• صارفین کی تعداد :
  • 3591
  • 7/2/2010
  • تاريخ :

دوستی کے  اہم اصول (حصّہ دوّم)

دوستی

1.عفو و درگذر

عفو و درگذر ایک ایسا پانی ہے جو غضب، کینہ اور انتقام کی آگ کو بجھا دیتا ہے اور انسان کو روحی سکون ، اطمینان اور زندگی سے لذت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔ ’’ عفو و درگذر میں ایک ایسی لذت ہے جو انتقام میں نہیں ۔‘‘

اگر آپ دیکھیں کہ آپ کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہو ئی ہے، آپ کی ناقدری اور اہانت ہوئی ہے یا آپ کے ساتھ بد زبانی ہو ئی ہے تو آپ اسے معاف کردیں اور اسی کی طرح جواب نہ دیں گے تو آپ نے اپنی کرامت و بزرگواری کوثابت کیا ہے اور ثواب الٰہی کے بھی مستحق ہوئے ہیں ۔ قرآن کریم میں آیا ہے : فَمَنْْ عَفَا وَٲَصْْلَحَ فَٲَجْْرُہُ عَلَی اﷲِ .

﴿سورۂ شوریٰ،آیت۰۴﴾

جو شخص عفو و درگذر کرے اور اصلاح کرے اس کا ثواب و اجر خدا پر ہے۔ بے شک عفو و درگذر اس شخص کی جانب سے زیادہ پسندیدہ اور قابل ستائش ہے جو انتقام لینے کی قدرت رکھتے ہوئے معاف کردے ۔

2. مشکل کشائی

مصائب و مشکلات میں گرفتار لوگوں کو دیکھنا انسان کو خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو یاد دلاتا ہے اور ان نعمتوں کے شکرانہ میں بہتر تو یہی ہے کہ ہر شخص اپنی قدرت و قوت بھر دوسروں کی مشکل کشائی کرے ، ان کی مدد کرے اور ان کے چہروں سے رنج و غم کے گرد و غبار ہٹائے۔

خاص طور جس بات کی تاکید کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ کسی کے مانگنے اور حاجت و نیاز کو بیان کرنے سے پہلے ہی برادر مومن کی مشکل حل کرنے اور مشکل کشائی کے لئے اقدام کرنا چاہئے ۔

حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: جب کوئی مجھ سے لو لگائے اور میں درخواست سے پہلے اسے کچھ نہ دوں تو درحقیقت جو کچھ میں نے اسے دیا ہے اس کی قیمت میں پہلے ہی اس سے لے چکا ہو ں اس لئے کہ اس نے اپنی عزت و آبرو کو بیچ دینا ہے۔ ﴿الکافی،ج۴،ص۲۲﴾

3. عذر قبول کرنا

لغزش اور خطا کی بنا پر دوسروں سے معذرت چاہنا اور دوسروں کی معذرت خواہی کو قبول کرنا مکارم اخلاق اور کمال کی نشانی ہے۔

اگر ہمیں یہ بھی معلوم ہو کہ سامنے والا جو عذر بیان کررہا ہے وہ غلط ہے تب بھی تاکید کی گئی ہے کہ ہم اس کی معذرت قبول کریں۔ اسلئے کہ یہ برتاؤ ، عزت و آبرو کا محافظ ہے اور مزید پردہ دری اور بے آبروی سے روکتا ہے اور آپسی میل محبت اور دوستی کا سبب بنتا ہے۔حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: اقبل اعذار الناس تستمتع باخائھم۔لوگوں کے عذر کو قبول کرو تاکہ ان کی بھائی چارگی سے فائدہ اٹھا سکو۔﴿شرح غرر الحکم،ج۲،ص۵۱۲﴾

حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے ایک دن اپنے فرزندوں کو جمع کیا اور فرمایا: میرے بیٹو! میں تمہیں ایک ایسی نصیحت کرتا ہوں کہ جو بھی اس پر عمل کرے گا وہ گھاٹے میں نہیں رہے گا؛ اگر کوئی شخص تمہارے پاس آئے اور داہنے کان میں ناپسند باتیں کہے اس کے بعد دوسری طرف جاکر بائیں کان میں تم سے معذرت چاہے کہ میں نے کچھ نہیں کہا تو اس کے عذر کو بھی قبول کرلو۔ ﴿کشف الغمہ،ص۸۱۲﴾

4. لالچ سے دوری

جو شخص دوسروں کے مال و منال پر نظر رکھتا ہے اور حرص و طمع اسے مال کی زیادتی پر ابھارتی ہے وہ لوگوںکی نظر سے گر جاتا ہے ۔اس لئے کہ حرص وطمع ذلت کا سبب ہے اور اس سے نجات ،عزت بخش اور محبوبیت کاباعث ہے۔

حضرت امام علی علیہ السلام نے اپنے فرزند جناب محمد حنفیہ سے فرمایا: فان احببت ان تجمع خیر الدنیا و الآخرۃ فاقطع طمعک ما فی ایدی الناس۔ اگر تم خیر دنیا وآخرت چاہتے ہوتو لوگوں کے پاس موجود مال کو لالچ کی نگاہ سے نہ دیکھو۔﴿من لایحضرہ الفقیہ،ج۴،ص۹۱۳﴾

روح کی بے نیازی ، بلند ہمتی ، قناعت اور پرہیزگاری کا جذبہ انسان کو لالچ کا غلام بننے سے بچاتی ہے اور دوسروں کے مال و ثروت پر نظر رکھنا باعث ذلت و رسوائی بھی ہے اور روحی و وجدانی عذاب کا سبب بھی ۔

5. کسی کو اذیت نہ دینا

کبھی کبھی نیک افراد کی تعریف میں کہا جاتا ہے کہ وہ تو ایک چیونٹی کو بھی اذیت نہیں پہونچاتا تھا، لیکن دوسری طرف کتنی نفرت، مذمت اور لعنت ہے جو ایذا رسانی کرنے والوںپر نچھاور کی جاتی ہیں۔

دنیا و آخرت کی عزت و آبرو اور لوگوں کے نزدیک محبوبیت، دوسروں کو اذیت نہ پہونچانے میں پوشیدہ ہے۔ چاہے وہ زبانی او رعملی اذیت ہو یا مالی اور معیشتی نقصان یا ظاہری آبرو اور اجتماعی ایذا رسانی۔ جو شخص دوسروں کو اذیت پہونچانے سے پرہیز کرتا ہے در حقیقت وہ اپنے آپ کو بہت سے آزار و اذیت سے بچا لیتا ہے ۔ اسی حقیقت کو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس طرح بیان فرمایاہے: جو شخص لوگوں کو اذیت دینے سے دست بردار ہوتا ہے بے شک وہ ان کو اذیت دینے سے ایک ہاتھ کو روکتا ہے لیکن لوگ اسے ایذائ رسانی سے بہت سے ہاتھوں کو روکتے ہیں۔


متعلقہ تحریریں:

والدین اور ٹین ایجرز

جواں نسل اصلاح اور ہدایت کی روشن قندیل بنے