• صارفین کی تعداد :
  • 3741
  • 12/31/2012
  • تاريخ :

رسول اللہ کے اخلاق حسنہ (نرم دلي و رواداري)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

رسول اللہ کے اخلاق حسنہ (رحمۃ للعالمين)

رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي بے نظير اخلاقي صفات ميں ايک نرم دلي اور رواداري ہے- آپ بدو عربوں يہاں تک کہ کينہ پرور دشمنوں کي درشت خوئي، بے ادبي اور جايلت پر نرمي اور رواداري سے پيش آتے تھے- آپ کي اس صفت نے بے شمار لوگوں کو اسلام کي طرف مائل کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کا گرويدہ بھي بنا ديا-

حضرت علي عليہ السلام فرماتے ہيں بلين الجانب تانس القلوب"نرمي اور (مريباني) سے ہي لوگ مانوس ہوتے ہيں- (غررالحکم ج 2 ص 411 )

( رسول اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم سے روايت ہے کہ وعليکم بالاناءۃ واللين والتسرع من سلاح الشيطان وما من شئي احب الي اللہ من الاناءۃ واللين-

تمہيں نرمي اور رواداري اختيار کرني چاہيے ،اور ايک دوسرے کے ساتھ پيش آنے ميں جلد بازي شيطان کا کام ہے اور خدا کے نزديک نرمي اور رواداري سے پسنديدہ اخلاق اور کوئي نہيں ہے- (علل الشرايع ج 2 ص210)

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے روايت ہے کہ ان العلم خليل المومن ، والحلم وزيرہ

بے شک علم مومن کاسچا دوست ہے حلم اس کا وزير ہے صبر اسکي فوج کا امير ہے دوستي اس کا بھائي ہے نرمي اس کا باپ ہے- (مجلسي ج 78 ص 244)

رسول اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي نرم خوئي اور رواداري خدا کي خاص عنايت و لطف ميں ہے اسي صفت کي وجہ سے لوگ آپ کي طرف کھنچے چلے آتے تھے- سورہ مبارکہ آل عمران ميں آپ کي ان ہي صفات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہو رہا ہے "فبمارحمۃ من اللہ لنت لھم ولوکنت فظا غليظا القلب لانفضوامن حولک فا‏عف عنھم واستغفرلھم- پيغمبر اللہ کي مہرباني ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے نرم ہو ورنہ اگر تم بدمزاج اور سخت دل ہوتے تو يہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے لہذا اب انہيں معاف کر دو اور ان کے لئے استعفار کرو-(آل عمران 150)

رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي نرم مزاجي اور رواداري کے بارے ميں دو واقعات ملاحظہ فرمائيں-

محدث قمي نے سفينہ البحار ميں انس بن مالک سے روايت کي ہے کہ انس بن مالک کہتے ہيں کہ ميں رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کے پاس تھا آپ ايک عبا اوڑھے ہوئے تھے جس کے کنارے موٹے تھے ايک عرب آتا ہے اور آپ کي عبا کو پکڑ کر زور سے کھينچتا ہے جس سے آپ کي گردن پر خراش پڑ جاتے ہيں اور آپ سے کہتا ہے کہ اے محمد ميرے ان دونوں اونٹوں پر خدا کے اس مال ميں سے جو تمہارے پاس ہے لاد دو کيونکہ وہ نہ تو تمہارا مال ہے اور نہ تمہارے باپ کا- رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم مرد عرب کي يہ بات سنکرخاموش رہے اور فرمايا المال مال اللہ وانا عبدہ- سارا مال خدا کا ہے اور ميں خدا کا بندہ ہوں- اس کے بعد فرمايا اے مرد عرب تو نے جو ميرے ساتھ کيا ہے کيا اسکي تلافي چاہتا ہے ؟ اس نے کہا نہيں کيونکہ تم ان ميں سے نہيں ہو جو برائي کا بدلہ برائي سے ديتے ہيں- آنحضرت يہ سنکر ہنس پڑے اور فرمايا مرد عرب کے ايک اونٹ پر جو اور دوسرے پر خرما لاد ديا جائے- اسکے بعد اسے روانہ کر ديا- (سفينہ البحار باب خلق)

