• صارفین کی تعداد :
  • 2338
  • 12/15/2011
  • تاريخ :

عورت اور قديم معاشروں کي بدقسمتي ( حصّہ چہارم )

خاتون

ارشاد خداو ندي ہے: فَقُلْنَا يَاآدَمُ إِنَّ ہَذَا عَدُوٌّ لَّکَ وَلِزَوْجِکَ فَلاَيُخْرِجَنَّکُمَا مِنْ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰي - "پھر ہم نے کہا اے آدم! يہ تم اور تمہاري زوجہ کا دشمن ہے کہيں يہ تم دونوں کو جنت سے نکلوا نہ دے پھر تم پر مصيبتيں نہ آ پڑيں -" ( سورہ طہ -122) قرآني آيات کے مطالعہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ درخت سے دونوں کو منع کيا گيا تھا -وسوسہ شيطاني دونوں کے ليے تھا- جنت سے اترنا دونوں کے ليے تھا-شيطان کے دشمن ہونے کا تذکرہ دونوں کے ليے تھا- بلکہ دشمني کے سلسلہ ميں خطاب بھي دونوں کو ہوا- لہٰذا واضح ہوا کہ اس مسئلہ ميں جناب حوا ہي تنہا قصور وار نہيں ہيں البتہ شوہر نامدار کي شريک کار ضرور ہيں- ايک آيت ميں تو براہ راست صرف آدم عليہ السلام کيلئے ہي وسوسہ شيطاني کا ذکر ہوا -

 جيسا کہ ارشاد خداوندي ہے: فَوَسْوَسَ إِلَيْہِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَاآدَمُ ہَلْ أَدُلُّکَ عَليٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْکٍ لَّايَبْلٰي "پھر شيطان نے ان کے دل ميں وسوسہ ڈالا اور کہا آے آدم! کيا ميں تمہيں اس ہميشگي کے درخت اور لازوال سلطنت کے بارے ميں نہ بتاğ - ( سورہ طہ -120) بہرحال بحسب الظاہر حضرت آدم عليہ السلام ہي کے ليے احکام تھے خدا کے فرامين انہيں کيلئے ہي تھے زحمت ودقت بھي ان کيلئے ہي تھي لباس کا اترنا بھي انہي کے ليے تھا حضرت حوا بہ حيثيت زوجہ ان امورميں مبتلا ہوئيں - جيسا کہ ايک مقام پر خداوند نے يہاں تک فرمايا ہے : وَلَقَدْ عَہِدْنَا إِلٰي آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَہ عَزْمًا "اور تحقيق ہم نے اس سے پہلے آدم سے عہد ليا تھا ليکن وہ بھول گئے( ترک کر ديا ) ہم نے ان ميں کوئي عزم نہيں پايا - (سورہ طہ -120)

اللہ تعالي کي مقدس کتاب قرآن مجيد کو يہ مرتبہ حاصل ہے کہ اس نے عورت کے مرتبے کو انسانوں کے ليۓ واضح کيا اور بتايا کہ حضرت حوا زوجہ ہونے کي وجہ سے شريک کار تھيں -خدا کے نمائندے آدم عليہ السلام پر ہي احکام کا نزول ہوا اور انہي سے عہد ليا گيا تھا جو پورا نہ ہو سکا- کيوں؟ کيا اس کي وجہ سے عصمت ميں فرق نہيں پڑے گا - اس کا تذکرہ کسي مناسب مقام پر کريں گے- حضرت حوا ان معاملات ميں مورد الزام نہيں ٹھہرتيں لہٰذا بے چاري عورت پر اشکال کوئي معني نہيں رکھتا- عورت بھي انسان ہے، عورت بھي مکلف ہے، مردوں کي طرح سے عورتيں بھي صالح ہيں اور عظمت عورت ميں کوئي کلام نہيں -مرد کي طرح عورت بھي اشرف المخلوقات اور انسان ہے -

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں :

عورت اور ترقي  (حصّہ دهم)