• صارفین کی تعداد :
  • 1673
  • 10/24/2011
  • تاريخ :

روزي کو کم و زيادہ کرنے والے عوامل

سوالیہ نشان

روزي کو بڑھانے والے  بعض عوامل مندرجہ ذيل ہيں :

*  وقت سحر بيدار ہونے والے ماں باپ کے ليۓ دعا

* فحش باتوں سے دوري

* گھر کے دروازے پر جھاڑو دينا

* برتنوں کو دھونا

* صلہ رحمي

* غذا شروع کرنے سے پہلے اور بعد ميں ہاتھوں کو دھونا

* آفتاب غروب ہونے کے بعد چراغ روشن کرنا

* دسترخوان پر گرے ہوۓ ٹکڑوں کو کھانا

* بالوں ميں کنگھي کرنا

* ناخن اور مونچھوں کو جمعہ کے روز کوتاہ کرنا اور ياقوت يا فيروزہ کي انگوٹھي انگليوں ميں پہننا

* مومن کے ليۓ دعا  وغيرہ وغيرہ

انسان جو اس کرہ زمين پر زندگي بسر کر رہا ہے اسے زمين پر موجود دوسري موجودات سے امتيازي حيثيت صرف اور صرف اس وجہ سے حاصل ہے کہ وہ عاقل اور باشعور ہے - انسان کو اللہ تعالي نے اشرف المخلوقات کا درجہ ديا ہے - انسان اپني عقل کي بنا پر تشخيص ديتا ہے کہ انسان صرف اپنے بدن کي بناء پر باقي نہيں رہ سکتا ہے اور اسے زندہ رہنے کے ليے بہت سي دوسري چيزوں کي ضرورت ہوتي ہے جن ميں کھانے پينے کي اشياء ،پہننے کے لوازمات اور رہنے کے ليۓ گھر شامل ہيں - انسان کي بقاء کا يہ سرمايہ درحقيقت رزق ہے - (1) البتہ لغت ميں رزق کا معني عطاۓ دائمي آيا ہے  اور يہ کہنا بہتر ہو گا کہ کلمہ رزق ماديات تک محدود نہيں ہے بلکہ دعاؤ ں  ميں موجود رزق ماديات اور معنويات سے اعم ہے -

مثلا :اللهم الرزقنا توفيق اطاعه؛

اے اللہ اپني  اطاعت کي توفيق کو ميرا رزق بنا دے  اور  معنويات خواہ دنياوي ہو خواہ اخروي - قابل ذکر ہے کہ  قرآن ميں نبوت کو رزق قرار ديا گيا ہے [2]

انسان کے ليۓ کسب روزي کے ليۓ اصلي ترين عامل اس کي اپني تلاش ، کوشش اور ہمت ہوتي ہے کيونکہ

 ليس للإنسان إلا ما سعي[3]

" انسان کو وہي ملتا ہے جس کے ليۓ وہ کوشش کرتا ہے "

 يعني اگر انسان نے ہمت کي ، تلاش کي اور کوشش کي تو اللہ تعالي اس کو ضرور نوازتا ہے اور برکت ديتا ہے اور اگر اس نے سستي کي تو اسے تنگدستي کے سواء کچھ بھي حاصل نہيں ہو گا -

 اللہ تعالي ايک دوسري جگہ فرماتا ہے کہ

"ہر کوئي اپني کوشش و تلاش کے مطابق جزا پاتا ہے " 4]

اور زندگي کي اس راہگذر ميں ہر کوئي روزي کي تلاش ميں گيا  چاہے مادي لحاظ سے چاہے معنوي لحاظ سے ، اس نے فائدہ حاصل کيا  اور جس کسي نے سستي کي اس کے ليۓ افسوس کے سواء کچھ نہيں بچا اور بالکل اسي طرح کسب روزي کے ليۓ معصومين سے ہدايت ہوئي کہ حتي  آنے والے کل کي روزي کا غم بھي نہيں کرنا چاہيۓ -رسول اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم حضرت امام علي عليہ السلام سے فرمايا کرتے تھے کہ  : لا تهتم برزق غد فان کل غديأتي برزقه؛[5]

" خود کو آنے والے کل کي روزي کي زحمت ميں مت ڈالو کيونکہ ہر روز اس روز کي روزي اس کے ساتھ آ جاۓ گي - "

