• صارفین کی تعداد :
  • 3316
  • 8/27/2012
  • تاريخ :

عدل الہٰي کے دلائل

عدل

1-حسن وقبح عقلي

پہلے يہ جاننا ضروري ہے کہ ہماري عقل اشياء کي ”‌خوبي“اور ”‌بدي“ کو قابل توجہ حد تک درک کرتي ہے -(يہ وہي چيز ہے،جس کا نام علماء نے ”‌حسن قبح عقلي“رکھا ہے)

مثلا ہم جانتے ہيںکہ عدالت واحسان اچھي چيز ہے اور ظلم وبخل بري چيز ہے-يہاں تک کہ ا ن کے بارے ميں دين و مذہب کي طرف سے کچھ کہنے سے پہلے بھي ہمارے لئے يہ چيز واضح تھي،اگر چہ دوسرے ايسے مسائل موجود ہيں جن کے بارے ميں ہمارا علم کافي نہيں ہے اور ہميں رہبران الہٰي و انبياء کي رہبري سے استفادہ کر نا چاہئے-

اس لئے اگر”‌اشاعرہ“ کے نام سے مسلمانوں کے ايک گروہ نے ”‌حسن قبح عقلي“ سے انکار کر کے اچھائي اور برائي کو پہچاننے کا راستہ -حتي عدالت وظلم وغيرہ کے سلسلہ ميں-صرف شرع ومذہب کو کافي جانا ہے ،تو يہ ايک بہت بڑا مغالطہ ہے-

کيونکہ اگر ہماري عقل نيک وبد کو درک کر نے کي قدرت وصلاحيت نہ رکھتي ہوتو ہميں کہاں سے معلوم ہو گا کہ خداوند متعال معجزہ کو ايک جھوٹے انسان کے اختيار ميں نہيں ديتا ہے؟ليکن جب ہم کہتے ہيں کہ جھوٹ بولنا بُرا اور قبيح ہے اور خدا سے يہ کام انجام پا نا محال ہے،تو ہم جانتے ہيں کہ خدا کے وعدے سب حق ہيں اور اس کے بيانات سب سچے ہيں -وہ کبھي جھوٹے کي تقويت نہيں کرتا ہے اور معجزہ کو ہر گز جھوٹے کے اختيار ميں نہيں سونپتا ہے-

اسي وجہ سے شرع ومذہب ميں جو کچھ بيان ہوا ہے اس پر اعتماد کيا جاسکتا ہے-

اس لئے ہم نتيجہ حاصل کرتے ہيں کہ حسن وقبح عقلي پر اعتقاددين و مذہب کي بنياد ہے-(توجہ کيجئے!)

اب ہم عدل الہٰي کے دلائل کي بحث شروع کرتے ہيں اور اس حقيقت کو سمجھنے کے لئے ہميں جاننا چاہئے:

2-ظلم کا سر چشمہ کيا ہے؟

”‌ظلم“کا سر چشمہ مندرجہ ذيل امور ميں سے ايک ہے:

الف- جہل:

بعض اوقات ظالم انسان حقيقت ميں نہيں جانتا ہے کہ وہ کيا کرتا ہے-نہيں جانتا ہے کہ وہ کس کي حق تلفي کرتا ہے،اور اپنے کام سے بے خبر ہے-

ب- احتياج:

کبھي دوسروں کے پاس موجود چيز کي احتياج انسان کو وسواس ميں ڈالتي ہے کہ اس شيطاني کام کو انجام دے، جبکہ اگر بے نياز ہو تا،اس قسم کے مواقع پر اس کے لئے ظلم کر نے کي کوئي دليل موجود نہ ہو تي-

ج- عجز و ناتواني:

بعض اوقات انسان راضي نہيں ہو تا کہ دوسروں کا حق ادا کر نے ميں کو تاہي کرے ليکن اس ميں يہ کام انجام دينے کي قدرت وتوانائي نہيں ہو تي ہے اور ناخواستہ ”‌ظلم“کا مرتکب ہو تا ہے-

د-خود پرستي ، حسد اور انتقامي جذبہ- گاہےمذکورہ عوامل ميں سے کوئي ايک مۆثرنہيں ہوتا ہے،ليکن”‌خود پرستي“اس امر کا سبب بنتي ہے کہ انسان دوسروں کے حقوق کو پائمال کرے -يا ”‌انتقامي جذبہ“اور”‌کينہ وحسد“ اسے ظلم وستم کر نے پر مجبور کرتے ہيں -يا کبھي”‌اجارہ داري“دوسروں کي حق تلفي کا سبب بن جا تي ہے-اور ان کے مانند دوسرے عوامل و اسباب-

ليکن چونکہ مذکورہ بري صفات اور عيوب ونقائص ميں سے کو ئي چيز خدا وند متعال کے وجود مقدس ميں نہيں پائي جاتي ،وہ ہر چيز کا عالم ،سب سے بے نياز،ہر چيز پر قادر اور ہر ايک کے بارے ميں مہر بان ہے،اس لئے اس کے لئے ظلم کا مرتکب ہو نا معني نہيں رکھتا ہے-

اس کا وجود بے انتہا اور کمال لا محدود ہے،ايسے وجود سے خير،نيکي،عدل وانصاف ،مہر باني اور رحمت کے علاوہ کوئي چيز صادر نہيں ہو تي ہے -

اگر وہ بد کاروں کو سزا ديتا ہے تو وہ حقيقت ميں ان کے کرتوتوں کا نتيجہ ہوتا ہے، جو انھيں ملتا ہے،اس شخص کے مانند جو نشہ آورچيزيں يا شراب پينے کے نتيجہ ميں مہلک بيماريوں ميں مبتلا ہو جاتا ہے -قرآن مجيد فر ماتا ہے:

<ھل تجزون اظ•لاّ ماکنتم تعلمون>(سورہ نمل/90)

”‌کيا تمھيں تمھارے اعمال کے علاوہ بھي کوئي معادضہ ديا جاسکتا ہے-“

3-قرآن مجيد اور عدل الہٰي

قابل توجہ بات ہے کہ قرآن مجيد ميں اس مسئلہ کے بارے ميں بہت تاکيد کي گئي ہے -

ايک جگہ پر فر ماتا ہے:

<اظ•نّ اللّٰہ لا يظلم النّاس شيئاً ولکنّ الناّس انفسھم يظلمون>

(سورہ يونس/44)

”‌اللہ انسانوں پر ذرّہ برابر ظلم نہيں کرتا ہے بلکہ انسان خودہي اپنے اوپر ظلم کيا کرتے ہيں-“

ايک دوسري جگہ پر فر ماتا ہے:

<اظنّ اللّٰہ لا يظلم مثقال ذرّة>

”‌اللہ کسي پر ذرّہ برابر ظلم نہيں کرتا ہے-“

روز قيامت کے حساب اور جزا کے بارے ميں فر ماتا ہے:

<ونضع الموازين القسط ليوم القيمة فلا تظلم نفس شيئاً> (سورہ انبياء/47)

”‌اور ہم قيامت کے دن انصاف کي ترازوقائم کريں گے اور کسي نفس پر ادنيٰ ظلم نہيں کيا جائے گا-“

(قا بل توجہ بات ہے کہ يہاں پر ”‌ميزان“سے مقصود نيک و بد کو تولنے کا وسيلہ ہے نہ اس دنيا کے مانند کو ئي ترازو)

اقتباس از کتاب: نو جوانوںکے لئے اصول عقائدکے پچاس سبق

مصنف: آيت اللہ ناصر مکارم شيرازي

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ  تحريريں:

اعتراض چند وجوھات سے مردود اور باطل ھے