1- شيخ صدوق نے اپني کتاب امالي ميں ساتويں امام عليہ السلام کے واسطے سے حضرت امير المومنين علي عليہ السلام سے روايت کي ہے کہ رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم پر ايک مرد يہودي کي چند اشرفياں قرض تھيں ، يہودي نے آنحضرت سے قرضہ طلب کر ليا- آپ نے فرمايا ميرے پاس تمھيں دينے کو کچھ بھي نہيں ہے- يہودي نے کہا ميں اپنا پيسہ ليئے بغير آپ کو جانے نہيں دونگا- رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے فرمايا اگرايسا ہے تو ميں تيرے پاس ہي بيٹھا رہوں گا، آپ اس مرد يہودي کے پاس بيٹھ گئے اور اس دن کي نمازيں وہيں ادا کيں- جب آپ کے صحابہ کو واقعے کا علم ہوا تو يہودي کے پاس آئے اور اسے ڈرانے دھمکانے لگے- آپ نے صحابہ کو منع فرمايا اصحاب نے کہا اس يہودي نے آپ کو قيدي بنا ليا ہے اس کے جواب ميں آپ نے فرمايا لم پبعثني ربي بان اظلم معاھدا ولاغيرہ- خدا نے مجھے نبي بنا کر نہيں بھيجا تاکہ ميں ہم پيمان کافر يا کسي اور پر ظلم کروں- دوسرے دن مرد يہودي اسلام لے آيا اس نے شہادتين جاري کيں اور کہا کہ ميں نے اپنا نصف مال راہ خدا ميں ديديا خدا کي قسم ميں نے يہ کام نہيں کيا مگر يہ کہ ميں نے توريت ميں آپ کي صفات اور تعريف پڑھي ہے توريت ميں آپ کے بارے ميں اس طرح ملتا ہے کہ محمد بن عبداللہ مولدہ بمکہ و مہجرہ بطيبہ وليس بفظ ولاغليظ و بسخاب و لا متزين بفحش ولاقول الخناء وانا اشھدان لا الہ الا ا للہ وانک رسول اللہ وھذا مالي فاحکم فيہ بما ا نزل اللہ- محمد ابن عبداللہ جس کي جائے پيدائش مکہ ہے اور جو ہجرت کر کے مدينے آئے گا نہ سخت دل ہے نہ تند خو ،کسي سے چيخ کر بات نہيں کرتے اور نہ ان کي زبان فحش اور بيہودہ گوئي سے آلودہ ہے ،ميں گواہي ديتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئي معبود نہيں ہے اور آپ اس کے رسول ہيں اور يہ ميرا مال ہے جو ميں نے آپ کے اختيار ميں ديديا اب آپ اس کے بارے ميں خدا کے حکم کے مطابق فيصلہ کريں-

سورہ توبہ ميں رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي تعريف ميں ارشاد ہوتا ہے لقد جاء کم رسول من انفسکم عزيزعليہ ماعنتم حريص عليکم بالمومنين رۆف رحيم- فان تولوا فقل حسبي اللہ لا الہ الا اللہ ہو عليہ توکلت و ہورب العرش العظيم-

يقيناً تمہارے پاس وہ پيغمبر آيا ہے جو تمہيں ميں سے ہے اور اس پر تمہاري ہر مصيبت شاق ہوتي ہے ، وہ تمہاري ہدايت کے لئے حرص رکھتا ہے اور مومنين کے حال پر شفيق و مہربان ہے اب اس کے بعد بھي يہ لوگ منہ پھير ليں تو کہ ديجئے کہ ميرے لئے خدا کافي ہے اس کے علاوہ کوئي خدا نہيں ہے ميرا اعتقاد اسي پر ہے اور وہي عرش اعظم کا پروردگار ہے-

بشکريہ الحسنين ڈاٹ کام

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان