• صارفین کی تعداد :
  • 3669
  • 9/13/2010
  • تاريخ :

امیر دولت شاہ

فارسی

امیر دولت شاہ کا خاندان اسفرائن میں آباد تھا ۔ ان کا خاندان اپنے علاقے میں نہایت ہی شریف اور قابل احترام تھا اور علاقے کے لوگ ان کے خاندان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے ۔ ان کے والد کا نام علاؤالدین بختی شاہ الغازی تھا جو امیر تیمور کے چھوٹے بیٹے شاہ رخ سلطان کے دربار سے منسلک تھے ۔ دولت شاہ کے زمانے میں علم کی کوئی خاص قدر نہ تھی جس پر دولت کو بہت دکھ ہوتا تھا ۔

اس زمانے میں شعراء کو بہت ہی کم اہمیت دی جاتی تھی اور چھوٹے درجے کے لوگ بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو جایا کرتے تھے ۔ اس زمانے کے علماء کرام بھی دلیری کا مظاہرہ نہیں کر پا رہے تھے اور معاشرے میں پائی جانے والی اس لاقانونیت کو روکنے میں انہوں نے کوئی عملی کام نہیں کیا تھا ۔

 دولت شاہ نے اپنے آباؤ اجداد کی شان و شوکت اور حکومت کے طریق کو خیرآباد کہہ دیا  اور معمولی زمینداری پر ہی قناعت کرتے ہوۓ گوشۂ نشینی اختیار کر لی ۔ اس کے بعد انہوں نے علوم و فنون کو پوری دلجمعی اور دلجوئی سے سیکھنا شروع کر دیا ۔

ان کا عظیم کارنامہ کہ جس کی وجہ سے ان کو شہرت نصیب ہوئی وہ یہ تھا کہ وہ انہوں نے " تذکرہ الشعراء " لکھا ۔ تقریبا پچاس سال کی عمر میں انہوں نے  اس کتاب کو لکھنا شروع کیا اور 892 ہجری میں انہوں نے اس کاوش کو سرانجام پہنچایا ۔

دولت شاہ کا ایک اور ماخذ  " چہار مقالہ " بھی تھا اور وہ فارسی زبان کے ایک عظیم سپوت تھے جنہوں نے سن 902 ہجری میں وفات پائی ۔ ان کے عظیم کارناموں کی وجہ سے انہیں  ہمیشہ یاد رکھا جاۓ گا ۔ 

تحریر : سید اسداللہ ارسلان


متعلقہ تحریریں:

خیام نیشاپوری

بابا طاھر عریاں