• صارفین کی تعداد :
  • 1356
  • 11/23/2011
  • تاريخ :

بيسويں صدي کي آخر دو دہائيوں ميں اُردو ناول کے موضوعات و رجحانات (چوتھا حصّہ)

اردو کے حروف تہجی

عورت اُردو ناول کا مخصوص موضوع رہا ہے معاشرے ميں اس کے ساتھ ہونيوالي نا انصافي اور ظلم و ستم کو بہت سے ناول نگاروں نے بيان کيا ہے- انور سن رائے نے "ذلتوں کے اسير" (1998ء) ميں ظلم و زيادتي کي اس روداد کو بڑے حقيقي انداز ميں پيش کيا ہے ان کے پہلے اور دوسرے ناول ميں تقريباً دس سال کا وقفہ ہے- "چيخ" (1987ء) مارشل لاء کے دور ميں ہونے والے مظالم کا منظرنامہ ہے- انور سن رائے مارشل لاء کے دوران افراد کي نفسياتي کيفيت کو ان الفاظ ميں اجاگر کرتے ہيں-

"مجھے اس سے پہلے کسي عدالت ميں حاضر ہونے کا ذاتي تجربہ نہيں تھا

ليکن اس سے کيا فرق پڑتا ہے جب ذات ہي نہ ہو تو ذاتي نوعيت کے تجربات کي کيا اہميت"

ثريا شہاب کا "سفر جاري ہے" بھي مارشل لاء کے تناظر ميں لکھا گيا- اس ميں مارشل لاء کے نتيجے ميں پيدا ہونے والي کٹھن اور بے يقيني کو موضوع بنايا گيا ہے- يہ بے يقيني، محروميوں اور انساني حقوق کے استحصال کے نتيجے ميں پيدا ہوتي ہے مثلاً

"سمجھوتوں کي اس سرزمين ميں اسے ہر طرف ہر شخص اس ميں بندھا نظر آتا ہے- لوگ کھل کر بات کرنا بھول گئے تھے- منافقت کي ردائيں اوڑھ لي تھيں اور کسي بھي شخص کا اصل چہرا پہچانا دشوار ہوگيا تھا- ايسے وقت ميں پيغمبر تو ہجرت کرجايا کرتے ہيں وہ کيا کرے-"

ارشد وحيد کا "گمان" (1995ء) خالص سياسي پس منظر ميں لکھا جانے والا ناول ے جو مارشل لاء کے خلاف احتجاج کي روداد ہے-

"بس جي اب بھٹو دوبارہ آئے گاتب ہي کچھ ہوگا رسول بخش نے کہابھٹو؟  ہاں جي رسول بخش نے زور ديتے ہوئے کہا بس اب بہت ہوگيا جي-بڑا انتظار ہوگيا جي اب اس نے آہي جانا ہے پھر سب ٹھيک ہو جائے گايہ ضيا تو جي جتني مرضي گولياں برسالے کوڑے لگالے پھانسياں لگالے اس نے تو جانا ہي ہے-"

يوں انور سن رائے کا "چيخ" (1987ء) ثريا شہاب کا "سفر جارے ہے" (1995ء) اور ارشد وحدي کا "گمان" (1995ء) مارشل لاء کے جبري دور کو موضوع بناتے ہيں-

طارق محمود کا "اللہ ميگھ دے" (1987ء) رضيہ فصيح احمد کا "صديوں کي زنجير" (1988ء) اور مستنصر حسين تارڑکا "راکھ" (1997ء) کا موضوع پاکستان کا قومي الميہ سقوط ڈھاکہ ہے- تينوں ناول مشرق کي عليحدگي کے اسباب سے بحث کرتے ہيں- مغربي پاکستان ميں مشرقي پاکستانيوں کے استحصال کو ناول نگاروں نے مکمل ديانت داري سے بيان کيا ہے-  طارق محمود نے سادگي اور سچائي کے ساتھ چھوٹي چھوٹي مثالوں سے واضح کيا ہے کہ بنگلہ تحريک تنظيم بننے کے مراحل تک کسي طرح پروان چڑھي طلبا کے ذہن کس طرح اتحاد کے ٹکڑے کرنے پر مائل ہوئے-

"سليم اللہ ہال کے صدر دروازے پر ميں نے ايک پوسٹر ديکھا سوشيالوجي ڈيپارٹمنٹ کے پاشا کا ہاتھ بہت منجھا ہوا تھا- ايک گائےدکھائي دي جو گھاس کو مشرق پاکستان ميں کھا رہي تھي سارا بنگلہ سے رستاہوا دودھ مغربي پاکستان ميں بہہ رہا تھا-"

رضيہ فصيح احمد کا ناول "صديوں کي زنجير" (1988ء) بھي مغربي پاکستان کے رہنماوں کے متعصب رويئے کو بيان کرتا ہے- بنگلہ ديش کي مالي صورتحال کو وہ قارئين پر اس طرح منکشف کرتي ہيں-

"اچھا قالين خريدوگي بڑے اچھے قالين آئے ہوئے ہيں- جوٹ کے بنے ہوئے بہت سستے ہيں-

مگر قالين جائيں گے کيسے؟سب چلے جائيں گے آئے دن مغربي پاکستانيوں کي فرمائشيں آتي رہتي ہيں-ارے بھئي کراکري کٹلري ڈنر سيٹ قالين فرنيچر کاريں کيا چيز ہے جويہاں سے نہيں جاتي- يہاں چيزيں سستي ملتيں ہيں خريدنے والا کوئي نہيں سواے ہم دو چار مغربي پاکستانيوں کے"

تحریر: ڈاکٹر عقيلہ جاويد

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

بيسويں صدي کي آخر دو دہائيوں ميں اُردو ناول کے موضوعات و رجحانات