• صارفین کی تعداد :
  • 472
  • 1/4/2012
  • تاريخ :

دور حاضر ميں  پيش آنے والي  تبديلياں (پانچواں حصّہ)

کتابیں

مذکورہ کہانياں ظاہر کرتي ہيں کہ گلوبلائزيشن کي زد ميں ہمارا گاوءں بھي آ گيا ہے- شہر ميں تو مال بن چکا تھا- قصبہ اور گاوءں ميں بھي صارفيت اور نفع کا ديو سرايت کرنے کے در پہ ہے- ديو ہيکل ٹرانسميشن ٹاور کے ذريعے امريکہ، برطانيہ، آسٹريليا وغيرہ سستي مزدوري کے سائے ميں Sale Promote کر رہے ہيں- اسي طرح کلچرل ہسٹري کے تئيں جبر کي صورت بدل چکي ہے- اب جہيز کے ليے عورت کو جلايا جا رہا ہے بظاہر افتتاح غريب ضرور کر رہا ہے مگر پسِ پشت اشتہاري داوءں ہے بے شمار عفووں کو بے وقوف بنانے کا اُن کا استحصال کرنے کا-

آج کي کہاني کا نيا مگر فطري انداز”‌ ميرا من قصہ سنو”‌ميں نظر آتا ہے- اس ميں سيد محمد اشرف نے انوکھا اور چونکا دينے والا لہجہ اختيار کيا ہے- کل کا ميرامن داستان گو تھا مگر آج کا ميرامن کلکتہ کے فورٹ وليم کالج سے نکل کر گاوءں اور قصبوں ميں حبس زدہ لوگوں سے اُن کي روداد سن رہا ہے- اُس طرح نہيں جيسےReality Show ميں نامور اداکار، ادا کارائيں اپني اپني روداد سناتے ہيں مگر وہ روداديں صد في صد سچ نہيں ہوتيں بلکہ  Scripted ہوتي ہيں يعني سب لکھے ہوئے ڈرامے کے مکالمے بولتے ہيں مگر عصر حاضر کا مير امن عوام کي دلدوز کيفيت کو نہايت فطري انداز ميں پينٹ کرتا ہے-  يہ ميلو ڈرامائي انداز سابقہ انداز سے مختلف اور اکيسويں صدي کي ضرورت کے مطابق ہے-

دس سال کي فکري تبديلي ميں دہشت پسندي زور پکڑتي اور روشن خيالي ماند پڑتي نظر آ رہي ہے- مذہبي رجحانات اور اعتقادات گہرے ہو رہے ہيں- نقل مکاني، علاقائي تاثرات مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جا رہے ہيں جن کي وجہ سے مرکزي افکار متصادم ہيں- مرکز کے انہدام کا تصور تيزي سے فروغ پا رہا ہے اور شائد ما بعد جديد تصور کا تعلق بھي اسي سے ہے افسانے ميں ہئيتي تبديلي کو ديکھيں تو آج نہ ہي وحدت تاثر کي وہ اہميت ہے اور نہ ہي کسي خاص کمنٹ مينٹ سے وابستگي، البتہ زبان کي سطح پر تجربوں کا ايک طوفان سا ہے- لساني تجربات، فنّي تجربات، ہيئتي تجربات””–اس تجرباتي دور ميں جن افسانہ نگاروں نے انساني رشتوں، نفسياتي پيچيدگيوں اور تہذيبي بحران کي سرحدوں کو پھلانگ کر يا ان کے دوش بدوش بدلتي دنيا کے مظاہر کو اپنے فن کا حصہ بنايا ہے- ان کي مذکورہ تخليقات عصري حسيت کے تقاضوں کو پورا کر رہي ہيں اور قاري پر دير پا اثرات قائم بھي کر رہي ہيں کيونکہ ان ميں نئي لفظيات کے ساتھ ايسي تہہ دار علامتيں بھي ہيں جن سے قاري اُکتاہٹ کا شکار نہيں ہوتا-

تحرير : پروفيسر صغير افراہيم

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان