• صارفین کی تعداد :
  • 3507
  • 2/8/2012
  • تاريخ :

سورۂ بقره کي آيات  نمبر 25-24  کي تفسير

بسم الله الرحمن الرحیم

مرسل اعظم حضرت محمد مصطفي صلي اللہ عليہ و آلہ و سلّم اور ان کے اہلبيت مکرم پر درود و سلام کے ساتھ آسان و عام فہم سلسلہ وار تفسير " کلام نور " ليکر حاضر ہيں -

عزيزان محترم! جيسا کہ آپ کے پيش نظر ہے اس سے قبل رسول رحمت (ص) کي نبوت و رسالت اور آپ پر نازل ہونے والي کتاب قرآن حکيم کے اعجاز اور حقانيت کے اعلان کے ساتھ کلام اللہ کا جواب پيش کرنے کے سلسلے ميں مخالفين کي عاجزي اور ناتواني کا ذکر تھا اب اسي سلسلۂ گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے سورۂ بقرہ کي 24 ويں آيت ميں خدا فرماتا ہے :

" فان لّم تفعلوا و لن تفعلوا فاتّقوا النّار الّتي وقودھا النّاس والحجارۃ اعدّت للکافرين"

پس اگر تم لوگ يہ کام نہ کرو اور تم ہرگز نہيں کرسکوگے تو اس آگ سے بچو کہ جس کا ايندھن انسان اور پتھرہوں گے اور جو کافروں کے لئے تيار کي گئي ہے -

قرآن کريم چونکہ کتاب ہدايت ہے اور ايک عالم و عاقل ديندار انسان تربيت کرنے کےلئے اللہ نے اپنے رسول (ص) کو معجزے کے طور پر دي ہے، کسي انسان کي علمي و عقلي تصنيف يا تاليف کے بر خلاف اللہ کي کتاب ميں جگہ جگہ انسانوں کو حق و حقيقت سے ہوشيار و خبردار کيا گيا ہے چنانچہ اس آيۂ کريمہ ميں بھي قرآن کريم کي معجزانہ شان کا انکار کرنے والے دشمنان علم و عقل کو اس آگ سے خبردار کيا گيا ہے کہ جس کے ايندھن خود انسان اور وہ پتھر ہوں گے کہ جن کو انسانوں نے اپنا معبود قرار دے رکھا ہے- سورۂ انبياء / 98 ميں ہے :

"انّکم و ما تعبدون من دون اللہ حصب جہنّم "

يعني تم اور تمہارے وہ معبود جنہيں تم نے اللہ کے سوا اپنا معبود قراردے ليا ہے جہنم کا ايندھن ہوں گے -

اور يہ کہ يہ آگ کفار و منافقين کےلئے تيار کي گئي ہے گويا يہ آگ خود انسان کے اپنے اندر سے شعلہ ور ہوگي اور اس سے وہ فرار بھي نہيں کرسکے گا يہ آگ گنہگار انسان کے پورے وجود اور جسم و جان کو بھسم کردے گي-

صاحب تفسير " تسنيم " آيت اللہ جوادي آملي کے مطابق آيت ميں " اعدّت " کي تعبير سے پتہ چلتا ہے کہ جہنم بھي بہشت کي مانند اس وقت موجود ہے اور کفار جو جہنم کا ايندھن بھي ہيں اور جہنم کي غذا بھي ہيں اپنے پورے وجود کے ساتھ شعلہ ور ہيں اگرچہ ان کو خود اس کا اندازہ نہيں ہے -

البتہ قرآن نے کفار و مشرکين کو جہنم کي تياري کي خبر دينے سے قبل ، علمي مقابلے کي دعوت دي ہے اور ان پر واضح کرديا ہے کہ قرآن کا جواب حتي قرآن کي ايک آيت کا بھي جواب ان کے بس ميں نہيں ہے اور نہ ہي آئندہ کسي زمانے ميں کوئي نسل اس کا جواب لا سکے گي کيونکہ اللہ کا کلام بھي اللہ کي مانند بے مثل ہے اور انساني کلام کا اس کے ساتھ کوئي مقائسہ نہيں کيا جا سکتا - اگرچہ يہاں آيت کا مخاطب حجاز کے کفار و بت پرست تھے ليکن قرآن کا اعجاز يہ بھي ہے کہ خود معجزہ ہونے کے ساتھ اعجاز آفريني بھي کرتا ہے چنانچہ آئندہ کي خبر بھي ديدي ہے کہ کوئي جواب نہيں لا سکتا " لن تفعلوا" اور آجتک، 14 سو سال بعد بھي، کوئي جواب نہيں لاسکا ہے اسي کو اعجاز در اعجاز کہتے ہيں -

