• صارفین کی تعداد :
  • 2222
  • 2/7/2012
  • تاريخ :

محمد(ص) يورپ کي نظر ميں (حصہ سوم)

محمد (ص)

اس زمانے ميں يورپ ميں ہيروپرستي ہرطرف رائج تھي اورمعاشرےپر اس کے گہرے اثرات تھے جرمن اديب گوئيٹہ نے سترہ سو بہتر ميں ايک ڈرامہ لکھا جس کا نام "محومت" تھا اس کے ايک حصے کا عنوان "ترانہ محومت "ہے- انہوں نے محمد (ص) کو ايسے بے کران دريا سے تشبيہ دي ہے جس کي عظمت ميں ہميشہ اضافہ ہوتا رہتا ہے اور جو انسانوں کو اپنے ساتھ ابدي منزل کي طرف لے جاتا ہے انہوں نے بڑے اشتياق سے محمد (ص) کو نجات بخش الھام کا سرچشمہ مان ليا تھا -محمد (ص) کے بارے ميں ان کي نظم پڑھنے والے کو تعجب ميں ڈال ديتي ہے اس نظم ميں حضرت علي و فاطمہ عليھما السلام اور زيد بن حارثہ کو روح پيغمبري کے سہارے جس نے ان کا احاطہ کيا ہوا ہے بے کراں دريا ( رسول اکرم ص) کا مشاھدہ کرتے ہوے بتايا گيا ہے- گوئيٹہ کہتے ہيں کہ محمد وہ غير معمولي انسان ہيں جنہوں نے اپني کتاب قرآن کو ابدي ميراث کے طورپر چھوڑا ہے - گوئيٹہ کي يہ نظم ظہور نپولين سے بيس سال قبل لکھي گئي تھي تاہم اسي فکر کا نمونہ قرار دي جا سکتي ہے جو آہستہ آہستہ ہيرو پررستي کي طرف بڑھ رہي تھي -

ايک راھبہ کيرولين فن گوندرود Karolin von Gunderodeنے ايک نظم "بيابان ميں محومت کے خواب " کے عنوان سے کہي اس نظم ميں وہ محمد (ص) کو نہايت عظيم اور غيرمعمولي صفات کا حامل شخص قرارديتي ہيں وہ اپني اس نظم ميں محمد (ص) پر نزول وحي کے تجربے کو حضرت عيسي مسيح عليہ السلام کے راز و نياز اور آئين زرتشت ميں عناصر اربعہ کے تصور کے ساتھ ملاکر پيش کرتي ہيں ان کي اس تصوير ميں محمد (ص) مکاشفہ کے حصول کي کوشش کرتے ہيں اپنے ضمير کي آواز سننے کي سعي کرتے ہيں اور ان کے عقيدے کے مطابق خالق کي روح جو ان کے ضمير ميں نہاں ہے اسے حاضر کرنے کي کوشش ميں ہيں - اس شاعر نے محمد (ص) پر نزول وحي کے تصور کو اديبانہ اور خيالي انداز ميں بيان کرنے کي کوشش کي ہے البتہ ان امور کي طرف اسلامي روايات ميں بھي اشارہ کيا گيا ہے - محمد (ص) ايسے عالم ميں جبکہ مکاشفہ کي کوشش کر رہے ہيں ناگھان حيراني کي حالت ميں نيند سے بيدار ہوتے ہيں آپ کا وجود يک گونہ خوف اور حيراني ميں ڈوبا ہوا ہوتا ہے کہ اچانک آسمان سے ايک آواز سنائي ديتي ہے وہ تعجب سے بلند آواز ميں کہتے ہيں "اب سے ميرے راستے ميں کوئي شيء  رکاوٹ نہيں بن سکتي اس کے بعد نورالھي ميري ھدايت کرے گا اس طرح سے کہ ميري رفتار و گفتار جاوداں بن جاے گي" -

يورپ کے مشہور مصنفين ميں کارلايل کا نام سرفہرست ہے ہيروپرستي ان ہي کے نام سے معنون ہے ان ضمن ميں ان کي کتاب "ہيروازم درتاريخ " نہايت مشہور ہے انہوں نے ايک کتاب محمد (ص) کے بارے ميں بھي لکھي ہے اس کتاب ميں وہ رسول اللہ (ص) کي تعريف کرتے ہوئے انہيں تاريخ بشريت کا ممتاز ہيرو قرار ديتے ہيں کارلايل کا خيال ہے کہ ہيرو عالم روحانيت اور  عالم مادہ ميں يک گونہ رابطے کا حامل ہوتا ہے وہ کہتے ہيں کہ ہيرو الھام غيبي کے سہارے قوموں کي ھدايت کرکے عظيم کاميابياں حاصل کرتے ہيں ان کي نظر ميں ہيرو ايک بابصيرت دوانديش غيب کا علم رکھنے والا اور عوام کو حقيقت سے آشنا کرنے والا نيز تاريخ بنانے والا شخص ہے - کارلايل گوئيٹہ کے مريد تھے اور عرفان اسلامي سے ان کے والہانہ عشق سے سخت متاثر تھے بنابريں يہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے محمد (ص) کي شخصيت کي تصوير کشي ميں اسي راہ پرقدم رکھا جس پر گوئيٹہ گامزن تھے وہ اپني دوسري تقرير "پيغمبر کے روپ ميں ہيرو " ميں محمد (ص) کے بارے ميں کہتے ہيں کہ "اس شخص نے اپنے کلام کے ذريعے ان بارہ صديوں سے زيادہ کے عرصے ميں ايک سو اسي ملين افراد کي ھدايت کي اس وقت محمد کے پيرو کاروں کي تعداد ميں مزيد اضافہ ہوچکا ہے اور وہ صرف محمد کے کلام پر ہي اعتقاد و يقين رکھتے ہيں چاہے وہ کچھ بھي ہو-

يورپ کي تاريخ ميں قرون وسطي سے ليکر آج تک يہ پہلي مرتبہ تھا کہ محمد (ص) کو اتني جرات اورصراحت کے ساتھ بزرگان تاريخ کي صف ميں شمار کيا جارہا تھا ايسے بزرگ لوگ جو اپنے نظريات اور کردارکي وجہ سے تاريخ ميں جاودان بن گئے ہيں کارلائل نے اس زمانے ميں يورپ کے اس نظريے کو کہ محمومت کا دين محض مکاري اورحماقت پر مبني ہے ايک بے بنياد خيال اور تصورقراردے کر مستردکيا انہوں نے کہا کہ محمد (ص) کو شاعر يا پيغمبر کہا جاسکتا ہے کيونکہ ان کي باتيں کسي معمولي انسان کي باتيں نہيں ہيں ان باتوں کا سرچشمہ حقائق اشياء کاباطن ہے اور محمد (ص) نے انہي حقائق کےہمراہ زندگي گذاري ہے- اسکےباوجود کارلائل احتياط کا مظاہرہ کرتے ہوۓ کہتے ہيں کہ ہم نے محمد کو تسليم کيا ہے ليکن سب سے بڑے پيغمبر کے عنوان سے نہيں، انہيں کسي بھي طرح سب سے اہم پيغمبر قرارنہيں ديا جاسکتا ليکن ميں انہيں ايک سچا پيغمبر مانتا ہوں ہمارا يہ رائج نظريہ کہ محومت مکار اوردھوکہ بازتھے غلط اور بے بنياد نظريہ ہے -کارلائل محمد (ص) کے خلاف يورپ کے الزامات کے بارےميں کہتے ہيں کہ يہ مغربي دنيا کے مٹھي بھر توہين آميز الزامات اور دشنام تراشي ہے جسکي محمد(ص) کي طرف نسبت دي گئي ہے وہ کہتے ہيں کہ محمد (ص) کي زندگي ميں آغاز سے انجام تک کسي طرح کا تضاد ديکھنے کو نہيں ملتا - کارلائل کہتے ہيں کہ محمد (ص) نے زندگي کے آخري لمحے تک بے راہ روي، خود پسندي جاہ طلبي اور بے انصافي کے خلاف جنگ کي، محمد (ص) نے وحشي پن اور بربريت کا خاتمہ کرنے کے لۓ مدني و اخلاقي قوانين وضع کۓ اور لاقانونيت اور افراتفري کا ازالہ کرنے کے لئے انتظامي قوانين اور تہذيبي اصول مقرر کۓ ان کا کہنا ہے کہ محومت کي شہوت پرستي کے بارے ميں بہت کچھ کہا اور لکھا گيا ہے ليکن يہ محض الزامات ہيں بلکہ برعکس محمومت پرہيزگار زاھد تھے اور جنہوں نےہر معاملے ميں افراط کو مسترد کيا ہے -

يہ بعض دلائل کا نمونہ تھا جو اسکاٹ لينڈ کے اس جري مصنف نے يورپ کي مسموم فضاميں محمد (ص) کے دفاع ميں لکھے ہيں ان کي کتاب کي اشاعت کےبعد بہت سے لوگوں نے ان پر شديد تنقيد کي اور انہيں عيسائيت سے خيانت کرنے والا قرارديا-

ہيرو پرستي پر مبني کارلائل کے نظريات نے نئي نسل پر گہرے اثرات چھوڑے- نطشے مافوق الفظرت انسان کے قائل تھے تاہم يہ عقيدہ نہيں رکھتے تھے کہ بزرگ ہستيوں کي خدا ھدايت کرتا ہے کيونکہ ان کي نظرميں خدامرچکا تھا ان کے خيال ميں بزرگ ہستيوں کي طاقت ان کي باطني تبديليوں کا اثر تھي جسے وہ صرع سے تعبير کرتے تھے البتہ اس صرع اور قرون وسطي کي صرع ميں زمين و آسمان کا فرق ہے يہ صرع ايک طرح کا دماغي اور باطني فعل وانفعال ہے کہ جس کے سہارے انسان دوسروں سے ممتاز ہوجاتا ہے -

مصنفہ: مينوصميمي

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں :

محمد (ص) مسيح مخالف فرد کي حيثيت سے