• صارفین کی تعداد :
  • 5171
  • 4/12/2013
  • تاريخ :

شير نے گائے سے پوچھا کيا تو آدمي زاد ہے؟

شیر اور گائے

شير اور آدمي زاد

شير نے ہاتھي اور اونٹ سے پوچھا کيا تو آدمي زاد ہے؟

شير پھر آگے بڑھا حتي کہ رستے ميں اسے ايک گائے ملے- اس نے اپنے دل ميں کہا: ہو نہ ہو يہ مخلوق جس کے سر پر سينگ ہيں، ضرور آدمي زاد ہے- وہ آگے بڑھا اور اس سے سوال کيا: " کيا تو آدمي کے خاندان سے ہے؟"

گائے بولي: " ميں قربان! نہيں، آدميوں کے سينگ نہيں ہوتے- ميں گائے ہوں کہ آدمي زاد کے ہاتھوں سخت تنگ ہو رہي ہوں- نہيں جانتي شکايت کس سے کروں؟ يہ لوگ ہميں پکڑ ليتے ہيں، راتوں کو طويلے ميں باندھ ديتے ہيں- صبح کو کھيتوں ميں ہانک کر لے جاتے ہيں اور ہم مجبور ہيں کہ ان کي زمين ہل چلائيں، ان کي گندم گاہيں اور کواھو چلا کر تيل نکاليں- مزيد يہ کہ دودھ بھي ديں اور آخر کار ہميں ذبح کر ديتے ہيں اور ہمارا گوشت کھا جاتے ہيں-"

شير بولا:" ہاں، ميں سب جانتا تھا، ليکن ميں سوچتا تھا کہيں ايسا نہ ہو کسي وقت تو آدمي کا روپ دھار لے اور چھوٹے چھوٹے حيوانوں کو ڈراتي پھرے- يہ بے چارے بندر اور گيڈر ان پڑھ ہيں اور آدمي زاد سے ڈرتے ہيں-" گائے بولي: " ميں قربان جاۆ ں، ہرگز نہيں- اصل قصہ يہ ہے کہ ميں ان سينگوں سے ---- "

شير بولا: " بہت خوب زيادہ باتيں نہ بنا، اپنے کام سے کام رکھ-"

شير نے اپنے دل ميں کہا:" چلو يہ تو پتا چلا کہ آدمي زاد کے سينگ نہيں ہوتے اور اب تک ميري معلومات ميں ايک چيز کا اضافہ ہوا-"

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان