• صارفین کی تعداد :
  • 1618
  • 8/29/2011
  • تاريخ :

قرآن مجيد اور اخلاقي تربيت ( حصّہ پنجم )

قرآن مجید

” ”‌الا تنصروہ فقد نصرہ اللہ اذا خرجہ الذين کفروا ثاني اثنين اذہما في الغار از يقول لصاحبہ لا تحزن ان اللہ معنا فانزل اللہ سکينة عليہ ايدہ بجنود لم لم تروہا و جعل کملة الذين کفرو السفليٰ و کلمة اللہ ہي العليا اللہ عزيز حکيم-” (توبہ 40)

”‌اگر اتم ان کي نصرت نہيں کروگے تو خدا نے ان کي نصرت کي ہے جب انہيں کفار نے دو کا دوسرا بنا کر وطن سے نکال ديا اور وہ اپنے ساتھي سے کہہ رہے تھے کہ رنج مت کرو خدا ہمارے ساتھ ہے تو خدا نے ان پر اپني طرف سے سکون نازل کرديا اور ان کي تائيد اسے لشکروں کے ذريعہ کي جن کا مقابلہ ناممکن تھا اور کفار کے کلمہ کو پست قرار ديا اور اللہ کا کلمہ تو بہر حال بلند ہے اور اللہ صاحب عزت بھي ہے اور صاحب حکمت بھي ہے-”

آيت اوليٰ ميں فرعون کے دور کے جادوگروں کے جذبہ ايماني کي حکايت کي گئي ہے جہاں فرعون جيسے ظالم و جابر کے سامنے بھي اعلان حق ميں کسي ضعف و کمزوري سے کام نہيں ليا گيا اور اسے چيلينج کر ديا گيا کہ تو جو کرنا چاہے کرلے-  تيرا اختيار زندگاني دنيا سے آگے نہيں ہے اور صاحبان ايمان آخرت کے ليے جان ديتے ہيں انہيں دنيا کي راحت کي فکر يا مصائب کي پروا نہيں ہوتي ہے-

اور دوسري آيت ميں سرکار دو عالم کے حوصلہ کا تذکرہ کيا گيا ہے اور صورت حال کي سنگيني کو واضح کرنے کے ليے ساتھي کا بھي ذکر کيا گيا جس پر حالات کي سنگيني اور ايمان کي کمزوري کي بنا پر حزن طاري ہو گيا اور رسول اکرم کو سمجھانا پڑا کہ ايمان و عقيدہ صحيح رکھو- خدا ہمارے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ خدا ہوتا ہے اسے کوئي پريشاني نہيں ہوتي ہے اور وہ ہر مصيبت کا پورے سکون اور اطمينان کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے- اس کے بعد خدائي تائيد اور امداد کا تذکرہ کرکے يہ بھي واضح کر ديا گيا کہ رسول اکرم کا ارشاد صرف تسکين قلب کے ليے نہيں تھا بلکہ اس کي ايک واقعيت بھي تھي اور يہ آپ کے کمال ايمان کا اثر تھا کہ آپ پر کسي طرح کا حزن و ملال طاري نہيں ہوا اور آپ اپنے مسلک پر گامزن رہے اور اسي طرح تبليغ دين اور خدمت اسلام کرتے رہے جس طرح پہلے کر رہے تھے بلکہ اسلام کا دائرہ اس سے زيادہ وسيع تر ہو گيا کہ نہ مکہ کا کام انسانوں کے سہارے شروع ہوا تھا اور نہ مدينہ کا کام انسانوں کے سہارے شروع ہونے والا ہے- مکہ کا صبر و تحمل بھي خدائي امداد کي بنا پر تھا اور مدينہ کا فاتحانہ انداز بھي خدائي تائيد و نصرت کے ذريعہ ہي حاصل ہو سکتا ہے-

بشکريہ رضويہ اسلامک ريسرچ سنٹر


متعلقہ تحريريں:

قرآن مجيد اور اخلاقي تربيت ( حصّہ دوّم )

فرشتوں کے ہم نشين بن جاؤ ( حصّہ دوّم )

فرشتوں کے ہم نشين بن جاؤ

قرآن مجيد اور اخلاقي تربيت

قرآن ميں وقت کي اہميت کا ذکر (حصّہ سوّم )