• صارفین کی تعداد :
  • 742
  • 12/8/2011
  • تاريخ :

شب کہ برقِ  سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا

شعلۂ جوالہ ہر يک حلقۂ گرداب تھا

 مرزا غالب دہلوی

شب کہ برقِ  سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا

شعلۂ جوالہ ہر يک حلقۂ گرداب تھا

يعني ابر کا زہرہ آب تھا اور جو گرداب اس ميں پڑتا تھا وہ شعلہ جوالہ تھا ، يہ فقط ميرے سوزِ  دل کي تاثير تھي -

واں کرم کو عذر بارش تھا عناں گير خرام

گريہ سے ياں پنيۂ بالش کفِ سيلاب تھا

يعني انھيں تو کرم کرنے ميں بارش مانع تھي اور ميرا روتے روتے يہ حال ہوا تھا کہ پان بجائے پنيۂ بالش کفِ سيلاب تھا -

واں خود آرائي کو تھا موتي پرونے کا خيال

ياں ہجوم اشک ميں تارِ  نگہ ناياب تھا

يعني تار نگہ ميں اس کثرت سے آنسو پروئے ہوئے تھے کہ وہ خود پوشيدہ و مفقود ہو گيا تھا جس طرح دھاگے کو موتي چھپاليتے ہيں ديکھو پوري تشبيہ پائي جاتي ہے مگر تازگي اس بات کي ہے کہ تشبيہ دينا مقصود نہيں ہے شاعر دو متشابہ چيزيں ذکر کررہا ہے اور پھر تشبيہ نہيں ديتا ہے -

جلوۂ گل نے کيا تھا واں چراغاں آبجو

ياں رواں مژگان چشم تر سے خون ناب تھا

يعني وہاں اس کثرت سے اور اتني دُور تک تختۂ گل تھا کہ اس کے عکس سے معلوم ہوتا تھا کہ چراغاں نہر ميں ہورہا ہے اور يہاں دُور تک خون کے آنسو بہہ نکلے تھے اور آب جو کے مقابلے ميں چشم تر تھي اور شاخ ہائے گل کے جواب ميں پلکوں پر لہو کي بونديں - آب جو کے بعد ’ کو ‘ کا لفظ حذف کر دينا کچھ اچھا نہيں معلوم ہوتا -

ياں سر پر شور بے خوابي سے تھا ديوار جو

واں وہ فرق ناز محو بالش کمخواب تھا

يعني نيند نہ آنے کے سبب سے ميرا سر ديوار کو ڈھونڈ رہا تھا اور ميں سر ٹکرانا چاہتا تھا -

ياں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودي

جلوۂ گل واں بساط صحبتِ احباب تھا

يعني ہماري محفل ميں شمع آہ روشن تھي اور وہاں کي صحبت ميں پھولوں کا فرش تھا ، احباب سے معشوق کے احباب مراد ہيں -

فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موجِ  رنگ کا

ياں زميں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا

يعني وہاں رنگ و عيش کي رنگ رلياں ہورہي تھيں اور ہم يہاں جل رہے تھے سوختن کے باب سے ماضي و حال و مستقبل کي تصريف مراد ہے نزاکت يہ ہے کہ اس امتداد زمانے کو جو تصريف ميں سوختن کے ہے مصنف نے امتداد مکاني پر منطبق کيا ہے دوسرا پہلو يہ بھي نکلتا ہے کہ يہاں کا زمين و آسمان آگ لگادينے کے قابل ہے -

ناگہاں اس رنگ سے خون نابہ ٹپکانے لگا

دل کہ ذوقِ  کاوش ناخن سے لذت ياب تھا

يعني اس رنگ سے جو آگے کي غزل ميں آتا ہے اور کاوش ناخن استعارہ ہے کاوش غم سے -

نالۂ دل ميں شب انداز اثر ناياب تھا

تھا سپند بزم وصل غير گو بيتاب تھا

يعني اگرچہ دل بيتاب بنا مگر اُس کي بيتابي برخلاف مدعا تھي گويا دل بيتاب سپند بزم وصل غير تھا -

مقدم سيلاب سے دل کيا نشاط آہنگ ہے

خانۂ عاشق مگر سازِ  صدائے آب تھا

يعني سيلاب کے آنے سے خانۂ عاشق صدائے آب کا ارغنوں بن گيا جس کو سن کر دل کو سرور و نشاط ہے - آہنگ کا لفظ مناسب ساز ہے غرض يہ ہے کہ عشاق کو اپني خانہ خرابي سے لذت حاصل ہوتي ہے -

نازش ايام خاکستر نشيني کيا کہوں

پہلوئے انديشہ وقفِ  بستر سنجاب تھا

يعني اگرچہ ميں خاک نشيں تھا ليکن ميرا دل قناعت کے فخر و ناز کے سبب سے فرش سنجاب پر لوٹ رہا تھا -

کچھ نہ کي اپنے جنونِ  نارسا نے ورنہ ياں

ذرّہ ذرّہ روکش  خورشيد  عالم تاب تھا

جنونِ  نارسا نے کچھ نہ کي يعني اکتسابِ فيض سے اور اتحادِ معشوق سے محروم رکھا ، ورنہ ايک ايک ذرّہ نے ايسا اکتسابِ نور کيا تھا کہ رشک دہ آفتاب تھا -

آج کيوں پرواہ نہيں اپنے اسيروں کي تجھے

کل تلک تيرا بھي دل مہر و وفا کا باب تھا

ياد کر وہ دن کہ ہر اک حلقہ تيرے دام کا

انتظار صيد ميں اک ديدۂ بے خواب تھا

يہ قطعہ ہے اور حلقۂ دام کو ديدۂ بے خواب سے تشبيہ دي ہے وجہ شبيہ يہ ہے کہ ديدۂ بے خواب کي طرح حلقۂ دام کھلا رہتا ہے -

ميں نے روکا رات غالب کو وگرنہ ديکھتے

اُس کے سيل گريہ ميں گردوں کفِ سيلاب تھا

يعني سيلاب گريہ آسمان تک بلند ہو جاتا -

پيشکش: شعبہ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

بيسويں صدي کي آخر دو دہائيوں ميں اُردو ناول کے موضوعات و رجحانات (چوتھا حصّہ)