• صارفین کی تعداد :
  • 1864
  • 11/3/2011
  • تاريخ :

مسلمان اور مومن کون؟

بسم الله الرحمن الرحیم

مسلمانوں کے درميان اتحاد برقرار کرنے کي اہميت و ضرورت کے بارے ميں جو باتيں اوپر بيان ہوئي ہيں اس ميں کسي مسلمان کے لئے شک و ترديد کي گنجائش نہيں ہے ليکن يہ سوال باقي رہ جاتا ہے کہ کلامي اور فقہي لحاظ سے کس کو مسلمان اور مومن کہا جاتا ہے ؟

ان نبوي روايات کے مطابق جنھيں شيعہ اور سني ہر ايک نے حديث کي اپني اپني معتبر کتابوں ميں نقل کيا ہے مسلمان وہ شخص ہے جو خدا کي وحدانيت اور حضرت پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي رسالت کي گواہي دے نيز قيامت ، پنجگا نہ نماز ، روزہ ، زکوٰة اور حج کا عقيدہ رکھتا ہو -

عن عکرمة بن خالد عن ابن عمر قال قال رسول اللّٰہ ( ص ) بني الاسلام علي خمس : شھادة ان لا الٰہ اللّٰہ و ان محمداً رسول اللّٰہ و اقامة الصلوٰة و ايتاء الزکوٰة و الحج و صوم رمضان :حضرت پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا ہے: اسلام کي بنياد پانچ چيزوں پر رکھي گئي ہے : خدا کي وحدانيت ، حضرت پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي رسالت پر گواہي ، نماز قائم کرنا، زکوٰة دينا ، حج کرنا اور ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھنا - ( بخاري بغير تاريخ ، ج/ 1 ص/ 11 )

عن ابن عمر ان رسول اللّٰہ قال :امرت ان اقاتل الناس حتيٰ يشھدوا ان لا الٰہ الا اللہ و ان محمداً رسول اللّٰہ و يقيموا الصلوٰة و يوتوا الزکوٰة فاذا فعلوا ذلک عصموا مني دمائھم و اموالھم : ابن عمر سے روايت ہے کہ جناب رسول خدا نے فرمايا: مجھے يہ حکم ديا گيا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں تاکہ وہ خدا کي وحدانيت اور محمد کي رسالت کي گواہي ديں ، نماز پڑھيں اور زکوٰة ديں پس جب وہ لوگ اس پر عمل کريں گے تو ان کا خون اور مال ميري جانب سے محفوظ ہو جائے گا - ( بخاري ، ج/ 1 ص/ 13 )

عن ابن عمر بن الخطاب سئل رجل عن النبي من الاسلام قال : يا محمد ! اخبرني عن الاسلام ، فقال رسول اللّٰہ (ص ) الاسلام ان تشھد ان لا الٰہ الا اللّٰہ و ان محمدا ً رسول اللّٰہ و تقيم الصلوٰة و توتي الزکوٰة و تصوم رمضان و تحج البيت ان استطعت اليہ سبيلا ”¤”¤”¤ قال : فاخبرني عن الايمان ، قال : ان تومن باللّٰہ و ملائکتہ و کتبہ و رسلہ و اليوم الآخر و تومن بالقدر خيرہ و شرہ : ايک شخص نے جناب رسول (صلي الله عليه و آله وسلم) سے پوچھا کہ اسلام کيا ہے ؟ آپ نے فرمايا : اسلام يہ ہے کہ تم گواہي دو کہ خدا کے علاوہ کوئي معبود نہيں اور محمد اس کے رسول ہيں ، نماز پڑھو ، زکوٰة دو ، ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھو اور استطاعت کي صورت ميں خانہ کعبہ کا حج کرو - اس کے بعد اس نے پوچھا کہ ايمان کيا ہے ؟ حضرت پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا: خدا ، ملائکہ ، تمام ( آسماني ) کتابوں ، انبياء ،قيامت ، قضا و قدر اور خير و شر پر ايمان لاؤ - ( قشيري ، 261ھ ، ج/1 ص/ 37)

عن عجلان ابي صالح قال : قلت لابي عبد اللّٰہ (ع ) اوقفني علي حدود الايمان ، فقال : شہادة ان لا الٰہ الا اللّٰہ و ان محمد ا رسول اللّٰہ (ص) والا قرار بما جاء بہ من عند اللّٰہ و صلوات الخمس و اداء الزکوٰة و صوم شھر رمضان و حج البيت و ولاية ولينا و عداوة عدونا و الدخول مع الصادقين :عجلان سے مروي ہے کہ ميں نے حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے عرض کيا : مجھے ايمان کي تعريف بيان فرمائيں - امام عليہ السلام نے فرمايا: خدا کي وحدانيت اورحضرت محمد صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي رسالت کي گواہي دينا ، آپ جو کچھ خدا کي جانب سے لائے ہيں سب کا اقرار کرنا ، پنج گانہ نمازيں پڑھنا ، زکوٰة دينا ، ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھنا ، خانہ کعبہ کا حج کرنا ، ہمارے دوستوں سے دوستي اور ہمارے دشمنوں سے دشمني کرنا اور صادقين کي زمرہ ميں داخل ہونا ( کليني بي تا ، ج/1 ص/29 )

بشکريہ :  اردو ڈاٹ فورٹين ڈاٹ کام

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

ديني غيرت کو فراموش مت کريں (حصّہ دوّم)

ديني غيرت کو فراموش مت کريں

صفائي پسندي تکلف نہيں ہے

حقوق العباد کيا ہيں ؟

لالچي بوڑھا اور ہارون الرّشيد