• صارفین کی تعداد :
  • 3186
  • 10/10/2011
  • تاريخ :

حرکات

الله

حروف پر آنے والي علامتوں کي پانچ قسميں ھيں جن ميں سے تين کو حرکات کھا جاتا ھے - زبر - زير - پيش -  جسے عربي ميں فتحہ ،ضمہ ، کسرہ کھتے ھيں - باقي دو ميں ايک "مد" "  ظ“"  اور دوسرے کو" سکون" کھا جاتا ھے -

مد

مد کي دو قسميں ھيں:

1- مد اصلي

2- مد غير اصلي

مد اصلي

وہ مد ھے جس کے بغير واؤ - الف - ي - کي آواز اد ا نھيں کي جا سکتي اور اس کے لئے عليحدہ سے کسي سبب کي ضررت نھيں ھوتي جيسے قال- - قيل -يقول -

ان مثالوںميں الف -ي -واؤ کي آواز پيدا کرنے کے لئے ان حرف کو دو حرکتوں کے برابر کھينچنا ھو گا - واضح رھے کہ مٹھي بند کر کے متوسط رفتار سے ايک انگلي کے کھولنے ميں جتني دير لگتي ھے وہ ايک حرکت کي مقدار ھے -

مد غير اصلي

وہ مد ھے جھاں"  واؤ، الف، ي " کي آواز کو کسي سبب ( ھمزہ يا سکون ) کي وجہ سے مد اصلي کے مقابل زيادہ کھينچ کر ادا کيا جاتا ھے -

مد غير اصلي کي ھمزہ کے اعتبار سے دو قسميں ھيں : 1- واجب متصل 2- جائز متصل

واجب متصل

يہ اس مد کا نام ھے جس ميں مد اور ھمزہ ايک ھي کلمہ کا جز ھوں جيسے: جآء - شئت -سوء کہ ان تينوں مثالوں ميں الف - ي - واؤ - اور ھمزہ ايک ھي کلمہ کا جز ء ھيں - اس مد کے کھينچنے کي مقدار چار سے پانچ حرکات کے برابر ھے -

جائز متصل

وہ مد ھے جو حروف مد سے پھلے کلمہ کے آخر ميں اور ھمزہ دوسرے کلمہ کے شروع ميں واقع ھو ، جيسے "  انا اعطيناک - توبوا" الي اللہ - بني اسرائيل -" اس کي مقدار بھي چار سے پانچ حرکات کے برابر ھے -

مدغير اصلي کي سکون کے اعتبار سے چار قسميں ھيں - 1- مد لازم - 2- مد عارض - 3- مد لين - 4- مد عوض

مد لازم

اس مد کا نام ھے جس ميں واؤ - الف - ي - کے بعد والے ساکن حرف کا سکون لازمي ھو يعني کسي بھي حالت ميں نہ بدل سکتا ھو جيسے  يٰس (يا سين ) حظ“مظ“عظ“سظ“قظ“ (حا- ميم -عين - سين - قاف ) الحاقة  اس کي مقدار چار حرکات کے برابر ھے -

مد عارض

اس مد کا نام ھے جس ميں واؤ -الف -ي - کے بعد والے حرف کو وقف کے سبب ساکن کر ديا گيا ھو جيسے" غفور ، خبير، عقاب، خوف" - مد عارض کو دو ، چار ياچہ حرکتوں کے برابر کھينچنا جائز ھے ليکن چہ کے برابر بھتر ھے -

مد لين

حروف لين کے بعد والا حرف ساکن ھو تو اس پر بھي مد آجائيگا- اگر اس حرف کا سکون لازم ھو تو اسے مد لين لازم کھيں گے جيسے " حمعسق "  -اس مد کي مقدار چار حرکات کے برابر ھے- اگر سکون عارضي ھو تو اسے مد لين عارض کھيں گے جيسے خوف " اس کو دو حرکات کے برابر کھينچ کر پڑھنا چاھئے -

مد عوض

ايسے حرف پر وقف کرنے کي صورت ميں ھوتا ھے جھاں دو زبر ( تنوين ) ھوں جيسے" عليماً - حکيماً "- اس کي مقدار دو حرکتوں کے برابر ھے -

اہل البيت پورٹل


متعلقہ تحريريں:

قرآن مجيد کي آيات ميں محکم اور متشابہ سے کيا مراد ہے؟ (حصّہ دوّم)

قرآن مجيد کي آيات ميں محکم اور متشابہ سے کيا مراد ہے؟

قرآني معلومات (حصّہ سوّم)

قرآني معلومات (حصّہ دوّم)

حروف تھجي کي انداز اور ادا ئيگي