• صارفین کی تعداد :
  • 2712
  • 3/13/2011
  • تاريخ :

شیخ صدوق ؛ حدیث صداقت

شیخ صدوق کا مزار

شیخ كی جائے ولادت

محمد بن علی بن بابویہ جو شیخ صدوق كے نام سے مشھور ھیں تقریباً ۳۰۶ ھ ق میں شھر قم میں پیدا ھوئے ۔ شھر قم قلب ایران میں طھران كے جنوب میں ۱۳۵ كلو میٹر كے فاصلے پر واقع ھے یہ جانا پھچانا شھر ھے اور قدیم الایام سے ھی شھر علم و اجتھاد كے عنوان سے مشھور ھے ۔

قم كا نام ھمیشہ سے شیعہ تاریخ و ثقافت سے جڑا رھا ھے اور یھاں كے قدیم زمانے كے لوگ اسلام كی طرف رغبت اور ھادیان دین سے عشق كے سلسلے میں پیش قدم رھے ھیں ۔ یہ ایسا شھر ھے جس نے اپنی آغوش میں عدیم المثال اور عظیم علماء، محدثین و فقھائے اسلام كی پرورش كی ھے، یہ ایسا مقام ھے جو حدیث، تفسیر، فقہ اور تاریخ جیسے اسلامی علوم كا مركز تھا اور دور حاضر میں مكتب تشیع اور اسلامی علوم كی یونیورسٹی كی شكل اختیار كر چكا ھے ۔

نشر علوم اھل بیت علیھم السلام كے سلسلے میں یھاں كے علماء كی جان فشانیاں اس قدر تھیں كہ اموی و عباسی خلفاء كے پر آشوب دور میں اس شھر كے برجستہ افراد نے خدمت ائمہ علیھم السلام میں حاضری دی تعلیم حاصل كی اور ان كے افكار كو مختلف شھروں میں پھیلایا ۔

ھم یھاں كے علم و ثقافت كے درخشاں ماضی كو یھاں پر موجود مقبروں سے سمجھ سكتے ھیں، مورخین كے مطابق تقریباً سات سو بزرگ راوی اور محدث اس علاقہ میں مدفون ھیں، كتنی ایسی عظیم ھستیاں ھیں جن كی ولادت اور تعلیم كا مقام یھی شھر رھا ھے ۔ ان میں ایك عظیم شخصیت " شیخ صدوق " كے نام سے ھے ھم اس تحریر میں ان كی پرعظمت زندگی پر روشنی ڈالیں گے ۔

مولف : محمد حسین فلاح زادہ

مترجم : ذیشان حیدر زیدی

(گروه ترجمه سایت صادقین)


متعلقہ تحریریں:

سید رضی  اور بحر بے كراں كا ایك قطرہ

سید رضی اور تربیتی جلوے

سید رضی اور پہلی یونیورسٹی

سید رضی اور گلستان معرفت

سید رضی اور دلیر روح