• صارفین کی تعداد :
  • 2587
  • 4/12/2013
  • تاريخ :

عورت کي مغربي حيثيت

عورت کي مغربي حيثيت

خواتين کي آزادي کي وجہ

عورت  کي اصل حيثيت وہ نہيں ہے جو مغرب نے اسے دي ہے -  عورت کے بغير اس کائنات ميں رونق باقي نہيں رہتي ہے اور معاشرے کي تشکيل عورت کے بغير ناممکن سي نظر آتي ہے -  شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ عليہ اس بارے ميں کہتے ہيں کہ

وجودِ زن سے ہے تصوير کائنات ميں رنگ

اسي کے ساز سے ہے زندگي کا سوز دروں

مکالمات افلاطون نہ لکھ سکي ليکن

اسي کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطون

(ضربِ کليم)

تصويرِکائنات ميں رنگ بھرنے والي ہستي نے صرف شرار افلاطون ہي کو جنم نہيں ديا اور نہ فقط اس شرار سے افلاطون کا فلسفہ و حکمت ہي وجود ميں آيا بلکہ علوم و فنون کے کم و بيش تمام چشمے يہيں سے پھوٹتے رہے ہيں- عصر حاضر کي جديد علمي تہذيب نے اسے ايک اٹل حقيقت تسليم کر ليا ہے-

اسلام نے عورت کو زندگي کے ہر شعبے ميں عزت اور وقار بخشا ہے - ايران  ميں جب ہم عورت کي تاريخ پر نظر ڈالتے ہيں تو ہميں يہ واضح طور پر احساس ہونے لگتا ہے کہ  ماضي ميں ايراني معاشرہ بھي يورپ کے نقش قدم پر چل رہا تھا -   پہلوي دور حکومت  اور آج کے دور کي عورت ميں بہت فرق ہے -   ايران ميں اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد عورت کو اس کا اصل مقام حاصل ہوا -  اسلامي انقلاب سے قبل  عورت کے پاس عزت ، وقار ، حجاب يا پاکيزگي کچھ بھي نہيں تھا - آج ايراني معاشرے ميں خواتين کي حالت بہت بہتر ہو چکي ہے   مگر يقينا اس بات ميں کوئي شک نہيں ہے کہ ہميں اسے مزيد بہتر بنانے کي ضرورت ہے -  اسلامي انقلاب سے پہلے ہماري  خواتين کي حالت مغربي ممالک سے  کچھ  زيادہ مختلف نہ تھي - انقلاب سے پہلے کے دور کو ديکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ  اس وقت ہمارا معاشرہ تباہي کي طرف بڑھ رہا تھا  کيونکہ ہمارے ملک کي عورت يورپي خواتين کي پيروي کرنے کي کوشش ميں مصروف تھيں بلکہ بعض حالات ميں وہ ان سے دو قدم آگے تھيں  مگر اسلامي انقلاب کي روشني سے ہمارے معاشرے کي خواتين ميں مثبت تبديلياں رونما ہوئي ہيں جن کي بدولت ايراني خواتين نے اسلامي روايات اور ثقافت کے زير اثر رہ کر زندگي کے ہر ميدان ميں  اپني قابليت کا لوہا مناتے ہوۓ ، کاميابي کي منازل طے کي ہيں  -

تحرير :  سيدہ عروج فاطمہ

پيشکش :  شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان