• صارفین کی تعداد :
  • 2579
  • 4/12/2013
  • تاريخ :

فارس اور شيراز کا حال

فارس اور شيراز کا حال

ايران کے جنوب مغربي حصے ميں خليج فارس کے کنارے پر پارس ايک خطہ ہے جس کو عرب فارس کہتے ہيں قديم زمانے ميں تمام ايران کو پارس کہتے تھے ليکن اب خاص اس حصے کو پارس کہا جاتا ہے- اس چھوٹي سي ولايت ميں بہت سي قدرتي اور قديم مصنوعي چيزيں ايسي ہيں کہ اس کو دنيا کا نمونہ کہا جا سکتا ہے- تقريبا آدھا ملک پہاڑي اور آدھا ميداني ہے اور جنوبي حد پر سمندر يعني خليج فارس ہے- اکثر صحرا سرسبز و شاداب ہيں- جا بجا چشمے اور ندياں جاري ہيں- عرب کے لوگ يہ سمجھتے تھے کہ دنيا ميں چار تفريح گاہيں ايسي ہيں جن کا کہيں نظير نہيں- صغد سمرقند، غوطہ دمشق، نہر ابلہ اور شعب بوان- اتابک ابوبکر بن سعد زنگي جس کے عہد حکومت ميں شيخ نے گلستان لکھي ہے ہميشہ فخر سے کہا کرتا تھا کہ ميرے ملک ميں دو چيزيں ايسي ہيں جو خوف اور اطمينان کي حالت ميں بادشاہوں کے ليے ناگزير ہيں- خوف کي حالت ميں قلعہ سفيد اور اطمينان کي حالت ميں نزہت گاہ شعب بوان- اکثر شعراے عرب نے اس قطعے کي تعريف ميں قصيدے لکھے ہيں- جن ميں سے سلامي شاعر کا قصيدہ جو عضد الدولہ ويلمي کي فرمائش پر لکھا گيا تھا بہت مشہور ہے- ايک اور شاعر کہتا ہے:

اذا اشرف المحزون من راس قلعة

علي شعب بوان استراج من الکرب

ترجمہ:

جب غمگين آدمي قلعے پر سے شعب بوان کي فضا کو ديکھتا ہے تو اس کي تمام کلفيتں دور ہوجاتي ہيں-

فارس کے ميوے عراق عجم ميں جاتے ہيں- گرم پاني کے چشمے اور مفيد کانيں فارس ميں موجود ہيں- فارس کے آثار قديمہ دنيا کے ان عجائب ميں سے ہيں جن کو اگلے زمانے کے لوگ جن اور پري کے کام سمجھتے تھے- جيسے تخت جمشيد، نقش شاپور، دخمہ فريدون اور خانہ زردشت- ان کا مفصل حال ايران کي انگريزي تاريخوں ميں مذکور ہے- انہيں آثار قديمہ کي نسبت عرفي شيرازي نے کہا ہے:

از نقش و نگار در و ديوار شکستہ

آثار پديدست صنا ديد عجم را 

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

پہاڑ کے درميان " باغ دلگشا "