• صارفین کی تعداد :
  • 2346
  • 10/14/2011
  • تاريخ :

ناراضگي کي حد  سے  تين قدم پہلے ہي رک جاؤ

ناراضگی

ہم نے اپني گذشتہ  تحرير بعنوان " ميرا شوہر ناراض  کيوں ہوتا  ہے "  ميں ناراضگي کي وجوہات اور بنيادوں پر تحقيق کي کہ کون سے افراد کن اقسام کي روحي و رواني کيفيات ميں ناراضگي  کي حالت ميں نظر  آتے ہيں - ہم نے اس پر بھي بات کي کہ کون سے اقدامات  ہميں ناراضگي  کي کيفيت سے بچاتے ہيں اور ہميں بڑے پريشان کن حالات سے نجات دلاتے ہيں -  آج کي اس تحرير ميں ہم ايسي باتوں کو زير بحث لائيں گے جن کو اختيار کرکے  ہم ناراضگي  کي طرف جانے والے راستوں کو ہي بند کر سکتے ہيں -

جب ناراضگي کے ليۓ مطلوبہ وجوھات اور  مواد ميسر آ جائيں تو پھر بہت ہي مشکل ہو جاتا ہے کہ ہم ناراض نہ ہوں   مگر ايسي حالت کے ليۓ احتياطي تدابير موجود ہيں - ناراضگي  دونوں اطراف کے ليۓ  درد ناخواستہ کا باعث بنتي ہے مگر پھر بھي ايسا ہو جاتا ہے - شايد اس کي وجہ يہ  ہے کہ  " ناراضگي " ايک ابتدائي برتاؤ نہيں ہے بلکہ ايک طرح کے ردعمل کا نام ہے - اس ليۓ  ناراضگي کا مقابلہ کرتے ہوۓ جو  بہترين کام ہم کر سکتے ہيں وہ يہ ہے کہ ناراضگي کي حالت سے پہلے   ہي احتياطي تدابير اختيار کريں - دوسري صورت ميں جب غصہ دلانے والے حالات پيدا ہو جائيں تو ان پر کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے -

شادي کے ايک سال کے بعد  يہ ضرور پتہ چل جاتا ہے کہ آپ کا جيون ساتھي  کس شخصيت کا مالک ہے - اگر غصہ اور ضدبازي اس کي شخصيت پر غالب ہو تو آپ آساني سے ايسے حالات کي پيش بيني کر سکتے ہيں جو اسے غصّہ دلانے کا باعث بنتے  ہيں - خانداني لڑائي جھگڑے ميں ہمدردي کا عنصر موجود ہوتا ہے اس ليۓ جب کوئي جھگڑتا ہے تو اپنے اندر ايک لچک پيدا کر ديتا ہے - دوسرے الفاظ ميں ايسا فرد غصے ميں اس وقت آتا ہے جب وہ خشم و ہيجاني کيفيت سے بھر جاۓ ليکن پھر بھي اس خشم کو باہر نکالنے کے ليۓ کوئي کام کرنے سے باز رہتا ہے -

اس ليے غصے کے حملے کو روکنے کے ليۓ ہم دو پہلوğ پر کام کر سکتے ہيں - پہلا يہ کہ ايسے فرد کي قوّت برداشت کو بڑھا ديا جاۓ -  اس کام کے ليۓ معاشرتي معاملات اور کھيل کود ميں اس کي شرکت کو ممکن بناتے ہوۓ اس کي اخلاقي تربيت کريں  تاکہ وہ بہت جلد عصباني نہ ہو - دوسرا يہ کہ آپ خود بھي اس بات کا خيال رکھيں کہ کوئي ايسا کام نہ کريں جو اسے غصّہ دلانے کا باعث بنے -

جب دو افراد ميں لڑائي جھگڑا ہوتا ہے تو ان ميں طاقت ور اور غصے والا فرد شدت کے ساتھ اپنا دفاع کرتا ہے اور چلاتے ہوۓ اپني بات کو منوانے کي کوشش کرتا ہے - ايسا شخص بہت جلد اپنے اوپر طاري ہونے والے منفي احساسات کو دور کرنے کي کوشش کرتا ہے - اس کے برعکس  کمزور اور مظلوم شخض صرف ديکھتا ہے ، دوسرے کي بڑھکيں سنتا ہے ، اپنے متعلق نازيبا الفاظ کو برداشت کرتا ہے ليکن ايسے کمزور شخص کا انتقام ايک لمبے عرصے کے بعد سامنے آتا ہے جو بڑا زبردست ہوتا ہے - يہ وہ برتاؤ ہوتا ہے جو زندگي ميں ايک مدت کے بعد قابل پيش بيني ہوتا ہے -

اس ليے طرف مقابل کے غصے سے بچنے کے ليۓ جو کام آپ کر سکتے ہيں وہ يہ ہے کہ اس کے دل و دماغ  کو منفي  ہيجان کي طرف مت جانيں ديں - ايسے شخص سے اس کي ذات اور برداشت کے مطابق احتياط کے ساتھ برتاؤ کريں - اس سے بات چيت  يا کوئي بحث کرتے ہوۓ اس انداز سے مناسب الفاظ کا استعمال کريں کہ وہ اسے لڑائي جھگڑا تصوّر ہي نہ کرے -  

ضروري ہے کہ تناؤ اور غصے کي حالت ميں اپنے اعصاب کو مکمل قابو ميں رکھيں - اگر ايسے شخص سے آپ اس طرح سے برتاؤ کريں کہ وہ  آپے سے باہر ہو جاۓ اور ڈر اور خطرہ محسوس کرتے ہوۓ حالات کے پيش نظر آپ کے سامنے تسليم ہو بھي  جاۓ ليکن اس کے بعد آپ اس کے غصّے اور ضد کے منتظر رہيں  گے  کيونکہ آپ کے تمام منفي احساسات اور  تناؤ اس ميں منتقل ہو کر ايسے بارود کي شکل اختيار کر جائيں گے  جو کسي بھي وقت پھٹ سکتا ہے - ليکن اگر  بڑے محتاط انداز ميں عمل کرتے ہوۓ اس کي نفسيات کے مطابق آگے بڑھيں تو  اس حالت ميں اس کا عکس العمل بہت کند ہو گا  اور مخفيانہ طور پر اپنے غصّے  کو ناراضگي کي صورت ميں ظاہر کرے گا -

تحرير : سيد اسداللہ ارسلان

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

آزاد اور پيار بھرے خانداني باہمي تعلقات (حصّہ دوّم)

آزاد اور پيار بھرے خانداني باہمي تعلقات

گھر کى آمدنى اور خرچ

بدزباني

ادب