• صارفین کی تعداد :
  • 4978
  • 9/14/2010
  • تاريخ :

مسجد نبوی میں فاطمہ زھرا (ع) کا تاریخ ساز خطبہ (حصّہ چهارم)

حضرت فاطمہ(س)

جب خدا نے اپنے رسولوں اور پیغمبروں کی منزلت کو اپنے حبیب کے لئے منتخب کرلیا، تو تمھارے اندر کینہ اور نفاق ظاھر هوگیا، لباس دین کہنہ هوگیا اور گمراہ لوگوں کے سِلے منھ گھل گئے، پست لوگوں نے سر اٹھالیا، باطل کا اونٹ بولنے لگا اور تمھارے اندر اپنی دم ھلانے لگا، شیطان نے اپنا سر کمین گاہ سے  باھر نکالا اور تمھیں اپنی طرف دعوت دی، تم کو اپنی دعوت قبول کرنے کے لئے آمادہ پایا ، وہ تم کو دھوکہ دینے کا منتظر تھا، اس نے ابھارا اور تم حرکت میں آگئے اس نے تمھیں غضبناک کیا، تم غضبناک هوگئے وہ اونٹ جو تم میں سے نھیں تھا تم نے اسے علامت دار بناکر اس جگہ بٹھادیا جس کا وہ حق دار نہ تھا، حالانکہ ابھی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی موت کو زیادہ وقت نھیں گزرا تھا اور ھمارے زخم دل نھیں بھرے  تهے، زخموں کے شگاف بھرے نھیں  تهے، ابھی پیغمبر  (ص) کو دفن بھی نھیں کیا تھا کہ تم نے فتنہ کے خوف کے بھانے سے خلافت پر قبضہ جمالیا۔

”لیکن خبردار رهو کہ تم فتنہ میں داخل هوچکے هو اور دوزخ نے کافروں کا احاطہ کرلیا  ہے “۔

افسوس تمھیں کیا هوگیا ہے اور تم نے کونسی ڈگر اختیار کرلی ہے حالانکہ اللہ کی کتاب تمھارے درمیان موجود ہے اور اس کے احکام واضح اور اس کے امر و نھی ظاھر ھیں تم نے قرآن کی مخالفت کی اور اسے پس پشت ڈال دیا، کیا تم قرآن سے روگردانی اختیارکرنا چاھتے هو؟ یا قرآن کے علاوہ کسی دوسری چیز سے فیصلہ کرنا چاھتے هو؟

”ظالمین کے لئے کس قدر برا بدلا  ہے“

” جو شخص اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کو اختیا رکریگا اس کا دین قبول نھیں کیا جائیگا اور آخرت میں ایسا شخص سخت گھاٹے میں هوگا ۔“

تم خلافت کے مسئلہ میں اتنا بھی صبر نہ کر سکے کہ خلافت کے اونٹ کی سرکشی خاموش هوجائے اور اس کی قیادت آسان هوجائے (تاکہ آسانی کے ساتھ اس کی مھار کو ھاتھوں میں لے لو) اس وقت تم نے آتش فتنہ کو روشن کردیا اور اس کے ایندھن کو اوپر نیجے کیا  (تاکہ لکڑیاں خوب آگ پکڑلیں) اور شیطان کی دعوت کو قبول کرلیا اور دین کے چراغ اور سنت رسول (ص) کو خاموش کرنے میں مشغول هوگئے، تم ظاھر کچھ کرتے هو لیکن تمھارے دلوں میں کچھ اور بھرا هوا  ہے۔

میں تمھارے کاموں پر اس طرح صبر کرتی هوں جس طرح کسی پر چھری اور نیزے سے پیٹ میں زخم کردیا جاتا ہے، اور وہ اس پر صبر کرتا  ہے ۔

تم لوگ گمان کر تے هو کہ ھمارے لئے ارث نھیں ہے، ؟! ” کیا تم سنت جاھلیت کو نھیں اپنا ر ہے هو ؟!!