اس کے بعد سورۂ بقرہ کي پچيسويں آيت ميں خدا فرماتا ہے :

" و بشّر الّذين ء امنوا و عملواالصّالحات انّ لہم جنّت تجري من تحتہا الانہار کلّما رزقوا منہا من ثمرۃ رّزقا" قالوا ہذا الّذي رزقنا من قبل واتوا بہ متشابہا" و لہم فيہا ازواج مّطہّرۃ و ہم فيہا خالدون"

يعني ( اے پيغمبر!) جو لوگ ايمان لائے ہيں اور اچھے کام کرتے ہيں انہيں خوش خبري ديديجئے کہ ان کے لئے ايسے باغات ہيں جہاں درختوں کے نيچے نہريں بہہ رہي ہيں ، جس وقت اس باغ کے پھل رزق کے عنوان سے انہيں دئے جائيں گے وہ کہيں گے :" يہ تو وہي ہے جو ہم پہلے بھي کھايا کرتے تھے " اور جو پھل ان کو ديا جائے گا وہ اس کے مشابہ ( اور ملتا جلتا ) ہوگا ( جو انہوں نے دنيا ميں کھايا ہے ) اور ان کے لئے بہشت ميں پاکيزہ جوڑے ( بيوياں يا شوہر) بھي ہوں گے اور وہ لوگ اس ميں ہميشہ رہيں گے [ ازواج قرآن کريم ميں مرد و عورت دونوں کے جوڑے کے لئے استعمال ہوا ہے جيسا کہ سورۂ يس کي آيت 56 ميں ہے " ہم و ازواجہم" ( تسنيم جلد دوم ص 470) ] -

عزيزان محترم! قرآن کريم نے دين کے احکام و حکم بيان کرنے کے ساتھ ہي ساتھ ايمان يا کفر و نفاق کے اثرات و ثمرات بھي بيان کردئے ہيں چنانچہ کفر کے تباہ کن نتائج ذکر کرنے کے بعد اس آيت ميں ايمان کے ثمرات بيان کئے ہيں کہ مومنين کو ايک ايسي بہشت ميں رہائش نصيب ہوگي جہاں درختوں کے نيچے نہريں جاري ہيں يعني پورا ماحول سرسبز و شاداب پاک و پاکيزہ اور روح پرور ہے موسموں کي تبديلي سے بے نياز درختوں پر صدا بہار پھل لگے ہوئے ہيں اور پھل بھي وہ جن کي صورتوں سے ذہن مانوس ہيں مگر ظاہري شباہت کے باوجود وہ مزے اور فوائد کے لحاظ سے دنيوي پھلوں کے ساتھ ہرگز قابل مقائسہ نہيں ہيں ، کھانے پينے کي نعمتوں کے علاوہ بہشت ميں ابدي آسائشوں ميں شرکت و ہمراہي کے لئے توالد و تناسل سے آزاد پاک و پاکيزہ جوڑياں بھي عطا کي جائيں گي اور ہميشہ ہميشہ کے لئے مومنين عيش و آرام کي زندگي گزاريں گے - يہ وہ قرآني بشارت اور خوش خبري ہے جو ہر مومن کو ان کے ايمان اور عمل صالح کے نتيجے ميں سنائي گئي ہے کيونکہ بہشت اور اس کي نعمتوں سے بہرہ مند ہونے کے لئے افراد اور ان کے عمل يعني فاعل اور فعل دونوں ميں حسن لازم ہے ايمان بھي خلوص نيت کا طالب ہے اور عل بھي خلوص نيت کے ساتھ انجام پانا لازم ہے کيونکہ جہنم ميں ڈال دئے جانے کےلئے دونوں ميں سے کسي ايک کا بھي فقدان کافي ہے نہ حسن ايمان عمل صالح کے بغير ضامن نجات کہا جا سکتا نہ عمل صالح حسن ايمان کے بغير ضامن نجات بن سکتا بہشت جاوداں ميں دائمي رہائش کےلئے دونوں ضروري ہيں البتہ ايمان ايک درخت کي جڑ اور اعمال صالح درخت کي ٹہنياں ہيں جڑ سالم نہ ہو تو بھي درخت پر پھل نہيں آتے اور شاخيں نہ ہوں تو بھي نہيں پھلتے ؛ اور مومنين بہشت کي نعمتيں يا پھل ملنے کے بعد جو يہ کہتے ہيں کہ ہم کو اس سے پہلے بھي يہ رزق مل چکا ہے تو اس سے اہل بہشت کي مراد ايمان اور عمل صالح کي وہ توفيق ہوتي ہے کہ جس سے وہ دنيا ميں بہرہ مند ہوئے ہيں اور اب وہ بہشت کي نعمتوں کي شکل ميں مجسم ہوکر سامنے آتے ہيں ( سورۂ آل عمران/ 30 ميں ہے : " يوم تجد کل نفس ماعملت من خير محضرا") اور انہيں يہ وہي پھل محسوس ہوتے ہيں جو وہ دنيا ميں ديکھ چکے ہيں ورنہ ان کا لطف و ذائقہ دنيوي نعمتوں کے ساتھ قابل مقائسہ نہيں ہے وہاں فيض و فضل الہي بھي مومنين کے شامل حال ہوتا ہے -

