قسم يقين کريں ان لوگوں نے آپ کے کان بھرے ہيں- يہ تمام ہاتھي حال آں کہ معمولي اور گندے جسم کے حيوان ہيں، ليکن انھيں ميري محبت کا ممنون ہونا چاہيئے- ہم اس جنگلي وحشي حيوان کو شہر لاتے ہيں اور انسانوں سے متعارف کراتے ہيں، اسے کھانے کو گھاس ديتے ہيں- چڑيا گھر ميں اس کي پذيرائي کرتے ہيں- اس طرح اونٹ کي ہم نگہداشت کرتے ہيں، اسے خوراک کھلاتے ہيں، اسي طرح اونٹ کي ہم نگہداشت کرتے ہيں، اسے خوراک کھلاتے ہيں، اس کے ليے گھر بناتے ہيں- اگر اس کے جسم کي اون بڑھ جائے تو اس سے کيا فائدہ؟ ہم اس کي اون سے بے لباسوں کے ليے لباس تيار کرتے ہيں- گھوڑے کے ليے ہم سہنري اور روپہلي زين اور لگام تيار کرتے ہيں اور اسے دلھن کي طرح سجاتے ہيں- علاوہ از ايں ہم کسي پر جبر کرکے اس سے کام نہيں ليتے- ہم گائے، گدھے کو صحرا ميں لے جاتے ہيں اور انھيں آزاد چھوڑ ديتے ہيں ليکن وہ خود ہي سيدھي سبھاۆ لوٹ آتے ہيں اور اپنے طويلے ميں چلے جاتے ہيں- اگر کوئي راضي نہ ہو تو کيوں لوٹے گا؟ آپ نے ان کي باتيں تنہائي ميں سني ہيں اور مشہور ہے کہ کوئي اکيلا قاضي کے حضور جائے، خوش ہوتا ہے- وہ عزيز تو اس وقت يہاں  نہيں ہيں، ہاں ايک گھوڑا ہے، حکم ہو تو اسے يہاں لا کر آزاد کروں- اگر وہ جنگل جائے تو کچھ آپ فرماتے ہيں، ميں اسے درست ماں لوں گا- آپ ملاحظہ فرمائيں کہ ہم کبھي شير اور چيتے پر بوجھ نہيں لادتے کيوں کہ وہ خود اس پر آمادہ نہيں- ہم کسي کو مجبور نہيں کرتے- کيا آپ يقين کر سکتے ہيں کہ ہم اس کمزور اور ناتوان جسم کے ساتھ ہاتھي کے تن و توش ايسے جانور کو اذيت پہنچانے کے قابل ہيں؟ ----

ميں کہ اس کے ايک مکے کي تاب نہيں لا سکتا!"

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان