• صارفین کی تعداد :
  • 3755
  • 7/14/2009
  • تاريخ :

والدین اور ٹین ایجرز

والدین اور ٹین ایجرز

زمانہ بدل چکا ہے اور دور ِ جدید میں حالات نیا رُخ اختیار کرچکے ہیں۔ وہ بچے جو بچپن سے لڑکپن کی طرف گامزن ہوتے ہیں اپنے والدین کے لیے ایک اچنبھا بن جاتے ہیں۔ والدین اپنے علم اور تجربے کے مطابق اپنے بچوں کو اپنے ماضی کے حوالے سے جانچتے ہیں جب قدریں اور روایات مختلف ہوتی تھیں اور یہاں پر تنازعہ (Conflict) پیدا ہوتا ہے۔ کئی دفعہ والدین نا خوش رہتے ہیں اور لڑکے یا لڑکی سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں اور کئی دفعہ لڑکا یا لڑکی پریشان دکھائی دیتی ہے۔

اصل مسئلہ اس بات کا ادراک ہے کہ بچپن سے لڑکپن میں آنے کے بعد نہ صرف سوچنے کا انداز بدل جاتا ہے بلکہ سماجی اور معاشرتی رویوں میں بھی انقلاب آ جاتا ہے۔ اور یہ سب کچھ اس قدر شتابی سے ہوتا ہے کہ والدین اس برق رفتاری کا ساتھ نہیں دے سکتے اور حیران اور پریشان صورت احوال سے شاکی نظر آتے ہیں۔ بچے میں ساخت اور فعلیاتی تبدیلیاں اُسے حساس بنا دیتی ہیں۔ اور وہ نئے حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے اور ایڈجسٹ کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتا ہے۔ اُس کے اپنے ڈر اور خوف اُس کے ہمرا ہ رہتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں والدین کی غیر ضروری دخل اندازی اُسے گڑبڑا دیتی ہے۔

ذہنی اور جسمانی طور پر وہ تیار ہونے کی کوشش کررہا ہوتا ہے اور اگر والدین اس کی مدد نہ کریں تو وہ نہ صرف پریشان ہوگا بلکہ انجانے میں والدین کو اپنا دشمن سمجھ بیٹھے گا اور اس کا اظہار اُسے ایک عجیب قسم کے احساسِ جرم میں مبتلا کردے گا۔ ایسی صورت میں اگر والدین اُس کو سنبھلنے کا وقت دیں اور صرف” دیکھیں اور انتظار کریں“ کی پالیسی اپنائیں تو کہیں بہتر ہوگا۔ والدین دیکھیں گے کہ ان کا بیٹا یا بیٹی اپنے آپ کو نئے حالات کے مطابق ڈھال چکے ہیں۔

ٹین ایجرز عام طور پر اپنے دوستوں اور کلاس فیلوز کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اس لیے وہ کسی صورت میں بھی ان کے خلاف کوئی بات سننا پسند نہیں کرتے اور نہ ہی یہ پسند کرتے ہیں کہ ان کے والدین ان کے دوستوں اور کلاس فیلوز کے سامنے انہیں برا بھلا کہیں۔ والدین کی حیثیت بدل چکی ہے ،اب وہ ایک لڑکے یا لڑکی کے والدین ہیں اور ایک بچے یا بچی کے والدین نہیں ہیں۔ جو کہ ہر کام کرنے سے پہلے والدین سے ہر چیز پوچھنے کے محتاج ہوتے ہیں۔ اس لیے نئی صورتحال کے مطابق لڑکے یا لڑکی کوکسی حد تک خود فیصلے کرنے کی اجازت دینا ضروری ہے۔ یہ فیصلے اُ ن کے مشغلے ، لباس،پسندیدہ ڈرنک، پسندیدہ گلوکار یا کھیل اور کتاب تک محدود ہوتے ہیں۔ یہ آزادی اُن کو جوانی کے لیے تیار کرتی ہے۔ جب اُن کو تمام فیصلے خود کرنا ہوں گے۔

اس لیے والدین کو چاہیے کہ اپنے لڑکے اور لڑکیوں کے دوستوں اور کلاس فیلوز کے سامنے عزت کریں اور تعریفی کلمات سے نوازیں ۔ایک نہایت اہم مسئلہ ٹین ایجرز کا اپنے بارے میں رویہ اور خیال ہے اگر لڑکا یا لڑکی اپنے آپ کو کم تر سمجھتا /سمجھتی ہے تو اس کے تمام معمولات پر اس کا اثر ہوگا ۔وہ اپنے آپ کو نئی صورتحال کا باعث سمجھے گا اور اپنی شخصیت کو ضمنی اہمیت دے گا۔

 اس کی نظر اپنی کمزوریوں اور خامیوں پر رہے گی اور وہ آہستہ آہستہ شدید قسم کے دباو کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ وہ اپنے لباس، اپنی صحت کے بارے میں حتیٰ کہ خود سے لاپرواہ ہوجائے گا اوراپنا زیادہ تر وقت غیر ضروری کاموں میں ضائع کرنے لگے گا۔ ایسی صورت میں اُس کا رجحان مذہب یا سماجی بہبود کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔ والدین اُس کی اس صورتحال میں صرف اُسی وقت مدد کرسکتے ہیں جب وہ اُس کی ذہنی اور دماغی حالت سے واقف ہونگے۔ ورنہ اُسے عجیب نظروں سے دیکھتے ہوئے اُس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں گے جس سے اُس کی شخصیت مجروح ہوگی۔ عقل مند والدین اُس کو اُس کی خوبیوں سے آگاہ کرتے ہوئے اُسے صورتحال کی مثبت شکل سے آگاہ کریں گے اور اُس کے لباس، اندازِتکّلم، اندازِ معاشرت کے بارے میں تعریفی کلمات کہیں گے اور بھولے سے بھی تنقید سے گریزکریں گے کیونکہ عام طور پر حساس لڑکے اور لڑکیاں اپنے والدین کی باتوں کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔وہ اس کا اظہار نہیں کرتے لیکن دل ہی دل میں خوش ہوجاتے ہیں اور یہ خوشی اُن کو اُس تکلیف دہ صورتحال سے باہر لے جاتی ہے جس سے وہ گزر رہے ہوتے ہیں۔

                                                                                                                                                           جاری هے

تحریر: ڈاکٹرعبدالرحمن خواجہ  ( آن لائن اردو  ڈاٹ کام )


متعلقہ تحریریں:

جواني کي فرصت اور غنيمت

مفید تفریحیں، کھیل ، تیر اندازی ،گھوڑ سواری ، تیراکی