” کیا یہ لوگ  (زمانہ) جاھلیت کے حکم کی تمنا رکھتے ھیں حالانکہ یقین کرنے والوں کے لئے حکم خدا سے بھتر کون هوگا۔“

کیا تم نھیں جا نتے کہ صاحب ارث ھم ھیں، چنانچہ تم  پر روز روشن کی طرح واضح  ہے کہ میں رسول کی بیٹی هوں، اے مسلمانو! کیا یہ صحیح  ہے کہ میں اپنے ارث سے محروم رهوں (اور تم میری خاموشی سے فا ئدہ اٹھاکر میرے ارث پر قبضہ جمالو۔)

اے ابن ابی قحافہ ! کیا یہ کتاب خدا میں ہے کہ تم اپنے باپ سے میراث پاؤ  ور ھم اپنے باپ کی میراث سے محروم رھیں، تم نے فدک سے متعلق میرے حق میں عجیب و غریب حکم لگایا  ہے، اور علم و فھم کے با وجود قرآن کے دامن کو چھوڑدیا، اس کو پس پشت ڈال دیا؟

کیا تم نے بھلادیا کہ خدا قرآن میں ارشاد فرماتا ہے

<وورث سلیمان داود> ”جناب سلیمان نے جناب داود سے ارث لیا“

، اور جناب یحيٰ بن زکریا کے بارے میں ارشاد هوتا  ہے کہ انهوں نے دعا کی:

”بارِ الہٰا ! اپنی رحمت سے مج ہے ایک فرزند عنایت فرما، جو میرا اورآل یعقوب کا وارث هو“، نیز ارشاد هوتا  ہے: ” اور صاحبان قرابت خدا کی کتاب میں باھم ایک دوسرے کی  (بہ نسبت دوسروں ) زیادہ حق دار ھیں۔“ اسی طرح حکم هوتا  ہے کہ ” خدا تمھاری اولاد کے حق میں تم سے وصیت کرتا  ہے کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر  ہے “ ۔

نیز خداوند عالم نے ارشاد فرمایا:

”تم کو حکم دیا جاتا  ہے کہ جب تم میں سے کسی کے سامنے موت آکھڑی هو بشرطیکہ وہ کچھ مال چھوڑ جائے تو ماں باپ اور قرابت داروں کے لئے اچھی وصیت کرے ، جو خدا سے ڈرتے ھیں ان پر یہ ایک حق  ہے۔“

کیا تم گمان کرتے هو کہ میرا اپنے باپ سے کوئی رشتہ نھیں  ہے اور مجهے ان سے میراث نھیں ملے گی ؟

کیا خداوند عالم نے ارث سے متعلق آیات کو تم ھی لوگوں سے مخصوص کردیا ہے؟ اور میرے باپ کو ان آیات سے الگ کر دیا ہے ؟یا تم کھتے هو کہ میرا اور میرے باپ کا دو الگ الگ ملتوں سے تعلق ہے ؟ لہٰذا ایک دوسرے سے ارث نھیں لے سکتے۔

آیا تم لوگ میرے پدر بزرگوار اور شوھر نامدار سے زیادہ قرآن کے معنیٰ و مفاھیم ، عموم و خصوص اور محکم و متشابھات کو جانتے هو ؟

تم نے فدک اور خلافت کے مسئلہ کو اونٹ کی طرح مھار کرلیا  ہے اور اس کو آمادہ کرلیا ہے جو قبر میں تمھاری ساتھ  ر ہے گا اور روز قیامت ملاقات کرے گا ۔

اس روز خدا بھترین حاکم هوگا اور محمد بھترین زعیم ، ھمارے تمھارے لئے قیامت کا دن معین  ہے وھاںپر تمھارا نقصان اور گھاٹا آشکار هوجائےگا اور پشیمانی اس وقت کوئی فائدہ نہ پهونچائے گی،” ھر چیزکے لئے ایک دن معین  ہے“ ۔ ” عنقریب ھی تم جان لو گے کہ عذاب الٰھی کتنا رسوا کنندہ  ہے ؟ اور عذاب بھی ایسا کہ جس سے کبھی چھٹکارا نھیں“۔


متعلقہ تحریریں:

خطبة الزھراء (س) بنساء المھاجرین و الاٴنصار

جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا کي مختصر ليکن برکتوں سے سرشار عمر