• صارفین کی تعداد :
  • 2078
  • 3/24/2012
  • تاريخ :

رسول خدا سے اميرالمؤمنين کي قربت کے پہلو 33

امام علی

حضرت رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کا داماد بننا تمام صحابہ کے لئے ايک خواب تھا اور حضرت علي عليہ السلام کو آسمانوں ميں اس رشتے کے لئے منتخب کيا گيا اور حضرت علي عليہ السلام، اللہ کے اذن سے سيدالمرسلين صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے داماد بنے اور معلوم ہوا کہ علي علي عليہ السلام کو اللہ اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي بارگاہ ميں کتني قربت حاصل ہے-

عثمان بن سعيد حکم بن ظہير سے ، وہ سدي سے نقل کرتے ہيں کہ بتحقيق ابوبکر اور عمر سيدہ فاطمہ سلام اللہ عليہا کا رشتہ مانگنے رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي خدمت ميں حاضر ہوئے- رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا: "فاطمہ سلام اللہ کے رشتے کے بارے ميں فيصلہ کرنا ميرے اختيار سے باہر ہے اور يوں ان کي درخواست کو رد کرديا ليکن علي عليہ السلام نے رشتہ مانگا تو رسول اللہ نے فاطمہ سلام اللہ عليہا کا نکاح علي عليہ السلام سے کيا اور سيدہ سلام اللہ عليہا سے مخاطب ہوکر فرمايا: جانِ پدر! ميں نے آپ کا نکاح ايسے مرد سے کرايا  جو قبول اسلام ميں پوري امت پر مقدم ہيں- يہ حديث اسماء بنت عميس، ام ايمن، عبداللہ بن عباس اور جابر بن عبداللہ انصاري نے بھي نقل کي ہے- (51)

-------

مآخذ

50- صدر الحفاظ الگنجي الشافعي في كفاية الطالب (مطبوعہ نجف) ص38، و (مطبوعه مصر) ص 16، و (مطبوعه ايران) ص21، وابن الصباغ المالكي في فصوله المهمة ص 22 بحوالہ الغدير ج2 ص42- مناقب خوارزمى، ص 135; مقتل الحسين خوارزمى، ج 1، ص 47; فرائد السّمطين، ج 1، ص 73 و 74; النّور المشتعل، ص 56; المناقب كوثر، ج 1، ص 362 و 118.