• صارفین کی تعداد :
  • 2703
  • 12/2/2012
  • تاريخ :

رسول اللہ کے اخلاق حسنہ (رحمۃ للعالمين)

رسول اللہ کے اخلاق حسنہ

ہجرت کا آٹھواں سال اسلام و مسلمين کے لئے افتخارات اور کاميابيوں کا سال تھا اسي سال مسلمانوں نے مشرکين کے سب سے بڑے اڈے يعني مکہ مکرمہ کو فتح کيا تھا-

اس کے بعد اسلام سارے جزيرۃ العرب ميں بڑي تيزي سے پھيل گيا-

فتح مکہ کے دن لشکر اسلام کو چار حصوں ميں تقسيم کيا گيا تھا مسلمان چاروں طرف سے خانہ کعبہ تک پہنچ گئے تھے- رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم غسل کرنے کے بعد اپنے خيمے سے باہر تشريف لائے اور اونٹ پر بيٹھ کرمسجد الحرام کي طرف روانہ ہوئے- شہر مکہ جہاں ايک دن رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي ندائے حق اور دعوت الہي کو دبانے کے لئے تمام وسائل و ذرائع سے کام ليا گيا تھا آج اس پر عجيب خاموشي اور خوف چھايا ہوا ہے اور لوگ اپنے گھروں ، دروازوں کے شارفوں اور کچھ لوگ پہاڑ کي چوٹيوں پر سے عبدالمطلب کے پوتے کي عظمت و جلالت کا مشاہدہ کر رہے ہيں- آپ خانہ کعبہ تک پہنچ گئے لشکر اسلام اپنے آسماني رہبر کي قيادت ميں طواف کرنے کو بے چين تھا لوگوں نے آپ کے لئے راستہ کھولا- رسول اللہ کے اونٹ کي حمار محمد بن مسلمہ کے ہاتھ ميں تھي- آپ نے اس عالم ميں طواف کيا حجراسود کو بوسہ دينے کے بعد خانہ کعبہ کي ديواروں پر لٹکے ہوئے بتوں کو نيچے گرايا اور حضرت علي عليہ السلام کو حکم ديا کہ آپ کے شانہ ہائے مبارک پر کھڑے ہو کر بتوں کو نيچے پھينکيں- سيرہ حلبيہ اور فريقين کي بہت سي کتابوں ميں وارد ہوا ہے کہ لوگوں نے حضرت علي عليہ السلام سے پوچھا کہ جب آپ آنحضرت کے شانے پر کھڑے ہوئے تھے تو کيسامحسوس کر رہے تھے ؟ آپ نے فرمايا ميں يہ محسوس کر رہا تھا کہ ميں ستارہ ثريا کو چھوسکتا ہوں- اس کے بعد آپ ص نے کليد دار کعبہ عثمان طلحہ کو کعبے کا دروازہ کھولنے کا حکم ديا کعبے ميں داخل ہوئے اور مشرکين نے پيغمبروں اور فرشتوں کي جو تصويريں بنا کر ديواروں سے آويزاں کر رکھي تھيں انہيں اپني عصا سے نيچے گرايا اور اس آيت کي تلاوت فرمائي-

قل جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زہوقا "اور کہہ ديجئے کہ حق آگيا اور باطل فنا ہو گيا کہ باطل بہرحال فنا ہونے والا ہے- (اسراء 81)

مشرکين مکہ صناديد قريش اور ان کے خطباء و شعرا جيسے ابوسفيان ، سہبل بن عمرو اور ديگر افراد خانہ کعبہ کے کنارے سرجھکاے کھڑے تھے- شايد يہ لوگ سوچ رہے ہونگے رسول اللہ نے مکہ فتح کر ليا ہے ، اب وہ کس طرح سے ان کي اذيتوں ، تہمتوں اور تمسخر و افتراءت کا بدلہ ليں گے ؟ اور ان کے بارے ميں کيا فيصلہ کريں گے !

