• صارفین کی تعداد :
  • 1570
  • 3/19/2012
  • تاريخ :

عاشورا کے خوبصورت واقعات 12

محرم الحرام

عاشورا کے خوبصورت واقعات 8

عاشورا کے خوبصورت واقعات 9

عاشورا کے خوبصورت واقعات 10

عاشورا کے خوبصورت واقعات 11

بقلم: حجۃالاسلام سيد جواد حسيني

حر ان نامردوں پر حملہ آور ہوئے جبکہ يہ رجز پڑھ رہے تھے:

انّي انا الحرّ و مۆوي الضّيف  اضرب في اعراضکم بالسيف 

عن خير من حلّ بلاد الخيف  اضربکم ولا اري من حيفٍ(16) 

بے شک ميں حر ہوں جو مہمانوں کا ميزبان ہوں

اپني تلوار تمہارے اوپر اتارتا ہوں اور حمايت کرتا ہوں بہترين انسانوں کي جو سرزمين خيف ميں سکونت پذير ہوئے ہيں اور تمہيں مارتا ہوں اور اس ميں مجھے کوئي افسوس نہيں ہے

حر نے عمر سعد کے 40 افراد کو واصل جہنم کيا اور آخر کار عرش زين سے فرش زمين پر آرہے-

امام حسين (ع) حر کي بالين پر آئے اور بيٹھ کر حر کے چہرے سے خون صاف کرديا اور يہ تاريخي جملے ادا فرمائے جو حر کي خوبصورت توبہ کي بہترين علامت ہے؛ آپ (ع) نے فرمايا: "انت حرّ کما سمّتک امّک حرّا؛ تم حر اور آزاد مرد ہو جس طرح کہ تمہاري ماں نے تمہيں حر کا نام ديا ہے"- (17)

اور يہ شعر امام حسين عليہ السلام سے منسوب ہے:

لنعم الحر حرّ بني رياحٍ  صبور عند مشتبک الرّماح 

و نعم الحرّ اذا فادي حسيناً  و جاد بنفسه عند الصّباح(18) 

اچھا آزاد مرد اور حر تھا وہ حر جو بني رياح کے قبيلے سے تھا وہ اپنے اوپر نيزے اترتے وقت صبر و استقامت دکھاتا ہے

اور اچھا حر ہے جس وقت اس نے اپني جان حسين (ع) پر نچھاور کردي اور صبح کے وقت اپني جان اور اپني زندگي بخش دي

حر کي توبہ اتني خوبصورت تھي کہ اس نے ان کے جسم پر بھي گہرے اثرات مرتب کئے کيونکہ سينکڑوں برس بعد جب شاہ اسماعيل صفوي نے ان کي قبر کھول دي تو ديکھا کہ حر کا بدن بالکل تازہ ہے اور ان کي پيشاني پر ايک رومال بندھا ہوا ہے اور شاہ اسماعيل نے [امام حسين (ع) کے ہاتھ سے بندھا ہوا] رومال ان کے سر سے کھول ديا تو پيشاني کے زخم سے خون جاري ہوا اور خون کسي بھي رومال يا پٹي سے بند نہ ہوا اور جب وہي رومال ـ جو حر کے لئے اعزاز کا تمغہ تھا ـ باندھا گيا تو خون بہنا بند ہوا- يہي وجہ ہے کہ ہم حر کي توبہ کو خوبصورت ترين توبہ کا نام ديتے ہيں-

........

مآخذ:

16- "قصۂ هجرت"، ص 304-

17- "حياة الحسين" باقر شريف القرشي، قم دارالکتب العمليه، ج3، ص221-

18- مقتل خوارزمي، ج 2، ص 10، مقتل الحسين، مقرّم، همان، ص245-