• صارفین کی تعداد :
  • 2267
  • 4/25/2011
  • تاريخ :

شیخ صدوق دوسروں كی نظر میں

بسم الله الرحمن الرحیم

شیخ صدوق دوسروں كی نظر میں

شیخ صدوق كی عظمت كا یہ عالم ھے كہ شیعہ اور سنی دونوں فرقہ كے علماء جب بھی آپ كے نام تك پھونچے تو آپ كی مدح و ثناء كرنے لگے اور آپ كی عظمت كا كلمہ پڑھا اور بلند و طویل القاب اور پرمعنیٰ عبارتوں كے ساتھ آپ كا نام لیا ھے ۔ ان بزرگوں كے كلام كی بعض تعبیریں تو انسان كو تعجب كے كٹگھرے میں لا كھڑا كرتی ھیں اور آپ كی والا شخصیت كے سامنے انسان كے تعظیمی جذبہ میں اور زیادہ اضافہ كر دیتی ھیں ۔ شیخ طوسی الفھرست میں لكھتے ھیں : صدوق، عظیم حافظ احادیث، ناقد اخبار اور عالم رجال تھے ۔ ذھنی پختگی اور علمی اعتبار سے قم كے دانشوروں میں آپ كے مانند كوئی نھیں تھا ۔

محمد بن ادریس نے بھی كتاب سرائر میں لكھا ھے :

آپ ایك عظیم دانشور، قابل اطمینان، عالم اخبار، ناقد آثار، عالم رجال اور حدیث كے عظیم حافظ تھے، آپ ھمارے پیشوا شیخ مفید محمد بن محمد بن نعمان كے استاد ھیں ۔

مشھور عالم رجال نجاشی لكھتے ھیں :

ھمارے فقیہ اور بزرگ صدوق خراسان كے شیعوں كی مشھور و معروف شخصیت تھی ۔ وہ اپنی جوانی كے ایام میں ۳۵۵ میں بغداد تشریف لائے اور وھاں كے بزرگوں نے آپ كی خدمت میں آكر فیض حاصل كیا ۔

سید ابن طاؤوس نے بھی آپ كی اس طرح توصیف كی ھے : شیخ ابو جعفر محمد بن علی بن بابویہ كی یہ شخصیت تھی كی آپ علم و عمل میں مورد اتفاق اور گفتار میں كامل اطمینان كے قابل ھیں ۔ اور شیخ اسد اللہ شوشتری كتاب مقابس الانوار میں آپ كے بارے میں رقم طراز ھیں : صدوق رئیس المحدثین، اساس دین كو حیات دینے والے، صاحب فضایل و مكارم تھے وہ اور ان كے بھائی حضرت امام حسن عسكری اور حضرت ولی عصر علیھما السلام كی دعا كے ذریعہ پیدا ھوئے تھے ۔

علامہ مامقانی اپنی كتاب تنقیح المقال میں تحریر فرماتے ھیں : محمد بن علی بن بابویہ كی وہ شخصیت ھے جس كی فقاھت سے تمام لوگوں نے اور جس كی احادیث سے تمام فقھاء نے استفادہ كیا ھے اور نامور علماء اور دانشورں نے آپ كی تعریف و تمجید كی ھے اور آپ كی عظمتوں كو سلام كیا ھے ۔

مرحوم سید حسن صدر آپ كے بارے میں لكھتے ھیں : محمد بن علی بن حسین نے تین سو سے زیادہ كتابیں تصنیف كی ھیں اور اسلامی دانشوروں مین آپ كی كوئی مثال نھیں ملتی ۔

یہ تمام توصیفات و تعریفات فقط شیعہ علماء اور دانشورں سے ھی مختص نھیں ھیں، اھل سنت بھی آپ كے مدح سرا رھے ھیں، ھم اس مختصر مقالے میں فقط بطور نمونہ ایك كی طرف اشارہ كر رھے ھیں ۔ خیر الدین زركلی اپنی معروف كتاب الاعلام میں لكھتے ھیں :

محمد بن علی بن حسین المعروف بہ شیخ صدوق كی مثال قم كے علماء میں نھیں تھی وہ رے میں مقیم تھے اور خراسان و شرقی علاقوں میں عظیم مقام ركھتے تھے، شھر رے میں رحلت فرمائی اور وھیں پر سپر خاك ھوئے اور آپ نے تقریبا تین سو كتابوں كو تالیف كیا ۔

روایت اور گفتار میں صداقت

علم رجال كے باب میں ایك مسئلہ جو مورد توجہ قرار دیا جاتا ھے اور جس كے ذریعہ محدثین حدیث كو قبول كرتے ھیں وہ مسئلہ علمائے رجال كا راوی كی وثاقت، اطمینان اور صداقت كی تصریح كرنا ھے جب كہ علمائے رجال كے كلام میں صدوق كی وثاقت كا بیان ندرت سے ملتا ھے ۔ عالم تشیع كے عظیم محدث اور وسائل الشیعہ جیسی كتاب كے مولف شیخ حر عاملی اسی سلسلہ میں تحریر فرماتے ھیں : بزرگ رجال نویس علماء نے اس قدر آپ كی تعریف و تمجید كی ھے جو كہ توثیق سے كم نھیں ھے ۔ جس وقت كوئی شخص اس قدر شھرت كا حامل ھو كہ اس كی حالت كسی سے بھی ڈھكی چھپی نہ ھو تب اس كی توثیق كی ضرورت نھیں ھوتی ۔ شیخ صدوق پر علمائے دین كا اعتماد اس درجہ پر تھا كہ اگر ان كو " آپ مورد وثوق اور قابل اطمینان ھیں" جیسی عبارتوں سے تعبیر كیا جائے تو یہ ان كی شان میں گستاخی ھی ھو گی ۔ محقق بحرانی فرماتے ھیں :

بعض اصحاب كو دیكھا ھے جو صدوق كی نقل كی ھوئی مرسلہ روایات  كو صحیح جانتے ھیں اور كھتے ھیں كہ صدوق كے مراسیل ابن ابی عمیر كی مراسیل سے كمتر نھیں ھیں كتاب ” مختلف “ میں علامہ ”شرح ارشاد“ میں شھید اور ”حواشی فقیہ“ میں سید داماد ان لوگوں میں سے ھیں جنھوں نے آپ كی مر اسیل كو صحیح جانا ھے ۔

مشھور رجالی علامہ مامقانی تنقیح المقال میں تحریر فرماتے ھیں : اس مرد كی وثاقت، عدالت اور عظمت كو خدشہ اور تامل كی نگاہ سے دیكھنا فروزاں خورشید كے نور میں تامل كرنے كی طرح ھے حضرت ولی عصر عجل اللہ فرجہ الشریف نے آپ كے بارے میں فرمایا ھے : ان اللہ سبحانہ ینفع بہ ۔ خداوند عالم اس كے ذریعہ لوگوں كو نوازے گا ۔ یہ خود ھی آپ كی وثاقت اور عدالت كی دلیل ھے ۔

نیز بعض لوگوں نے آپ كی وثاقت كو سلمان و ابوذر كی وثاقت كے مثل جانا ھے ۔

مولف : محمد حسین فلاح زادہ

مترجم : ذیشان حیدر زیدی

(گروه ترجمه سایت صادقین)


متعلقہ تحریریں:

شیخ صدوق كے بچپن اور نوجوانی كا دور

شیخ صدوق كی ولادت

شیخ صدوق كا حسب و نسب

شیخ صدوق ؛ حدیث صداقت

سید رضی  اور ایك بے موقع غروب