جن لوگوں نے ابھي تک رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کو نبي و پيغمبر الہي کي حيثيت سے تسليم نہيں کيا تھا اور آپ کي بزرگواري اور کريمانہ اخلاق سے آگاہ نہيں تھے ان کے دلوں ميں خوف و اضطراب موجزن تھا- اس کي وجہ يہ بھي تھي کہ انہوں نے صرف فاتح سرداروں کو لوٹ مار کرتے اور خون بہاتے ہوئے ديکھا تھا- انہيں يہ نہيں معلوم تھا کہ قرآن کريم نے رسول اللہ کو رحمۃ للعالمين قرار ديا ہے ، دونوں جہاں کے لئے رحمت بنا کر بھيجا ہے- اقتدار و فتح و کامراني کي صورت ميں ان پر غرور و ہوا و ہوس کا سايہ تک نہيں پڑسکتا- اہل مکہ کے لئے اس دن (فتح مکہ) کا ہر لمحہ پر اضطراب تھا ايسے ميں آپ نے وہي جملے دوہرائے جو مبعوث برسالت ہونے کے بعد فرمائے تھے ، آپ نے کہا لا الہ الا ا للہ وحدہ لاشريکلہ صدق وعدہ و نصر عبدہ وھزم الاحزاب وحدہ- اللہ کے سوا کوئي معبود نہيں- اس کا کوئي شريک نہيں ہے اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھايا ، اپنے بندے کي نصرت کي اور تنہا تمام گروہوں کو شکست دي-

اس کے بعد اہل مکہ کو يہ اطمينان دلانے کے لئے کہ مسلمان ان سے انتقام نہيں ليں گے ان سے فرمايا ماذانقولون و ماذاتظنون- ميرے بارے ميں تم لوگ کيا کہتے ہو اور کيا سوچ رہے ہو؟ قريش جو رسول اللہ کي عظمت و جلالت کو ديکھ کر بري طرح بے دست و پا ہو چکے تھے گڑکڑا کر کہنے لگے نقول خيرا و نظن خيرا اخ کريم و ابن اخ کريم وفد قدرت- ہم آپ کے بارے ميں خير خواہي اور خوبي کے علاوہ کچھ نہيں کہتے ہيں اور خير و نيکي کے علاوہ کچھ نہيں سوچتے- آپ مہربان و کريم بھائي ہيں اور ہمارے بزرگ و مہربان چچازاد ہيں اور اب آپ کو بھرپور اقتدار حاصل ہو گيا ہے-

رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے انہيں مزيد اطمناين دلايا اور ان کي معافي کا حکم جاري کيا آپ نے فرمايا ميں تم لوگوں سے وہي کہوں گا جو ميرے بھائي يوسف نے کہا تھا (جب ان کے بھائيوں نے انہيں نہيں پہچانا تھا) آپ نے قرآن کي يہ آيت تلاوت فرمائي قال لاتثريب عليکم اليوم يغفراللہ لکم و ہوا ا رحم الراحمين- يوسف نے کہا آج تمہارے اوپر کوئي الزام نہيں ہے خدا تمہيں معاف کر دے گا کہ وہ بڑا رحم کرنے والا ہے-

اس کے بعد آپ نے فرمايا حقيقت يہ ہے کہ تم سب بڑے برے لوگ تھے کہ اپنے پيغمبر کو جھٹلايا اور اسے اپنے شہروديارسے نکال ديا ، اس پر اکتفا نہ کي بلکہ دوسرے شہروں ميں بھي مجھ سے جنگ کرنے کے لئے آيا کرتے تھے-

آپ کي باتيں سنکر بعض لوگوں کے چہرے فق ہو گئے وہ يہ سوچنے لگے کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کو اذيت و آزار و مصائب ياد آ گئے ہيں اور آپ ، انتقام لينا چاہتے ہيں ليکن رسول حق نے رحمت و کرامت کا ثبوت ديتے ہوئے فرمايا فاذھبوا فانتم الطلقاء جاۆ تم سب آزاد ہو- تاريخ و روايات ميں آيا ہے کہ جب رسول رحمت صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے يہ جملہ ارشاد فرمايا تو لوگ اس طرح سے مسجد الحرام سے باہر جانے لگے جيسے مردے قبروں سے اٹھ کر بھاگ رہے ہوں- رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي اسي مرےباني و رحمت کي وجہ سے مکہ کے اکثر لوگوں نے اسلام قبول کر ليا-

بشکريہ الحسنين ڈاٹ کام

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

نعت رسول پاک