• صارفین کی تعداد :
  • 4175
  • 10/9/2010
  • تاريخ :

حضرت فاطمہ کا انصار سے خطاب

حضرت فاطمہ(س)

اس کے بعد انصارکی طرف متوجہ هوئیں اورفرمایا:

اے اسلام کے مددگار بزرگو! اور اسلام کے قلعوں، میرے حق کو ثابت کرنے میں کیوں سستی برتتے هو اور مجھ پر جو ظلم و ستم هو رھا ہے اس سے کیوں غفلت سے کام لے ر ہے هو ؟! کیا میرے باپ نے نھیں فرمایا تھا کہ کسی کا احترام اس کی اولاد میں بھی محفوظ رھتا ہے ( یعنی اس کے احترام کی وجہ سے اس کی اولاد کا احترام بھی هوتا  ہے؟)

تم نے کتنی جلدی فتنہ برپا کردیا  ہے اور کتنی جلدی هوا و هوس کے شکار هوگئے! تم اس ظلم کو ختم کرنے کی قدرت رکھتے هو اور میرے دعوی کو ثابت کرنے کی طاقت بھی۔

یہ کیا کہہ ر ہے هو کہ محمد مرگئے !  (اور ان کا کام تمام هوگیا) یہ ایک بھت بڑی مصیبت ہے جس کا شگاف ھر روز بڑھتا جا رھا ہے اور خلاء واقع هو رھا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جانے سے زمین تاریک هوگئی اور شمس و قمر بے رونق هوگئے، ستارے مدھم پڑ گئے، امیدیں ٹوٹ گئیں، پھاڑوں میں زلزلہ آگیا اور وہ پاش پاش هوگئے ھیں ، حرمتوں کا پاس نھیں رکھا گیا اور پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے وقت ان کے احترام کی رعایت نھیں کی گئی۔

خدا کی قسم  یہ ایک بھت بڑی مصیبت تھی جس کی مثال دنیا میں نھیں مل سکتی۔

یہ اللہ کی کتاب  ہے جس کی صبح و شام تلاوت کی آواز بلند هو رھی ہے اور انبیاء علیھم السلام کے بارے میں اپنے حتمی فیصلوں کے بارے میں خبر دے رھی  ہے اور اس کے احکام تغیر ناپذیر ھیں (جیسا کہ ارشاد هوتا  ہے) :

”اور محمد (ص) صرف خدا کے رسول ھیں، ان سے پھلے بھی دوسرے پیغمبر موجود تهے، اب اگر وہ اس دنیا سے چلے جائیں، یا قتل کردئے جائیں تو کیا تم دین سے پھر جاوٴگے، اور جو شخص دین سے پھر جائے گا وہ خدا کو کوئی نقصان نھیں پهونچا سکتا، خدا شکر کرنے والوں کو جزائے خیر دیتا ہے“ ۔

اے فرزندان قیلہ ( اوس و خزرج) کیا یہ مناسب  ہے کہ میں اپنے باپ کی میراث سے محروم رهوں جبکہ تم یہ دیکھ ر ہے هو اور سن رہے هو اور یھاں حاضر بھی هو اور میری آواز تم تک پهونچ بھی رھی  ہے اور تم واقعہ سے با خبر بھی هو، تمھاری تعداد زیادہ  ہے، تمھارے پاس طاقت و اسلحہ بھی  ہے، اور میں تم کو اپنی مدد کے لئے پکار رھی هوں، لیکن تم اس پر لبیک نھیں کھتے، میری فریادکو سن ر ہے هو مگر فریاد رسی نھیں کرتے هو، تم بھادری میں معروف اور نیکی سے موصوف اور خود نخبہ هو ، تم ھی ھم اھلبیت  (ع) کے لئے منتخب هوئے، تم نے عربوں کے ساتھ جنگیں لڑیں، سختیوں کو برداشت کیا، مختلف قبیلوں سے جنگ کی، سو رماوں سے زورآزمائی کی، جب ھم قیام کرتے  تهے تو تم بھی قیام کرتے  تهے ھم حکم دیتے  تهے اور تم اطاعت کرتے  تهے ۔