اگرچہ قرآن کريم ميں اس آيت کي مانند دوسري بہت سي آيات ميں باغ ، قصر، نہر اور حور و غلمان کي مانند بہشت کي مادي نعمتوں کا ذکر ہوا ہے ليکن ان کے ساتھ ہي مومنين وہاں معنوي نعمتوں سے بھي بہرہ مند ہوں گے جيسا کہ سورۂ توبہ کي بہترويں آيت ميں مادي نعمتوں کے بعد خدا فرماتا ہے : " و رضوان مّن اللہ اکبر" يعني خوشنودي خدا ان سب سے بالاتر ہے - يا سورۂ بيّنہ کي آٹھويں آيت ميں خدا فرماتا ہے : " رضي اللہ عنہم و رضوا عنہ " يعني اہل بہشت سے خدا راضي ہے اور وہ بھي اپنے خدا سے خوشنود ہيں - مقصد يہ ہے کہ آيت ميں اللہ نے بہشت ميں ايک مومن کي رہائش اور آسائش کا ذکر کيا ہے ورنہ انبياء (ع) اور اوليائے خدا (ع) کے ساتھ رہنا اور شہداؤ صالحين کي بزم ميں شريک ہونا اہل بہشت کےلئے سب سے زيادہ لذت بخش ہوگا-

معلوم ہوا :

اپنے دين و مذہب کي حقانيت کے سلسلے ميں مخالفين کے ساتھ فيصلہ کن انداز ميں گفتگو کرنا چاہئے اور دين و آئين کے سلسلے ميں شکوک و شبہات کو دل و دماغ ميں کوئي جگہ نہيں ديني چاہئے - اس آيت ميں : " لم تفعلوا و لن تفعلوا" کا جو لہجہ ہے عصر حاضر کے رہبر کبير امام خميني (رح) کے قول: " امريکہ کچھ نہيں بگاڑ سکتا " ميں کسي حد تک مشاہدہ کيا جا سکتا ہے -

•   انسان اپنے کفر ميں اس منزل پر بھي پہنچ سکتا ہے کہ وہ پتھر کے بے جان بتوں کي صف ميں قرار ديا جائے اور کفار کے لئے تيار کي گئي آگ کا ايندھن بن جائے -

•  قرآن حکيم ہر دور ميں ہر قوم و ملت کے لئے معجزہ ہے کوئي بھي انسان کبھي بھي اللہ کے کلام کا جواب پيش نہيں کرسکتا اور نہ ہي قرآن کي باتوں پر کسي کي کوئي بات بالاتر قرار پا سکتي-

•   صحيح تعليم و تربيت کےلئے بشارت کے ساتھ " انذار" يعني تشويق کے ساتھ تاديب بھي ضروري ہے قرآن نے پہلے کفار و مشرکين کو عذاب سے خبردار کيا ہے اس کے بعد اہل اسلام و ايمان کو بہشت کي خوش خبري دي ہے -

•   جنت ميں پہنچنے کے لئے ايمان کے ساتھ عمل صالح بھي لازم ہے کيونکہ ايمان کے بغير عمل يا عمل کے بغير ايمان اسي طرح بے ثمر ہے جيسے کسي درخت کي جڑيں خشک ہوجائيں يا وہ شاخ و بر سے محروم ہو -

•  البتہ قرآني تہذيب ميں ايمان اور عمل دونوں کے لئے خلوص اور حسن نيت ضروري ہے-

 

بشکريہ آئي آر آئي بي

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان