• صارفین کی تعداد :
  • 3525
  • 2/8/2012
  • تاريخ :

سورۂ بقره کي آيات  نمبر 27-26  کي تفسير

بسم الله الرحمن الرحیم

خداوند لوح و قلم خالق قرآن کي حمد و ستائش اور مالک نطق و بيان مرسل اعظم (ص) اور ان کے اہلبيت مکرم (ع) پر درود و سلام کے بعد سورۂ بقرہ کي چند آيات کے ترجمہ ؤ تفسير پر مشتمل " کلام نور " ليکر حاضر ہيں - 

عزيزان محترم ! قرآن کريم چونکہ اللہ کا کلام ہے اور امين وحي کے ذريعے مرسل تک پہنچا ہے اس لئے ہر قسم کے نقص و عيب سے منزہ اور ہر طرح کي ممکنہ خيانت اور تحريف سے مبرہ ہے اس لئے خود قرآن حکيم نے بعض اوقات اپنے مطالب کي صداقت پر تاکيد کي ہے اور بعض اوقات خود اپنے طريقۂ بيان اور تعبير کي حمايت اور دفاع کيا ہے چنانچہ مخالفين قرآن نے بھي چونکہ وہ قرآن کا مثل لانے اور قرآن کي منطقي گفتگو کا جواب دينے سے عاجز تھے کبھي تو قرآن مجيد ميں بيان شدہ مطالب پر اعتراض کيا ہے اور کبھي قرآن کے انداز بيان پر منہ بنايا اور منہ چڑھايا ہے، انداز بيان اور تعبير پر اعتراض کرتے ہوئے مخالفين اس بات پر اکثر ناک بھğ چڑھاتے تھے کہ قرآن ميں مثل و مثل سے بہت کام ليا گيا ہے اور مختلف امور ميں مچھر اور مکڑي کي مانند مثاليں دينے ميں بھي قرآن نے کوئي شرم و حيا نہيں برتي ہے خدا يہ کام نہيں کرسکتا اس طرح کي مثاليں دينا خدا کے لئے زيب نہيں ديتا اس اعتراض کا جواب ديتے ہوئے سورۂ بقرہ کي چھبيسويں آيت ميں خدا فرماتا ہے :

اِنّ اللہَ لَا يَستَحيِي اَن يّضرِبَ مَثَلا" مّا بَعُوضَۃً فَمَا فَوقَہَا فَاَمّا الّذِينَ ءَ امَنُوا فَيَعلَمُونَ اَنّہُ الحَقّ مِن رّبّہِم وَ اَمّا الّذِينَ کَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا اَرَادَ اللہُ بِہذَا مَثَلا" يُضِلّ بِہِ کثِيرا" و ّ يَہدِي بِہ کَثِيرا" وَ مَا يُضِلّ بِہ اِلّا الفَاسِقِينَ

بے شک اللہ کو اس بات سے کہ وہ مچھر يااس سے بھي گئي گزري کسي ادني يا اعلي شےء سے مثالي بيان کرے، کوئي حيا نہيں ہے پس جو لوگ ايمان والے ہيں جانتے ہيں کہ وہ مثال ان کے پروردگار کي جانب سے ہے اور حق ہے ليکن جن لوگوں نے کفر اختيار کررکھا ہے کہتے ہيں کہ اس مثال کے پيش کرنے سے اس کا منظور و مقصود کيا ہے؟ ہاں ! خداوند (عالم ) اس مثال کے ذريعے بہت سے لوگوں کو گمراہ اور بہت سے لوگوں کو راہ راست پر لگاديتا ہے ليکن سوائے فاسقين کے اللہ کسي کو گمراہ نہيں کرتا -

ظاہر ہے گمراہي ميں پڑنے والے فاسقين سے مراد وہي لوگ ہيں جو حق کي طاعت و اطاعت سے روگرداني کے سبب صراط مستقيم سے خارج اور منحرف ہوگئے ہيں ( اگرچہ وقتي طور پر ايک مومن سے بھي فسق و نافرماني ممکن ہے ) ، قرآن ايک عالمي کتاب ہے اوراس ميں تمام حقائق و معارف ايسي زبان اور ايسے انداز ميں بيان ہوئے ہيں کہ تمام انسانوں کي سمجھ ميں آجائے اور اس ميں کوئي شک نہيں کہ عام لوگوں کو کوئي بات آساني سے سمجھانے کے لئے بہترين زبان مثال کي زبان ہوتي ہے چنانچہ قرآن نے اپني چھوٹي بڑي اور اچھي اور بري باتوں کو سمجھانے کے لئے حسب ضرورت چھوٹي بڑي ہر قسم کي مثاليں دي ہيں ظاہر ہے مثالوں ميں پيش کي گئي اشياء کا چھوٹا يا بڑا ہونا ايک دوسرے کے مقابل ان کے ظاہري وجود يا افاديت کے لحاظ سے ہے ورنہ اللہ کي ہر مخلوق اپنا ايک مقام رکھتي ہے اور نگاہ آفرينش ميں يکساں ہے - جہاں تک مخالفين کا سوال ہے اس طرح کي باتيں وہ اس لئے کرتے تھے کہ قرآن اور پيغمبر اکرم (ص) کي نبوت و رسالت کے سلسلے ميں مسلمان شکوک و شبہات ميں پڑجائيں اور ان کا ايمان متزلزل ہوجائے ورنہ قرآن حکيم ميں ہرجگہ اس طرح کي مثاليں نہيں مليں گي ابھي اس سے قبل کي آيات ميں منافقين کو ايک ايسے مسافر سے تعبير کيا گيا ہے جو راہ بھٹک گيا ہو اور زمين و آسمان کے سيکڑوں خطرات سے روبرو ہو اور راستے ميں روشني کے لئے کوئي چراغ بھي اسے ميسر نہ ہو علاوہ ازيں مثاليں تو صرف حقائق کو مجسم کرنے کے لئے دي جاتي ہيں چنانچہ جب کسي کي عاجزي اور کمزوري کو بيان کرنا مقصود ہو اس کي مچھريا مکھي سے مثال دي جاتي ہے جيسا کہ سورۂ حج کي تہترويں آيت ميں خدا فرماتا ہے : 

" يا اَيّہَا النّاس ضُرِبَ مَثَلٌ فَاستَمِعُوا لَہ " اے لوگو! تمہارے لئے ايک مثل بيان کي گئي پس اسے غور سے سنو يہ لوگ جنہيں تم خدا کو چھوڑ کر آواز ديا کرتے ہو يہ سب مل جائيں تو بھي ايک مکھي پيدا نہيں کرسکتے اور اگر ايک مکھي ان سے کوئي چيز چھين لے يہ اسے مکھي سے واپس لينے کي بھي قوت نہيں رکھتے ، يہ طلب کرنے والے اور جن سے طلب کررہے ہيں دونوں کس قدر بودے اور کمزور ہيں -" 

اسي بنياد پر آيت ميں اعلان ہوا ہے کہ خداوند عالم کو ايک مچھر يا اس سے چھوٹي بڑي کسي بھي چيز کي مثال دينے ميں کوئي عار نہيں ہے وہ عقلي اور معنوي حقائق قابل محسوس مثالوں کے لباس ميں بيان کرتا ہے تا کہ لوگ بات کو سمجھ ليں اور عقل و منطق سے کام لينے والے مومنين اس روش کو پسند کرتے ہيں اور حق بين نگاہيں ہدايت و رہنمائي حاصل کرليتي ہيں ليکن جو لوگ کفر و نفاق کے سبب ضد اور دشمني دکھاتے ہوئے بہانے بازي يا بے جا تنقيد و اعتراض سے کام ليتے ہيں نہ صرف يہ کہ قرآن سے بے بہرہ ہوجاتے ہيں بلکہ نبي (ص) اور قرآن کے سلسلے ميں شکوک و شبہات کے سبب الہي ہدايت سے بھي محروم ہوجاتے ہيں - يہاں يہ بات بھي قابل توجہ ہے کہ قرآن کريم نے مومن کي علم کے سبب تعريف کي ہے اور کافر کي جہالت پر توبيخ کي ہے اگرچہ صاف طور پر يہ نہيں کہا ہے کہ کافر جاہل ہے ليکن تقابل بتاتا ہے کہ علم کي ايمان کے ساتھ آميزش ہوئي ہے اور مومن عالم ہوا کرتا ہے اور کفر جہالت کا نتيجہ ہے اور کافر جاہل ہوا کرتا ہے اور اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے کفر و جہالت کو دور کرے -