یھاں تک کہ اسلام نے رونق پائی اور نعمتیں اور خیرات زیادہ هوئےں، مشرکین کے سر جھک گئے، ان کا جھوٹا وقار و جوش ختم هوگیا، اور کفر کے آتش کدے خاموش هوگئے، شورش اور شور و غل ختم هوگیا اور دین کا نظام مستحکم هوگیا۔

اے گروہ انصار: متحیر هوکر کھاں جار ہے هو ؟! حقائق کے معلوم هونے کے بعد انھیں کیوں چھپاتے هو، اور قدم آگے بڑھانے کے بعد پیچ ہے کیوں ہٹا ر ہے هو، اورایمان لانے کے بعد مشرک کیوں هو ر ہے هو ؟

” بھلا تم ان لوگوں سے کیوں نھیں لڑتے جھنوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا  ہے اور رسول کا شھر بدر کرنا چاھتے ھیں، اور تم سے پھلے پھل چھیڑ بھی انھوں نے ھی شروع کی تھی کیا تم ان سے ڈرتے هو ،حالانکہ کہ اگر تم سچے ایماندار هو تو تمھیں صرف خدا سے ڈرنا چاہئے ۔“

میں دیکھ رھی هوں کہ تم پستی کی طرف جار ہے هو جو شخص لائق حکومت تھا اس کو برکنار کردیا اورتم گوشہ نشینی اختیار کرکے عیش وعشرت میں مشغول هو،زندگی کے وسیع وعریض میدان سے فرار کرکے راحت طلبی کے تنگ وتار ماحول میں پھنس گئے هو، جو کچھ تمھارے اندرتھا اسے ظاھر کردیااور جوپی چکے  تهے اسے اگل دیا، ”لیکن آگاہ رهو اگرتم اور روئے زمین پرآباد تمام انسان کافرهوجائیںتو خدا تمھارا محتاج نھیں ہے ۔“

حضرت فاطمہ(س)

اے لوگو! جو کچھ مج ہے کہناچاہئے تھا سوکہہ دیا، چونکہ میںجانتی هوںکہ تم میری مددنھیںکروگے، تم لوگ جو منصوبے بناتے هو مجھ سے پوشیدہ نھیںھیں، دل میں ایک درد تھا جس کو بیان کردیاتاکہ تم پرحجت تمام هوجائے اب فدک اورخلافت کوخوب مضبوطی سے پکڑے رکھو،لیکن یہ بھی جان لو کہ اس راہ میں بڑی دشواریاں ھیں اور اس”فعل “کی رسوائیاں اورذلتیں ھمیشہ تمھارے دامن گیر رھیںگی۔

خدا اپنا غیظ وغضب زیادہ کریگا اوراس کی سزا جہنم هوگی،” خدا تمھارے کردارسے آگاہ  ہے بھت جلد ستمگاراپنے کئے هوئے اعمال کے نتائج دیکھ لیں گے“

اے لوگو! میں تمھارے اس نبی کی بیٹی هوںجس نے تمھیں خدا کے عذاب سے ڈرایا،اب جو کچھ تم لوگ کرسکتے هو کرو، ھم اس کا ضرور انتقام لیںگے تم بھی منتظر هو ، ھم بھی منتظرھیں۔


متعلقہ تحریریں:

مسجد نبوی میں فاطمہ زھرا (ع) کا تاریخ ساز خطبہ (حصّہ چهارم)

خطبة الزھراء (س) بنساء المھاجرین و الاٴنصار

ہمیں خود کو پیغمبر اعظم کے خاندان سے منسوب ہونے کے لائق بنانا چاہئے

محبوب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی محبوب بیٹی  کا یوم ولادت

 زندگي نامہ حضرت فاطمہ زہرا سلام الله عليہا

فدک اور فضائل حضرت فاطمہ زھرا(س)

 نبی اکرم(ص) کے غم میں گریہ و بکا

فاطمہ زھرا(س) محافظ دین و ولایت

 حضرت زھرا کی حکمت عملی

جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا کي مختصر ليکن برکتوں سے سرشار عمر