تجارت

روزي ميں زيادتي کے عوامل ميں ايک اور چيز جس پر بہت تاکيد ہوئي ہے وہ تجارت ہے  مثلا " وسائل الشيعھ " ميں  احاديث کا ايک باب ہے جس ميں ہميں اجناس کي تياري اور تجارت کا شوق دلايا گيا ہے کہ ہم يہاں اس حصے سے کچھ کا بطور نمونہ ذکر کريں گے -

حضرت امام صادق عليہ السلام کي ايک حديث ميں ہے کہ

تسعه أعشار الرزق في التجاره؛

رزق کا نو دھم حصہ تجارت ميں ہے - [6]

حتي کہ يہ  تشويق [ شوق دلانا ] يہاں تک جا پہنچي کہ معصومين اسے عقل کے زيادہ ہونے کا سبب جانتے ہيں -

امام صادق عليہ السلام کي ايک حديث ميں آيا ہے کہ

" تجارت عقل کو زيادہ کرتي ہے " [7]  

خدا پر توکل

دوسرے عوامل جن کي وجہ سے روزي ميں اضافہ ہوتا ہے ان ميں خدا پر توکل بھي شامل ہے - اللہ تعالي نے جس مخلوق کو پيدا کيا ، جسے احسن الخالقين کہا اور جسے زمين پر اپنا خليفہ مقرر کيا ، اسے  وہ رزق اور روزي  دينا بالکل بھي  نہيں بھولتا ويسے ہي جيسے آسمان کے پرندوں اور زمين ميں رينگنے والے کيڑے مکوڑوں کو روزي دينا اسے ياد رہتا ہے - اس کے مقابلے ميں ہمارے اوپر کچھ ذمہ دارياں عائد ہوتي ہيں جنہيں ہميں ہرگز فراموش نہيں کرنا چاہيۓ کيونکہ ہميں روزي دينے والا صرف اللہ ہے - اس ايک خدا کے سواء کوئي بھي دوسرا ہميں روزي مہيا نہيں کرتا ہے -

حضور اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ :

لوانکم تتوکلون علي الله حق توکله لرزقکم کما يرزق الطير...[8]

تم ميں سے جو کوئي  خدا پر توکل کرے  گا  اس طرح کہ حق توکل کو ادا کرے ، خدا تمہاري روزي کو دے گا جس طرح آسمان پر پرندوں کو روزي دے گا -

حضرت علي عليہ السلام کا اس بارے ميں ارشاد ہے کہ

من توکل علي الله سبحانه کفي و استغني

جس کسي نے بھي خدا پر توکل کيا تو وہ اس کے ليۓ کافي ہے اور اللہ تعالي اسے ہر دوسري چيز سے بے نياز کرے -

 خانداني اقتصاد اور معيشت ميں قناعت اور ميانہ روي روزي کو جلب کرنے والے اسباب کے نزديک کرتے ہيں - يعني نہ افراط اور نہ تفريط - اس بارے ميں بہت سي احاديث موجود ہيں -

حضرت امام علي عليہ السلام کا فرمان ہے کہ

کن قنعا تکن غنياً[9]

قانع رہو يہاں تک کہ بےنياز ہو جاؤ - کسي بھي غير خدا کے سامنے ہاتھ پھيلانے اور مانگنے سے -

حضرت علي عليہ السلام ايک دوسرے جگہ پر فرماتے ہيں کہ

کوئي بھي دولت قناعت کي مانند نہيں ہے [10]

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان

حوالہ جات :

 [1] . شرح مناجات شعبانيه محمد گيلاني، نشر سايه چاپ، 73، ص 88.

[2] . سيد اکبر قرشي «قاموس القرآن» دارالکتب الاسلاميه، سال 1361، ص 81.

[3] . نجم، 53/39.

[4] . طه 20 -15.

[5] . حکم الظاهره، ص 470 نشر سازمان تبليغات، 72 علي رضا صابري يزدي.

[6] . وسائل الشيعه، ج17، ح 21845، ص 7، مؤسسه آل البيت.

[7] . وسائل ح2185 ج17.

[8] . حکم الظاهر ص470 ح 4678.

[9] . حکم الظاهره، ص478 ح4732.

[10] . حکم الظاهره، ص 479 ح 4739.


متعلقہ تحريريں:

حقوق العباد کيا ہيں ؟

لالچي بوڑھا اور ہارون الرّشيد

حزب اللّٰہي شان سے کيوں نہ رہے؟!

بہترين شريک تجارت

جوانمردي