اس کے بعد خداوند عالم نے سورۂ بقرہ کي ستائيسويں آيت ميں منظور نظر فاسقين کي خصوصيات بيان کي ہيں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آيت ميں فاسقين سے مراد وہ کفار و مشرکين ہيں جو دائرہ ايمان سے خارج ہوچکے ہيں ، دائرہ ايمان ميں رہ کر گناہ کے مرتکب ہونے والے مومنين مراد نہيں ہيں چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : 

" اَلّذِينَ يَنقُضُونَ عَہدَ اللہِ مِن بَعدِ مِيثَاقِہِ وَ يَقطَعُونَ مَا اَمَرَ اللہُ بِہِ اَن يُوصَلَ وَ يُفسِدُونَ فِي الاَرضِ اُولئِکَ ہُمُ الخاسِرُونَ " 

يعني ( يہ فاسقين ) وہ لوگ ہيں کہ جنہوں نے اللہ کے محکم پيمان کے بعد الہي عہد کو توڑ ديا ہے اور وہ رشتے جنہيں خداوند عالم نے برقرار کرنے کا حکم ديا ہے منقطع کرلئے ہيں اور روئے زمين پر برائياں پھيلا رہے ہيں اور يہي وہ ہيں جو يقينا" گھاٹے ميں ہيں -

عزيزان محترم ! اس سے قبل آيت ميں خدا نے اعلان کيا تھا کہ وہ فاسقوں کےسوا کسي کو گمراہ نہيں کرتا لہذا اپنے مقصود کو سمجھانے کےلئے اس آيۂ کريمہ ميں فاسقين کا تعارف کرايا ہے اور ان کے تمام صفات رذيلہ کا سرچشمہ ان کي " پيمان شکني " کو قرار ديا ہے کيونکہ جو لوگ اپنے خدا سے کيا گيا عہد توڑ ديں چاہے وہ جس سطح پر جس ميزان ميں بھي ہو اسي کے اعتبار سے راہ مستقيم سے دور اور منحرف ہوتے چلے جاتے ہيں -

" اَلّذينَ يَنقُضُونَ عَہدَ اللہ " يعني وہ لوگ جنہوں نے عہد الہي کو توڑديا ہے " 

اس بات کي طرف اشارہ ہے کہ اللہ نے انسانوں سے عہد و پيمان ليا ہے جسے کچھ لوگوں نے توڑا ہے جو فاسق ہيں اب اس پيمان الہي سے مراد کيا ہے ، کچھ کي نظر ميں اس سے مراد وہ عہد و پيمان ہے جو عالم ذر ميں اللہ نے انسانوں سے ليا ہے بعض کہتے ہيں اس سے مراد وہ عہد و پيمان ہے جو خدا اور بندوں کے درميان باطني حجت يعني عقل و فطرت کے ذريعے خدا نے تمام انسانوں سے ليا ہے اور يہي صحيح ہے البتہ يہ عہد صرف عقيدہ ، اخلاق اور اعمال کے دائرے ميں احکام عقلي تک محدود و منحصر نہيں ہے بلکہ پورے دين سے تعلق رکھتا ہے اور آدمي کي ناقابل تغيير فطرت جس کو مانتي اور قبول کرتي ہے يہ فطري عہد خدا نے تمام انسانوں سے ليا ہے اور عقل و فطرت، وحي و کتاب اور سنت معصومين عليہم السلام سب کو شامل ہے - چنانچہ قرآن اس عہد کے سلسلے ميں خاص اہميت کا قائل ہے اور تمام انسانوں کو اس کے سلسلے ميں جواب دہ مانتا ہے جيسا کہ سورۂ اسراء کي 34 ويں آيت ميں خدا فرماتا ہے : " و اوفوا بِالعہد انّ العہد کان مسئولا" يعني عہد کو پورا کرو اپنے عہد کے لئے ہر انسان جواب دہ ہے - چنانچہ جو لوگ اپنے عہد کو وفا کرتے ہيں اجر عظيم کے مستحق قرار پاتے ہيں سورۂ فتح کي دسويں آيت ميں خدا نے فرمايا ہے : وَ مَن اَوفي بِما عہد عَلَيہ اللہَ فَسَيوتِيہِ اَجرا" عَظِيما" جو عہد الہي کو پورا کرتا ہے خدا عنقريب اسے عظيم اجر عطا کرے گا -

بہرحال ، عہد شکني فسق و ضلالت کا باعث ہے اور فاسقوں کے خصوصيات ميں سے ہے ، عہدشکني کے علاوہ فاسقين کي ايک خاصيت يہ بھي ہے کہ وہ ان رشتوں کو توڑ ديتے ہيں کہ جن کے استحکام کا خدا نے حکم ديا ہے چاہے يہ ديني اور مذہبي رشتے ہوں يا سماجي اور خانداني رشتے ہوں ، خداؤ رسول (ص) اور قرآن و عترت (ع) سے بھي رشتہ توڑ ليتے ہيں اور ديني بھائيوں ، پڑوسيوں اور رشتہ داروں سے بھي خانداني، ملکي اوربين الاقوامي سطح پر رشتے منقطع کرليتے ہيں جبکہ ان رشتوں کو توڑنا عہد الہي کو توڑنے کے ہي مترادف ہے کيونکہ اپنے خاندان اور سماج کي ايک فرد ہونے کي حيثيت سے خدا نے ہي ان رشتوں کو مستحکم رکھنے کا حکم ديا ہے فاسقين کي تيسري صفت يہ ہے کہ وہ زمين پر " فسا د" يعني خرابياں اور برائياں پھيلاتے ہيں چنانچہ قرآن نے " اصلاح " کے مقابلے ميں " افساد " سے منع کيا ہے کہ ہم نے دين کے ذريعے زمين کي اصلاح کي ہے اس اصلاح شدہ زمين کو فاسد نہيں کرنا چاہئے سورۂ اعراف آيت چھپن ميں ہے : 

لاتُفسِدُوا في الارض بعد اصلاحہا " اصلاح کے بعد زمين پر خرابياں نہ پھيلاؤ -

فساد کے بعض مصاديق بھي قرآن ميں ذکر ہوئے ہيں کفر کو خدا نے " فساد کبير " سے تعبير کياہے ( انفال / 73)

ناپ تول ميں کمي کو باعث فساد قرار ديا ہے ( سورۂ شعراء / 83 - 82 ) اسي طرح قرآن کي نظر ميں اسلامي نظام کے خلاف فتنہ انگيز سرگرمياں زمين پر فساد پھيلانے کے حکم ميں ہے ( سورۂ نمل / 48)

اور ان تمام خصوصيات کے بعد خدا نے نتيجہ بھي بيان کرديا ہے کہ فاسقين اپني ان تمام حرکتوں کے باعث خسارہ اور نقصان ميں رہيں گے: ظاہر ہے جو لوگ ہدايت و معرفت کے فطري سرمايہ سے ہي محروم ہوجائيں ان کو زندگي ميں خسارہ کے سوا کيا ہاتھ آسکتا ہے - البتہ يہ لوگ نہ صرف خود بلکہ اپنے خاندان اور قوم کو بھي خسارے ميں مبتلا کرديتے ہيں " خسروا انفسہم و اہليہم " ( زمر / 15) ظاہر ہے جب گھر کا سرپرست گمراہ ہوجائے تو خاندان والے بھي گمراہي ميں پڑجاتے ہيں - 

معلوم ہوا :

- ديني حقائق و معارف سے آشنائي يا تعليم و تربيت ميں شرم و حيا کا کوئي دخل نہيں ہے البتہ بيہودہ اور ناپسند امور ميں حيا ضروري ہے -

- مفيد اور کارآمد باتيں آسان و عام فہم زبان ميں بيان کرنا چاہئے تا کہ ہر ايک اس سے فائدہ اٹھاسکے -

- قرآني مثل اور مثاليں حقيقت رکھتي ہيں اور صحيح واقعات کي طرف ہدايت و رہنمائي کرتي ہيں -

- گناہ و معصيت حقائق کي شناخت ميں رکاوٹ بنتے ہيں اور انسان گمراہي کي طرف بڑھتا چلا جاتا ہے -

- عہد شکني دينداري کے ساتھ ميل نہيں کھاتي مومن حتي کافروں کے ساتھ کئے ہوئے وعدے نہيں توڑتا چہ جائيکہ کوئي مومن اپنے خدا اور اس کے دين کے ساتھ اپنا پيمان وفا توڑنے کي جرات کرے -

- اپني عمر کا سرمايہ ضايع کردينا ہي انسان کا سب سے بڑا خسارہ ہے -

- خدا کے بندے نہ خدا سے عہد شکني کرتے اور نہ ہي خدا نے جن کے ساتھ رشتہ جوڑا ہے ان سے اپنا سببي يا سبي رشتہ توڑتے اور نہ ہي ديني اور معاشرتي رشتہ کمزور پڑنے ديتے -

بشکريہ آئي آر آئي بي

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان